Wed, September 16, 2026

پاکستان میں مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد، ساڑھے 9 سال کا کم ترین معیار

پاکستان میں مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد، ساڑھے 9 سال کا کم ترین معیار

لاہور:پاکستان میں مہنگائی کی شرح فروری 2025 میں 1.5 فیصد تک کم ہو گئی، جو کہ گزشتہ ساڑھے 9 سال کی کم ترین سطح ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق، کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے تحت فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح 1.51 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کہ 113 ماہ میں سب سے کم ہے۔

مالی سال 2025 کے ابتدائی 8 ماہ میں اوسط مہنگائی کی شرح 5.85 فیصد تھی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 27.96 فیصد تھی۔ عارف حبیب لمیٹڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مہنگائی کی شرح ستمبر 2015 کے بعد سب سے کم ہے۔

پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، فروری 2025 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد بڑھی، جبکہ جنوری میں یہ 2.4 فیصد اور فروری 2024 میں 23.1 فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہانہ بنیادوں پر فروری میں مہنگائی کی شرح 0.8 فیصد کم ہوئی، جب کہ پچھلے مہینے میں 0.2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ میں شہری علاقوں میں دال مونگ (32.65 فیصد)، بیسن (28.97 فیصد)، دال چنا (25.40 فیصد)، آلو (22.88 فیصد) اور تازہ پھل (21.55 فیصد) سمیت کئی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غیر غذائی اشیاء میں گاڑیوں پر ٹیکس (168.79 فیصد)، جوتوں (31.9 فیصد)، ڈینٹل سروسز (26.55 فیصد) اور ادویات (16.53 فیصد) کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا۔

دیہی علاقوں میں بھی کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں بیسن (33.86 فیصد)، دال مونگ (32.16 فیصد)، دال چنا (30.68 فیصد)، اور خشک دودھ (26.42 فیصد) شامل ہیں۔ غیر غذائی اشیاء میں گاڑیوں پر ٹیکس (126.61 فیصد)، تعلیم (24.49 فیصد)، اور تفریحی سہولتوں (16.25 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حکومت کی معیشتی پالیسیوں کے اثرات سے مہنگائی میں کمی آئی ہے، جسے عوام اور ماہرین معیشت کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

ٹیگز: