Wed, September 16, 2026

تیلیوں کی جنگ اور نسیم شاہ کی پوسٹ

تیلیوں کی جنگ اور نسیم شاہ کی پوسٹ

جنگ انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ایسی دشمن جو اپنے پیچھے درد کے افسانوں کے لاتعداد مجموعے چھوڑ جاتی ہے۔ کبھی بد دماغ جنگجو ہوا کرتے تھے اور اب سرکش ریاستیں ہیں جو بظاہر تو ایک عالمی گاﺅں کا حصہ ہیں لیکن یہ عالمی گاﺅں نہیں عالمی جنگل ہے جس میں صرف طاقتور یا طاقتوروں کے حمایتیوں کو رہنے کی اجازت ہے ۔ یہ اصول ایک گھر سے لے کر عالمی برادری تک سب پر لاگو ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی جنگ کبھی امن کی ضمانت نہیں ہوتی لیکن ہر جنگ ایک دوسری جنگ کا مواد شکست خوردہ قوم اور اس کی آنے والی نسلوں کو فراہم کر جاتی ہے۔ یوں معلوم پڑتا ہے کہ دنیا میں تیلیوں کی حکومت ہے جنہوں نے انسانی خون کو تیل سے ارزاں کر رکھا ہے ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے لے کر آج تک امریکہ ایک دن بھی سکون سے نہیں بیٹھا۔ عراق اور کویت جنگ سے شروع ہونے والا جنگی تسلسل اپنی پوری جولانیوں سے نسل انسانی پر قہرِ خداوندی کی طرح برس رہا ہے۔ امریکہ کے کسی صدر کو بش سینئر سے لے کر ٹرمپ تک ایک لمحے کیلئے سکون نہیں آیا۔ وسائل کی لوٹ مار اور دنیا بھر میں من مرضی کے حکمرانوں کی تعیناتیوں کا خواب لئے امریکہ اپنی ذیلی ریاستوں کے ہمراہ بڑھتا چلا آ رہا ہے ۔ غزہ کی جنگ میں ہزاروں بچوں سمیت ،جوان ، عورتیں ، بزرگ ، صحافی اور امدادی کارکن کوئی بھی اسرائیلی بربریت جس کے پس پشت امریکی آشیرباد تھا ، محفوظ نہیں رہا۔ 
اسرائیل نے ایران کو درست اطلاعات دیں یا غلط لیکن وہ بدمست ہاتھی کی طرح ایران پر چڑھ دوڑا لیکن اس بار نتائج امریکی اور اسرائیلی توقعات سے برعکس برآمد ہوئے۔ جس ایران کو امریکہ گھنٹوں یا چند دنوں میں تاراج کرنے کا سوچ رہا تھا وہ گلے کی ہڈی بن چکا ہے ۔ جس وقت میں یہ تحریر قرطاس کے سپرد کر رہا ہوں امریکی صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی تقریر کی تیاری میں مصروف ہو گا ۔ اس کی متوقع تقریر بارے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ وہ جنگ سے بھاگ جائے گا ، وہ جنگ کو طویل کرے گا ، وہ ہرمز سے گزرنے والا تیل وصول کرنے والوں کو کہے گا چونکہ ایران برباد کرنے میں کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا سو اب تم جانو اور ایران۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ٹرمپ ان میں سے کوئی راستہ بھی اختیار نہیں کرے گا۔ وہ دنیا کو دھمکائے گا ، اپنے ساتھیوں کو آنکھیں دکھائے گا ، دنیا کو ایران سے خوفزدہ کرے گا ۔ نیٹو کی امداد بارے سوچنے کی بات کرے گا، یورپی یونین اور برطانیہ کو آنے والے دنوں کے خوفناک نتائج اور حالات بارے آگاہ کرے گا۔ لیکن اس جنگ سے دستبردار ہرگز نہیں ہو گا کہ ایسا کرنے سے ایشیا میں چین اور روس نئی طاقت یا بلاک کی صورت میں اس کے سامنے کھڑے ہوں گے جن میں آنے والے دنوں میں روزبروز نئی ریاستوں کا اضافہ ہو جائے گا اور ایشیا میں بھارت اور اسرائیل تنہا رہ جائیں گے اور انسانوں کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا براعظم ایشیا اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا جو یقینا امریکہ کیلئے کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہو گا ۔ البتہ یہ جنگ جسے امریکہ نے ابھی اعلانیہ جنگ ہی ڈکلیئر نہیں کیا وقفے وقفے سے کبھی بند اور کبھی جاری رہے گی جس کا واحد مقصد ، ایران پر سفارتی دباﺅ ڈالنا ، مزید پابندیاں لگانا ، ایران کے گرد موجود ممالک کو ایران کے ساتھ کسی قسم کے روابط رکھنے سے دور رکھنا اور ایرانی عوام کو معاشی مشکلات کا۔مزید شکار کرکے اس کے انفراسٹرکچر کو مکمل برباد کرنا ہو گا ۔ طاقتور کو ثالثی کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہاتھ میں بے رحم شرائط کا ایک طوطم لہرا رہا ہوتا ہے جس پر عمل درآمد اس کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے۔ اس کیلئے وہ سب کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کون ہے جو اس کے کمزور مخالف کی بات زیادہ سے زیادہ مان سکتا ہے۔ کسی ایٹمی حملے کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں کہ موجودہ طاقتور ایٹم بم کی تباہی کے دائرہ کا تعین ہوائیں کریں گی اور ہوا کے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔ بظاہر اس جنگ میں پھنسا دکھائی دینے والا امریکہ خواب پرستوں کے خوابوں سے بھی زیادہ طاقتور ، خوفناک اور بے رحم ہے۔ اس جنگ میں اگر کوئی پھنس گیا ہے تو وہ اسرائیل اور بھارت ہیں جو اس طویل ہوتی ہوئی جنگ میں ہر روز اپنے عوام اور ان کی ضرورتوں کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت ،بیروزگاری، ٹیکسوں اور جرمانوں کا بوجھ ہمارے لئے بھی کوئی خوش آئند نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ابھی گزارہ ہو رہا ہے۔ ہم گلاب سنگھ ڈوگرا جیسے ٹیکس لگا کر ناروے جیسا پرامن ماحول تلاش کر رہے ہیں جو کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ 
اعداد کے عالمی شعبدہ باز کبھی کسی کے دوست نہیں ہوتے اور عالمی سرمایہ داری نے یہ ایک بار نہیں بار بار ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک انسان کوئی اعلیٰ مخلوق نہیں صرف نفع یا نقصان ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ اس وقت افواجِ پاکستان اپنی ذمہ داریاں بہترین طریقے سے ہر محاذ پر ادا کر رہی ہیں ورنہ صرف ایران کے خلاف ہی جنگ نہیں ہو رہی ہم بھی فتنہ الہندوستان ،فتنہ الخوارج اور فتنہ اعظم عمران نیازی کی سپاہ کے خلاف اندرونی اور بیرونی محاذوں پر برسرِ پیکار ہیں۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار کا لشکر پھر طلب کر لیا ہے جو یقینا ابھی میسر نہیں ہو گا لیکن "عشقِ عمران " ایک تازہ دم یوتھ فورس یا ریاست مخالف ایک لشکر ترتیب دینے کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ جس صوبے میں غربت اور لاقانونیت کا راج ہے ، جہاں " میرا صوبہ میری مرضی " کا نعرہ مستانہ بلند ہو رہا ہے وہاں سے پیشہ ور سپاہی تو چھوڑیں مالِ غنیمت کی آس پر بھی لشکر تیار ہو جاتے ہیں۔ سو یہ وقت انتہائی مشکل ہے لیکن ہمیں صرف ایران اور بظاہر پھنسے ہوئے امریکہ کی مشکلات دکھائی جا رہی ہیں لیکن حقیقت میں ہم خود ایک "مہا بحران" کی جانب براق کی رفتار سے رواں دواں ہیں۔ ایران جنگ پر اپنی سفارتی خدمات بارے ضرور اپنی خدمات فراہم کریں کہ بطور مسلمان اور بطور انسان یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے لیکن اندرونی دشمنوں سے نظر اٹھانا یا ہٹانا اتنا خوفناک ہو جائے گا کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
عید الفطر کے موقع پر کامران شاہد کے پروگرام میں پاکستان کے نامور ایکٹر سہیل احمد نے پی ٹی آئی کے تجزیہ نگار ارشاد بھٹی کے ایک سوال کے جواب میں کہہ دیا کہ وہ عمران کو کرکٹ کا ہیرو مانتے ہیں لیکن سیاسی ہیرو نہیں مانتے۔ سہیل احمد ذہنی طور پر مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں جیسے ارشاد بھٹی کی وابستگی پی ٹی آئی سے ہے ۔ یہ کہنا کہ صحافی کے کوئی نظریات نہیں ہوتے سوائے پاگل پن کے کچھ نہیں ہے ۔۔نظریات صرف ذہنی مریض کے نہیں ہوتے گو کہ یہ حق پاکستان میں ذہنی مریضوں کے پاس سب سے زیادہ ہے ۔ اب عمران بھٹی صرف ایک تجزیہ کار نہیں بلکہ اس کے پیچھے عمران نیازی کی پوری یوتھیا برگیڈ کھڑی ہے اور خود بھٹی صاحب کے تجزیہ کے اول و آخر میں صرف عمران نیازی ہوتا ہے ۔ انہوں نے سہیل احمد کا ایک کلپ آدھا کاٹ کر چلا دیا جو یقینا آدھا مکمل بات نہیں تھی اور پھر ایک طوفان بدتمیزی اٹھا اور پاکستان سے سب سے بڑے سٹار ایکٹر کو سوشل میڈیا پر آڑے ہاتھوں لیا گیا کہ عمران نیازی کو سہیل احمد نے سیاسی ہیرو کیوں تسلیم نہیں کیا۔بات یہیں ختم۔نہیں ہوئی پاکستان کرکٹ ٹیم کے پٹھان فاسٹ بالر نسیم شاہ کو وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کو قذافی سٹیڈیم میں محسن نقوی کا مدعو کرنا بھی ناگوار گزرا جس پر اس نے انتہائی گھٹیا پوسٹ کرکے ان کی آمد پر واہیات قسم کا اعتراض کیا۔ گو کہ نسیم شاہ کے والدہ کا تعلق مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے ہے وہی فضل الرحمان جس کے خلاف عمران نیازی اپنے جلسوں میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے بھی لگواتا رہا اور ضرورت پڑنے پر اس کی جماعت مولانا کی امامت میں نمازیں بھی پڑھتی رہی۔ جس شخص کو اپنے باپ کی وابستگی کی غیرت نہیں وہ کسی دوسرے انسان کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔ سو اخباری خبر کے مطابق نسیم شاہ کو دو کروڑ روپے جرمانہ کرنے والوں نے کیا میڈیم وزیراعلیٰ کے خلاف پوسٹ کرنے کی قیمت دو کروڑ رکھی ہے؟ لیکن یہ بھی معلوم کر لیں کہ نسیم شاہ نے اس پوسٹ کا لیا کیا ہے ۔دنیا میں تیلیوں کا نظام چل رہا ہے کون کہاں پھسل جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ٹیگز: