ڈیڑھ دو ماہ قبل پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے ایک کے بعد دوسرے سپیل کے برسنے اور بادلوں کے پھٹنے سے اُونچے پہاڑی بارشی ریلوں کی وجہ سے پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی حصوں بالخصوص گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں اور خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور مالا کنڈ اور ضلع مہمند کے کچھ دیہات اور ضلع بونیر کے علاقے پیر بابا کے گائوں بشنوئی میں یکے بعد دیگرے جو سیلاب آئے وہ بلا شبہ انتہائی حد تک المناک تھے اور ان کی وجہ سے شدید جانی اور مالی نقصانات ہوئے یہاں تک کہ بونیر کے علاقے پیر بابا کا گائوں بشنوئی تقریباً پورے کا پورا صفحہِ ہستی سے ہی نابود ہو گیا اس کے بعد بھی سیلابوں کا یہ سلسلہ رُکا نہیں۔ درمیان میں اسلام آباد، راولپنڈی کی کچھ ملحقہ بستیوں میں شدید بارشوں اور اُن کے نتیجے میں نالہ لئی سمیت دیگر نالوں میں طغیانی اور دریائے سواں میں اُونچے درجے کے سیلاب کی وجہ سے کچھ نقصانات ہوئے اور کراچی میں بھی ڈیڑھ دو ہفتے قبل شدید بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور نقصانات بھی ہوئے تاہم پچھلے چند دنوں سے پنجاب کے شمال مشرقی، مشرقی، وسطی، جنوب مشرقی اور جنوبی خطوں میں سیلاب کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس نے کافی تشویشناک صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسا کیوں ہوا اور اب تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟ چار، پانچ دن قبل جب سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اُس کے ذکر سے اس کا آغاز کرتے ہیں۔ہوا یوں کہ ایک طرف بھارت نے چناب، راوی اور ستلج کے دریائوں میں اچانک بھاری مقدار میں پانی چھوڑ دیا تو دوسری طرف سیالکوٹ اور نواحی علاقوں اور اُ س کے اُوپر کے جموں اور مقبوضہ کشمیر کے ملحقہ علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں جبکہ سیالکوٹ اور نواحی علاقوں میں چار سو سے زائد ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ چناب، راوی ور ستلج کی گزر گاہوں کے دیگر علاقوں میں بھی کچھ زیادہ، کچھ کم بارشوں کا سلسلہ جاری رہا پھر سیالکوٹ، نارووال، شکر گڑھ اور گجرانوالہ کے نواح میں بہنے والے بئیں، اَیک اور ڈیک نالے بھی سیلابی اور بارشی پانی سے بپھر گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے راوی میں 38 سال کے بعد بدترین سیلاب کی صورت پید اہوئی جس کے نتیجے میں سیالکوٹ، نارووال اور شکر گڑھ کے ساتھ شاہدرہ اور لاہور کی بہت ساری بستیاں اور آبادیاں راوی کے سیلابی پانی میں جہاں ڈوب گئیں وہاں نارووال میں سکھوں کا متبرک مقام کرتار پورہ اور کرتار پورہ راہداری بھی زیرِ آب آ گئے اور وہاں 8 فٹ تک پانی کھڑا ہو گیا۔ اس دوران جسڑ کے مقام پر بھارت سے دریائے راوی میں داخل ہونے والا پانی دو لاکھ تیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے ستلج میں صورتحال دریائے راوی کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک رہی گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہائو دو لاکھ پینتالیس ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں ہیڈ سلمانکی میں اُونچے درجے کا سیلاب اور قصور، پاک پتن شریف اور عارف والا کی کئی بستیاں اور گائوں زیرِ آب آ گئے۔ مال مویشی بہہ گئے، مکانات دریا بُرد ہوئے اور لاکھوں ایکڑ کھڑی فصلوں کا شدید نقصان پہنچا۔ دریائے چناب میں دریائے ستلج اور دریائے راوی کے مقابلے میں بھارت کی طرف سے چھوڑا جانے والا پانی کا ریلا اور بھی زیادہ تھا۔ وزیر آباد میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہائو سات لاکھ پانچ ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو خطرناک حد تک زیادہ تھا۔ پانی کے اس ریلے سے قادر آباد ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے ضلع گجرانوالہ میں علی پور چٹھہ اورآگے منڈی بہائوالدین کے مقامات پر دو بندوں میں شگاف ڈالنا پڑے اور اس کے ساتھ قادر آباد سے پنڈی بھٹیاں تک دریائے چناب کے کناروں پر آبادیوں اور وہاں کے مکینوں کو اپنی بستیاں خالی کر دینے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج میں سیلاب کی یہ صورتحال چند دن قبل کی تھی۔ اتوار کو جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو PDM پنجاب نے ستلج، راوی، چناب میں سیلابی صورتحال کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق اب تک سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 30 اموات ہوئی ہیں۔ 20388 دیہات اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک اُونچے درجے کے سیلاب کے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میںکمی آ چکی ہے اور اب بہائو 138000 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی بہائو 303000 کیوسک ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت سے دریائے ستلج میں آئندہ چند روز میں مزید 70000 کیوسک پانی آنے کا خطرہ ہے ۔ اس وقت دریائے ستلج میں سیلاب کی وجہ سے جلالپور پیر والا کے 140 دیہات اور وہاڑی کے 133 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ راجن پور اور بہاولپور کے دریا کی گزر گاہ کے نشیبی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ جہا ں تک دریائے چناب میں سیلاب کی صورتحال ہے اس میں تریموں کے مقام پر غیر معمولی سیلاب کا خطرہ رہا ہے جس کی وجہ سے تریموں ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے ملحقہ بند میں کچھ شگاف ڈالنا پڑے۔ اس طرح ملتان کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا میں جہاں شگاف ڈالے گئے وہاں نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی نے خوب تباہی بھی پھیلائی۔ بتایا گیا ہے کہ تین سے چار ستمبر کے دوران پنجند ہیڈ ورکس سے نو لاکھ سے ساڑھے نو لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا جو انتہائی اُونچے درجے کا سیلاب شمار ہو گا۔ اسی طرح گدو بیراج سے پانچ یا چھ ستمبر تک گیارہ لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کے گزرنے کا امکان ہے جو انتہائی سیلابی صورتحال پید ا کر سکتا ہے۔ یہی سیلابی صورتحال آٹھ سے نو ستمبر تک آگے کوٹڑی کے مقام پر دریائے سندھ میں بھی ہو گی وہاں دریائے سندھ میں پانی کے بہائو کا دس لاکھ کیوسک تک اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہاں سے آگے سندھ کے نشیبی علاقوں میں 12 اور 13ستمبر کے دوران اُونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہو گا جس کو سامنے رکھتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اگلے چند دنوں میں سیلاب کا پانی پنجاب سے سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے اور صوبائی حکومت ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ملک میں سیلاب کی
صورتحال کے بارے میں یہ تفصیلات انتہائی اہم ہیں تاہم سیلاب کے حوالے سے کچھ اور پہلو بھی ایسے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مون سون کے یکے بعد دیگر ے سپیل برسنا شروع ہوئے اور اس کے ساتھ شمالی علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں، ندی نالوں میں طغیانیاں آئیں اور گلیشئیرز بھی پگھلے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تربیلا ڈیم بھی اپنی پوری گنجائش کے مطابق جہاں بھر گیا وہاںاس کے سپیل ویز بھی کھولنا پڑے اس کے نتیجے میں دریائے سندھ پر چشمہ، تونسہ، گدو اور کوٹڑی بیراج ہی پانی سے نہ بھر گئے بلکہ ان سے تین لاکھ کیوسک تک پانی کا اخراج بھی ہونا شروع ہو گیا۔ یاد رہے کہ مجوزہ کالا باغ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ساڑھے چار ملین ایکڑ فٹ پانی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب تک ہم دریائے سندھ سے کم از کم اتنا پانی سمندر بُرد کر چکے ہیں جس سے کالا باغ ڈیم یا اس جتنا پانی کا ذخیرہ کرنے والا کوئی اور ڈیم بھر اجا چکا ہوتا۔ چناب، راوی اور ستلج میں بھارت کی طرف سے چھوڑے جانے والے پانی کے جو ریلے آئے ہیں اُس کو سامنے رکھ کر تخمینہ لگایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ چل کر سمندر بُرد ہونے والے اس پانی سے کالا باغ ڈیم کی گنجائش کے کتنے ہی ڈیم بھرے جا سکتے تھے۔ کیا اب بھی ہمیں چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کی طرف توجہ دینا ہو گی یا نہیں؟۔