Wed, September 16, 2026

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 17 افراد جاں بحق

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 17 افراد جاں بحق

گلگت :گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف حادثات میں کم از کم 17 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں خلتی میں سیلاب میں بہہ کر 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ دیامر میں بھی 2 افراد ریلے کی نذر ہو گئے۔ اسی طرح ہنزہ، نگر اور سکردو کے مختلف علاقوں میں کئی افراد لاپتہ ہیں اور امدادی کام جاری ہے۔

بارشوں اور ریلوں نے درجنوں گھروں، اسکولوں، سرکاری عمارتوں، پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاہراہ قراقرم، بابوسر روڈ اور گلگت-سکردو ہائی وے پر کئی جگہوں پر سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ مظفرآباد کی تحصیل نصیر آباد میں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے۔ مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈنگ سے راستے بند ہو گئے ہیں۔

وادی نیلم میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔ رتی گلی میں درجنوں سیاح پھنس گئے تھے، جن میں سے 100 کو نکال لیا گیا ہے جبکہ باقیوں کو ریسکیو کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ دریاؤں کے قریب بسنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، اور ریسکیو ادارے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں، اور ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

ٹیگز: