Wed, September 16, 2026

بھارت کا اسرائیل کی جانب جھکاؤ: مودی حکومت پر 'قومی مفادات سے غداری' کا الزام، ملک گیر احتجاج کا خدشہ

بھارت کا اسرائیل کی جانب جھکاؤ: مودی حکومت پر 'قومی مفادات سے غداری' کا الزام، ملک گیر احتجاج کا خدشہ

نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے بھارت کی داخلی سیاست میں آگ لگا دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور حالیہ دورے نے بھارت کو ایک ایسی سفارتی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف 'اعلانِ جنگ' کر دیا ہے۔
بھارت کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم مودی کے اسرائیل نواز رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "بھارتی اقدار سے غداری" قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ  مودی کے دورے نے عالمی سطح پر یہ تاثر دیا ہے کہ بھارت ایران پر اسرائیلی حملوں کا حامی ہے، جو کہ بھارت کے اپنے تزویراتی (Strategic) مفادات کے خلاف ہے۔
 اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سفارتی غلطی نے پورے خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے جس کا براہِ راست اثر بھارت کی معیشت پر پڑے گا۔
معروف عالمی جریدے ’’بلومبرگ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت کے روایتی دوستوں (عرب ممالک اور ایران) کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق  بھارتی اپوزیشن کا یہ دعویٰ درست ثابت ہو رہا ہے کہ مودی سرکار نے اسرائیل کا ساتھ دے کر بھارت کی 'عدم تعاون' (Non-Alignment) کی تاریخی پالیسی کو دفن کر دیا ہے، جس سے بھارت مشرقِ وسطیٰ میں تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی اس 'اسرائیل نواز' پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف بھارت کی اسٹاک مارکیٹ کریش کر رہی ہے بلکہ خام تیل کی سپلائی لائنز بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس پالیسی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مودی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے۔

ٹیگز: