بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی اب کسی ابہام کا شکار نہیں رہی۔ یہ ایک منظم، مربوط اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی سازش ہے جس کا ہدف پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت اور افغانستان اس دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اور اس کے ٹھوس شواہد متعدد بار منظر عام پر آچکے ہیں۔ 1971میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارت نے کھل کر پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے سازشوںکا جال بنا۔ سقوط ڈھاکہ کے زخم ابھی تازہ تھے کہ بھارت نے اپنی توجہ بلوچستان کی طرف مرکوز کی۔ اسی تناظر میں بلوچستان میں علیحدگی پسند ،شدت پسند تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی۔ چند مفاد پرست سرداروں کو پیسے دیکر استعمال کیا گیا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا سکیں۔بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ غیرت مند قبائل، روایات اور وطن دوستی کی امین رہی ہے، مگر بیرونی ہاتھوں نے اس کو بدامنی کی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتابیں چھین کر انہیں بندوق تھما دی گئی۔ تعلیم، ترقی اور روزگار کے راستے روک کر انہیں دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا۔ علیحدگی پسند کالعدم تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے اور بی ایل ایف، اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جنہیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔آج بھارت ان تنظیموں کو اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، جو افغانستان کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ بارہا سامنے آنے والے حقائق ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ افغانستان میں موجود کالعد م تنظیم ٹی ٹی پی کے کیمپوں میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ مقصدپاکستان میں دہشت گردانہ حملے کرنا، ریاستی اداروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا، اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔پاکستان میں حالیہ مہینوںمیں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں افغانیوں کا ملوث ہونا اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ اب کسی پردے میں نہیں رہا۔ دونوں کا ہدف ایک ہے اور طریقہ کار بھی مشترک ہے۔گذشتہ سال جعفر ایکسپریس پر حملہ اس سلسلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس حملے کے دوران حملہ آور افغانستان میں بیٹھے اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔ جو واضح کرتا ہے کہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی محض مقامی سطح پر نہیں ہوتی بلکہ سرحد پار بیٹھے عناصر براہ راست نگرانی کرتے ہیں۔ اسی طرح 31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں دہشت گرد نیو دہلی میں موجود اپنے بھگوانوں سے ہدایات لے رہے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک بیرونی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔جس کا واضح ثبوت ان دہشت گردوں کے پاس وہی جدید ہتھیار پائے گئے جو امریکی فوجی افغانستان سے انخلاءکے وقت وہاں چھوڑگئے تھے۔ یہ اسلحہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سپلائی لائن کا ثبوت ہے جو افغانستان سے بلوچستان تک پہنچتی ہے۔پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو باور کرایا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد عناصر کو روکے۔ یہ مطالبہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایک جائز تقاضا تھا کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ مگر افغانستان نمک حرامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی گود میں جابیٹھا۔ کابل اور دہلی کے مفادات ایک ہوگئے۔ افغانستان کا پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنا ایک سنگین غلطی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ درگزر کیا مگر اسکے جواب میں دہشتگردی، سرحد پار سے حملے اور اشتعال انگیزی سامنے آئی۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کا مقصد صوبے کو بدامنی میں دھکیلنا ہے تاکہ ترقی کا پہیہ رک جائے۔ سی پیک ، گوادر پورٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبے اسی لیے نشانہ بنتے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہ ہو سکے۔ بھارت کھلے عام سی پیک کی مخالفت کرتا رہا ہے ۔یاد رہے کہ کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی تنظیمیں بلوچ عوام کے نمائندہ نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے کی آلہ کار ہیں۔ چندسو افراد پر مشتمل مسلح گروہ ہیں جو بلوچوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ عام بلوچ شہری تعلیم، روزگار اور امن چاہتے ہیں، مگر یہ تنظیمیں ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے گٹھ جوڑ کانشانہ پاکستان ہے۔بلوچستان کے عوام نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کے باوجود وہاں زندگی جاری ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل ہو رہے ہیں اور نوجوان تعلیم کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ مگر دشمن قوتیں یہ منظر برداشت نہیں کر سکتیں۔پاکستان کےلئے ضروری ہے کہ وہ اس گٹھ جوڑ کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتا رہے۔ بھارت کی مداخلت اور افغانستان کی سرزمین کے استعمال کے شواہد پہلے بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔ بلوچستان میں امن دراصل پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے۔ جو عناصر اس کو سبوتاژ کر رہے ہیں وہ نہ بلوچوں کے خیرخواہ ہیں اور نہ بلوچستان کے۔ بھارت نے معرکہ حق آپریشن ”بنیان مرصوص “میں افواج پاکستان کے ہاتھوں اپنی ذلت آمیزشکست کا بدلہ لینے کےلئے افغانستان سے ہاتھ ملایا،مگر کم ظرف افغانستان بھی احسان فراموش نکلا ،چالیس سال تک لاکھوں افغانیوں کی مہمان نوازی کا صلہ ،اسی پلیٹ میں چھید کرنے کی کوشش تھی۔یاد رہے کہ بیرونی مداخلت، دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور سرحد پار سازشیں وقتی ہوسکتی ہیں، مگر قومی وحدت اور افواج پاکستان کے جذبوں کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتیں۔بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا، ہے اورہمیشہ رہے گا۔ دہشت گردی، سازشیں اور بیرونی مداخلت اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ بھارت اور افغانستان کی سرپرستی میں چلنے والی یہ مہم جتنی بھی منظم کیوں نہ ہو، آخرکار بے نقاب ہو چکی ہے۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ جتنا بھی گہرا ہو، پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے عزم سے زیادہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔افغانستان کوآپریشن ”غضب للحق “میں افواج پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک تباہی کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی ہو گی یقینا۔۔۔