Wed, September 16, 2026

غیر قانونی افغان شہری دہشت گردی میں ملوث

غیر قانونی افغان شہری دہشت گردی میں ملوث

پاکستان نے 40 برس تک لاکھوں افغانیوں کی وہ میزبانی کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن بدلے میں پاکستان کو بدترین دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا اور ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیکر اس مہمان نوازی کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دوسری طرف بھارت نے افغانستان پر حملہ آور ہونے والی طاقتوں کی بھرپور حمایت اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے والے طالبا ن کو دہشت گرد قرار دیا۔ یاد رہے کہ ملا عمر نے افغانستان کے علاقہ بامیان میں بدھا کے مجسمے توڑے تھے، آج وزیر خارجہ افغانستان امیر متقی بت شکنوں کی اولاد، بت پرست بھارت کی گود میں جا بیٹھے۔ ’’افغان باقی کہسار باقی‘‘ کا نظریہ انہوں نے دفن کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ احسان فراموش سب سے پہلے اپنے محسن کو نشانہ بناتا ہے، اور تاریخ ایسے حقائق سے بھری پڑی ہے۔ افسوس کہ افغان طالبان حکومت نے اس مقولے کو سچ کر دکھایا ہے۔ افغان طالبان، فتنہ الخوارج نے بھارت کی شہ پر گذشتہ ماہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان کے ملحقہ 6 سرحدی مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کا مقصد خوارج کی تشکیلوں کو بارڈر پار کرانا تھا، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے، نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی راہ ہموار کرنے کی جو کوششیں کی گئیں، ان کا ہدف فتنہ الخوارج کے شیطانی عزائم کو تقویت پہچانا تھا، تاہم پاک فوج نے جوابی کارروائی میں شہری جانوں کے تحفظ اور غیر ضروری نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے، چنانچہ خود دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے ہماری ہوشیار مسلح افواج نے سرحد پار سے اس حملے کو فیصلہ کن طور پر پسپا کر دیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا، پاکستان نے جواب میں صوبہ قندھار اور کابل میں خالصتاً افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈ کوارٹر سمیت دہشت گردی کے تربیتی مراکز ملیا میٹ کر دئیے، 200 طالبان و فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے، اور باقی خوارج اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کے بھاگ نکلے۔ 21 اہم افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا اور بعض پوسٹوں پر سبز ہلالی پرچم بھی لہرایا گیا۔ جنوبی بلوچستان میں برامچا سیکٹر سے سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کی اہم پوسٹ شہیدان سمیت دیگر کو مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جبکہ نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان، فتنہ الخوارج کی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کی حدود میں 3 کلو میٹر اندر واقع غزنالی پوسٹ پر قبضہ کر کے پاکستانی پرچم لہرا دیا، افغان طالبان جوابی حملے میں غزنالی پوسٹ پر اسلحہ اور اپنی وردیاں تک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ واضح رہے کہ افغانستان کی اس جارحیت کے پیچھے براہ راست بھارت ملوث تھا۔ معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان سے اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کے لیے بھارت نے افغان طالبان حکومت سے ہاتھ ملایا۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکی نیٹو افواج کی جانب سے شروع کی گئی افغان جنگ میں بھارت نے کابل کی کٹھ پتلی کرزئی حکومت کی معاونت حاصل کر کے افغان سرزمین کو اپنے دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرنے کے لیے استعمال کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس میں افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت بھی اس کی شریک کار بن چکی ہے۔ اس وقت کابل میں ٹی ٹی پی اور جلال آباد میں کالعدم تنظیموں کے تربیتی کیمپ موجود ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسی ’رائ‘ اور طالبان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں بلوچستان میں علیحدگی پسند، کالعدم تنظیموں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی این اے، بی آر پی کے سیکڑوں دہشت گرد وں کو ٹریننگ دی جا رہی ہے جو اپنے ہندو بھگوانوں کے اشاروں پر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں خصوصاً (سی پیک، ریکوڈک، سیندک) اور غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔ امریکہ نے انخلا کے وقت جو ہتھیار وہاں چھوڑے تھے، آج وہی ہتھیار بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے پاس موجود ہیں۔ جس کا ثبوت جعفر 
ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں امریکی اسلحے کا استعمال ہے، افغانستان میں جدید اسلحے کے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ غیر قانونی افغان رہائشی پاکستان میں دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ آج جب پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی طویل میزبانی کے بعد ان کی باعزت واپسی کے لیے منظم اقدامات کیے ہیں کیونکہ افغان مہاجرین کے پناہ لینے کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھیں جواب موجود نہیں ہے۔ تو یہ لوگ احسان فراموشی کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’کئی ماہ سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے ٹی ٹی پی اور افغانستان شریک ہیں اور کابل کے آشیر باد کے بغیر ٹی ٹی پی پاکستان میں اس پیمانے کی کارروائیاں نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جو حملے ہوئے تھے ان میں بھی افغان شہری نکلے جن کی شناخت ہو گئی ہے اور یہی شہادت ساری دنیا کے سامنے ہے۔‘‘ حالیہ اسلام آباد کچہری خودکش حملہ اور جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج پر حملے کرنے والوں کا افغانستان سے تعلق ہے۔ پاکستانی حکام نے بارہا افغان طالبان حکومت کو معاملات سے آگاہ کیا لیکن وہ کوئی بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان حقائق پر نادم ہونے اور معافی مانگنے کے بجائے افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد نے حال ہی میں یہ من گھڑت دعویٰ کیا کہ استنبول مذکرات اس لیے ناکام ہوئے ہیں کہ پاکستان ’’غیر منصفانہ‘‘ الزامات لگا رہا تھا۔ تاہم یہ بیان حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ یہ محض الزامات نہیں بلکہ ٹھوس شواہد ہیں، جو اقوام متحدہ ،بین الاقوامی سکیورٹی اداروں اور مؤثر تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ہیں، جہاں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے اور پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے خلاف افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ کبھی کامیاب ہوا اور نہ ہی آئندہ ہو سکے گا۔

ٹیگز: