Wed, September 16, 2026

مریم نواز… باہمت باپ کی باہمت بیٹی

مریم نواز… باہمت باپ کی باہمت بیٹی

پانچ سال پہلے جب میاں نواز شریف کے بیٹوں نے سیاست میں دلچسپی نہ دکھائی تو ان کی با ہمت بیٹی باپ کی سیاسی محنت سنبھالنے کو آگے بڑھی۔مریم نواز نے جس طرح سیاسی سفر شروع کیا وہ ایک داستان عزم ہے۔ان کی ہمت کی داد دینا پڑے گی۔پھر انہوں نے وزیر اعلیٰ بننے کا فیصلہ کیا ،آج وہ وزیر اعلیٰ ہیں اور خواتین کے لئے مثال بن چکی ہیںکہ وہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس مثال سے ہمت لے سکتی ہیں۔
مریم نواز نے 25 فروری 2024ء کو بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حلف اٹھایا تھا تو کچھ لوگوں نے کہاکہ مریم نواز کو حکمرانی کا بالکل کوئی تجربہ نہیں، وزارت اعلیٰ کی بھاری ذمہ داری کیسے پوری کر پائیں گی؟ ایک اور دلیل یہ سامنے لائی جاتی تھی کہ ان سے پہلے محسن رضا نقوی کچھ عرصہ نگران وزیر اعلیٰ رہے اور ان سے بھی پہلے شہباز شریف کئی برس وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔ مذکورہ دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے ادوار میں ترقیاتی کام تیزی سے مکمل کرائے اور کئی نئے منصوبے شروع کیے جن سے عوام الناس کو سہولت اور آسانی میسر آئی۔۔ لیکن مریم نواز نے اپنے دور حکومت کے مختصر ترین عرصے میں اتنے کام کرائے ہیںکہ ان کی سپیڈ شہباز و محسن نقوی کی سپیڈ کو کھا گئی ہے۔ان کی سپیڈ دیکھتے ہوئے میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ مریم نواز آئندہ ملک کی وزیر اعظم ہوں گی۔ 
آج مئی 2025ء کے وسط میں ان کی حکومت قائم ہوئے سوا سال ہو چکا ہے اور اس مختصر ترین عرصے میں انہوں نے ترقیاتی اور مفاد عامہ کے 80 سے زیادہ منصوبے شروع کئے جوعوامی بہبود اور سماجی ترقی کے اہداف پر مبنی ہیں، جیسے رمضان نگہبان پیکیج (اس پروگرام کے تحت 2024ء میں 64 لاکھ مستحق گھرانوں جبکہ 2025ء میں اس سے بھی زیادہ خاندانوں کو رمضان المبارک میں مالی اور راشن کی صورت میں امداد فراہم کی گئی)، بجلی کے بلوں میں ریلیف، کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام، ای بائیکس، روشن گھرانہ پروگرام، ایئر ایمبولینس اور کلینک آن وہیلز۔ اس کے علاوہ موبائل فیلڈ ہسپتال، طلبا کے لیے ہونہار سکالرشپ پروگرام، لیپ ٹاپس سکیم، نیوٹریشن پروگرام، کسانوں کے لیے سپر سیڈرز، ایگریکلچر انٹرن شپ پروگرام اور لائیو سٹاک کارڈ کا اجرا، خواتین کے لیے مفت مویشی تقسیم پروگرام، ویمن ہاسٹل، ڈے کیئر سینٹرز، ورچوئل پولیس سٹیشن، فری وائی فائی اور پنک بٹن بھی مریم نواز کے ذہن رسا کی کاوشیں ہیں۔سب سے نمایاں کارنامہ تجاوزات کا خاتمہ ہے۔ان سے پہلے جب کبھی تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوتا ایم پی اے وزیر اعلیٰ کے دائیں بائیں بیٹھ جاتے ،کارروائی ملتوی کرا دی جاتی۔ سفارشیں مریم نواز تک بھی آئیں لیکن انہوں نے کسی قبضہ مافیا کی نہ مانی۔آج پنجاب کی سڑکیں و بازار کشادہ نظر آ رہے ہیں۔وہ اقبال کی شاہین ہیں :
نہیں تیر انشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہیں بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
 یہی نہیں مریم نواز نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے میں ماحول کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے 10 سالہ سموگ پالیسی مرتب کی، لاہور میں پہلا سموگ ٹاور نصب کرایا، اور پنجاب میں اب حال ہی میں 600 الیکٹرک بسیں چلائی گئی ہیں۔ مریم نواز نے جاری مالی سال میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 842 ارب روپے مختص کیے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے مالی سال میں اس سے زیادہ ہوں گے۔ روشن گھرانہ پروگرام کے تحت 12.6 بلین روپے کے بجٹ کے ساتھ ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے 50000 محفوظ صارفین کو فیز ون میں بیلٹنگ کے ذریعے سولر سسٹم دیا جائے گا جبکہ پنجاب کے دیگر صارفین کو بتدریج گھریلو سولر سسٹم فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
مریم نواز کے دور حکومت کا ایک پلس پوائنٹ یہ ہے کہ گندم سستی ہوئی اور گندم سستی ہونے کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی۔ جب مریم نواز وزیر اعلیٰ بنیں تو سادہ روٹی 20 روپے کی اور نان 30 روپے کا تھا۔ انہوں نے روٹی پہلے 16 روپے اور نان 25 روپے کا کر دیا۔ اب نان تو اتنے کا ہی یعنی 25 روپے کا ہے لیکن سادہ روٹی 15 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ یہ غریب آدمی کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ غریب آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ پیٹ بھرنا ہوتا ہے۔
کراچی میں تاجروں نے ایک اجلاس میں مراد علی شاہ کی جگہ مریم نواز کو سندھ کی وزیر اعلیٰ ہونے کی خواہش کی تھی جس پر بلاول بھٹو کچھ خفا بھی ہوئے لیکن یہ مریم نواز کی خدمات اور صلاحیتوں پر لوگوں کا اعتماد ہے۔لوگوں کا ان پر اعتماد ہر ورز پہلے سے زیادہ ہو رہا ہے۔ مریم نواز نے فیلڈ ہسپتال پروگرام کے تحت پنجاب کے 36 اضلاع کے دور دراز علاقوں میں عوام کی دہلیز پر صحت کی جدید سہولیات فراہم کرنے کے پروگرام کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے۔ کلینک آن وہیلز منصوبے کے تحت درجنوں چلتے پھرتے کلینک پنجاب کے متعدد شہروں میں موجود کچی آبادیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دستک ایپ پروگرام کے تحت خواتین، بزرگ شہریوں، بیماروں اور سپیشل افراد کے لیے 70 سے زیادہ عوامی و کاروباری سہولیات ان کی دہلیز پر دی جا رہی ہیں، جیسے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، برتھ سرٹیفکیٹ، ایف آئی آر کی کاپی، لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ای سٹیمپنگ۔ ایئر ایمبولینس ایک جدید دنیا کا منصوبہ ہے اور اس وقت صرف ترقی یافتہ ممالک میں ایئر ایمبولینسز کام کر رہی ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یہ جدید سہولت اپنے صوبے کے عوام کے لیے لیے حاصل کی ہے۔ دو ایئر ایمبولینسز مختص کی گئی ہیں جو پنجاب کے مختلف علاقوں میں سروسز فراہم کر رہی ہیں۔ اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت پنجاب حکومت کم آمدن والے افراد کو گھر بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ آسان اقساط پر دے رہی ہے۔ اس پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ہمت کارڈ، گرین ٹریکٹر سکیم، ایکوا شرمپ فارمنگ انٹرن شپ پروگرام، ہونہار سکالر شپ پروگرام بھی مریم نواز حکومت کی کاوشیں ہیں۔ دھی رانی پروگرام کے تحت ایک سال میں 3000 اجتماعی شادیاں کرانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ پنجاب کی سیکڑوں بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو چکیں۔یہ میں نے مریم نواز حکومت کی سوا سال کی حکمرانی کی محض ایک جھلک پیش کی ہے۔ گڈ گورننس اور کیا ہوتی ہے؟ یہی تو ہے گڈ گورننس کی اعلیٰ ترین مثال۔مریم نواز کے راستے میں کئی مشکلات ہیں لیکن لیڈر ہر حال میں قوم کی بہتری کے لئے پر عزم رہتا ہے،وہ کسی فرد کی ناراضی نہیں دیکھتا ،اسے جو بہتر لگتا ہے وہ کر گزرتا ہے،قوم کو اچھے لیڈر کی ضرورت ہے، مریم نواز آگے بڑھتی چلی جائیں۔

ٹیگز: