Wed, September 16, 2026

"بچے میری ریڈ لائن ہیں"، وزیراعلیٰ مریم نواز کا چائلڈ لیبر کے خلاف دوٹوک مؤقف

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بچوں سے جبری مشقت کے خلاف عالمی دن پر واضح پیغام دیا ہے کہ چائلڈ لیبر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے معاشرے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے بچپن کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اپنے خصوصی پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی بچوں سے مشقت لینا ایک شرمناک حقیقت ہے، جو ہر باشعور فرد کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ہاتھ میں کتاب، قلم اور لیپ ٹاپ ہونا چاہیے، نہ کہ اینٹیں یا اوزار۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کم عمری میں محنت مزدوری کرنے والے بچے نہ صرف تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے، اور یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہونی چاہیے۔

انہوں نے چائلڈ لیبر کو صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب وہ پہلا صوبہ ہے جہاں چائلڈ پروٹیکشن پالیسی لاگو کی گئی ہے، اور بچوں کے تحفظ کے لیے ورچوئل چائلڈ سیفٹی اسٹیشن بھی قائم کیا جا چکا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جبری مشقت سے متاثرہ بچوں کو تعلیم کی طرف لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ایسا پنجاب دیکھنا چاہتی ہیں جہاں ہر بچہ پڑھنے کے قابل ہو، نہ کہ کام کرنے پر مجبور۔

ٹیگز: