Wed, September 16, 2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا نیا باب

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا نیا باب

تہران : ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پورے خطے میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی فورسز نے اُس وقت شہید کیا جب وہ اپنے دفتر میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس حملے میں ان کے ساتھ ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہو گئے، اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں 40 سے زیادہ ایرانی حکام کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ایران کی حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر 7 دن کی تعطیلات اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی اس حملے کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کریں گے۔ ایران کے صدر نے اس واقعے کو "عظیم جرم" قرار دیا ہے اور کہا کہ اس کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔

ایران نے حملے کے بعد اسرائیل اور امریکا کے متعدد فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ عراقی مزاحمت نے عراقی کردستان میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جبکہ ایران کی فورسز نے اسرائیل کے اہم فوجی اہداف پر میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل کے مختلف شہروں میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں بڑی تباہی دیکھنے کو ملی ہے۔

ایرانی فورسز نے اسرائیل کے تل نوف ایئر بیس اور تل ابیب کے دفاعی کمپلیکس پر بھی حملے کیے ہیں۔ ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل اور امریکا نے اپنی فورسز کو متحرک کر دیا ہے اور دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی ہے اور ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کی موت ایرانی عوام اور دنیا کے لیے انصاف کی علامت ہے۔ تاہم، ایران نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا بدلہ لینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

ایران کے مختلف شہروں میں خامنہ ای کی شہادت پر عوامی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایران کے شہر مناب میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 86 بچیوں سمیت 201 ایرانی شہری شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی اور دیگر اہم حکام بھی حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بغداد میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، اور اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں 30 سے زائد اہداف پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی طرف سے اسرائیل اور امریکا کے خلاف مزید حملوں کا امکان ہے، جس سے خطے میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔

ٹیگز: