Wed, September 16, 2026

سانحہ سوات

سانحہ سوات

ایام دکھ و درد کے پہلے ہی دن دریائے سوات میں اموات کا واقعہ سوز و مرثیہ کی فضا کو مزید افسردہ کر گیا۔ موت تو برحق ہے مگر قتل بہرحال سوال اٹھاتے ہیں ۔ مرنے والوں نے موت سے پہلے نوے منٹ تک کسی غیبی مدد، سرکاری تعاون یا ریاستی امداد کا بڑے وثوق سے انتظار کیا۔ بڑوں کو خدا کی غیبی مدد پر یقین تھا اور بچے بھلا اپنے ماں اور باپ کے بازوؤں میں رہ کر کب کسی بلا سے ڈرتے ہیں؟ نوے منٹ شائد ان پر ایک صدی بن کر بیتے ہوں گے مگر آخر کار پانی کی بے رحم لہروں نے سرکاری رویوں سے بے حسی سیکھ لی اور جان سے پیارے ایک ایک کر کے موت کے منہ میں ایسے جاتے رہے کہ دیکھنے والے ان کی آخری ہچکی تک کی ویڈیو بناتے رہے۔ صدائے عدل میں ہم لکھ چکے کہ دس دن قبل سوات میں گیارہ اموات اور ناران میں سوہنی گلیشئر تلے دب کر جاں بحق ہونے والوں سمیت گزشتہ تین ماہ کے دوران بیانوے افراد زندگی کی بازی ہار چکے۔ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ شائد سات کلومیٹر دور مینگورہ شہر میں کسی اعلیٰ سطح اجلاس میں مصروف ہو گی جو نوے منٹ میں ریسکیو نہ کر سکی ورنہ جائے مقتل شہر سے دور نہ تھی۔ وطن عزیز قدرتی عنایات اور موسموں سے مالا مال ہو کر بھی منافع خوروں اور سیاحت کے جسم فروشوں کے ہتھے کچھ اس طرح چڑھا دیا گیا ہے کہ ان کا بس چلے تو آسمان سے اترنے والے برف کے گالوں کو بھی نیلام کر دیں، دریاؤں کے بیچ ہوٹل کھڑے کر لیں اور جھیلوں کے کناروں پر جسم فروشی کے اڈے کھول کر سرکاری سطح پر ان کی دلالی شروع کر دیں۔ دریاؤں میں پانی کی طغیانی بھی موسمی عمل ہے اور برف کا پگھلنا بھی ضروری۔ گلیشئر بھی معمول کے مطابق پھٹتے ہیں اور ندی نالوں میں سیلاب بھی آتا ہے۔ کون سی انتظامی نا اہلی کس لالچ کی بنیاد پر اجازت دیتی ہے کہ دریاؤں کے بیچ جھولے نصب کیے جائیں اور پانی کے راستوں پر قبضہ جما کر فطرت کو نیلام کیا جائے۔ کس نے تعمیرات کا اجازت نامہ جاری کیا ہے کہ ایک حادثے کے نتیجے میں بننے والی عطا آباد جھیل پر فور سٹار ہوٹل تعمیر کیے جائیں۔۔؟ کون این او سی دیتا ہے کہ جھیل سیف الملوک روڈ پر پانی کی طغیانی کو چیلنج دیتے ہوئے عمارتوں کا شہر بسا دیا جائے؟ کون جسم فروشی کا دلال بیٹی ایسی پاکیزہ جھیلوں کے کناروں پر بٹ کڑاہیاں بنواتا ہے اور کون بار بی کیو کی منڈیاں سجا کر فطرت کا گریبان پکڑنے کا جرم کرتا ہے؟ کون ہے جو کالام میں بھتہ لے کر جنگل برباد کرنے کی اجازت دیتا ہے اور دریا کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہے۔ کون قدرتی طور پر اُگے ہوئے جنگل کو کاٹ کر وادیوں کا منہ نوچتا ہے؟ کون ہے جو ہنستے بستے چہروں کو میتیں بنا کر ان کے خالی گھروں کو روانہ کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہے۔۔؟ وہی ان بے گناہوں کا قاتل ہے اور اگر اس پر ایف آئی آر درج نہ بھی ہوئی تو فطرت اپنا چالان خود پیش کرے گی اور وطن کی خوبصورت وادیوں کے دلال منہ چھپاتے پھریں گے۔ وادیوں کو نیلام کر کے برباد کرنے والے فطرت فروشوں نے 13700 فٹ بلند درہ بابو سر کو جھولوں، زپ لائنوں، سائیکل کرتبوں سے بھرتے ہوئے سرکس بنا دیا ہے۔ ایک تار بھی اگر ٹوٹ جائے تو بچے کی لاش ملنا ممکن نہیں۔ آلودگی اس قدر ہے کہ ایک منٹ رکنا مشکل ہے۔ سیاح اپنے بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں اور اس تماش گاہ کو نظرانداز کریں۔ اس سے ایک تو آپ محفوظ رہیں گے اور دوسرا سرکس لگانے والے فطرت فروشوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اگر سیاحوں نے جھولے ہی جھولنے ہیں تو شہر کے ہر پارک میں ہر طرح کے جھولے بچوں کو بہلانے کے لیے موجود ہیں۔ ناران سے بٹہ کنڈی کی طرف نکل کر بابوسر تک جتنے بھی گلیشیر ہیں، یہ ایک دھوکا ہیں کہ اندر سے پگھل کر خالی ہو چکے ہیں اور اوپر سے پختہ نظر آتے ہیں۔ ان پر چڑھ کر تصاویر مت بنائیں۔ برف کے ساتھ دور سے کھیلیں کیونکہ یہ تماشا موت کی طرف بھی کھینچ لیتا ہے۔ زپ لائن سے لٹک کر خود کو خطرے میں مت ڈالیں۔ ایک حادثہ ایک خاندان کی موت ہے۔ دریا کی تیز لہروں میں رافٹنگ مت کریں، کشتی الٹنے سے جو واقعہ رونما ہو گا اس کو ریسکیو کرنے کے لیے انتظامات نہیں ہیں اور اگر کشتی رانی کا شوق ہے تو اسے مصنوعی جھیلوں میں پورا کر لیں تاکہ سیاحت کے لیے آئے خاندان ان خوبصورت وادیوں سے لاشیں لے کر گھر نہ جائیں۔ کیری ڈبوں میں پندرہ افراد کو بھر کر کرتب نہ دکھائیں کہ پہاڑی راستے پہلی دوسری بار سمجھ نہیں آتے اور اگر یہ سب احتیاطیں آپ نہیں کر سکتے تو پھر وادیوں کو حادثات کے سبب بدنام نہ کریں اور اپنے گاؤں کا میلہ دیکھیں۔ وہاں پر جھولے، زپ لائن، موت کا کنواں اور سرکس موجود ہے کیونکہ آپ سیاح نہیں تماش بین ہیں۔ کوئی حکومتی ذمہ دار ہے جو بابوسر ٹاپ کی آلودگی کو ختم کرنے کا منصوبہ لائے اور اس بلندی کو پھر سے درہ بنا دے جہاں پر رک کر نانگاپربت اور راکا پوشی کو پھر سے دیکھا جا سکے۔ کوئی فطرت سے محبت کرنے والا ادارہ ہے جو اس ٹاپ کو بھی درہ خنجراب، درہ برزل، نوری ٹاپ، درہ بروغل اور درہ درکوٹ کی طرح صاف ستھرا کر دے۔ خیبرپختونخوا حکومت جھیلیں نیلام کرنے کی بجائے بھنگ بیچ کر بھی اپنے متبادل ذرائع آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ صوبائی حکومت جھیل سیف الملوک کو دلالوں سے چھین کر ہوٹلوں، ڈھابوں، گند خانوں اور بٹ کڑاہیوں سے پاک کر دے اور کیوائی جیسی آبشار کو مچھلی فروشوں کے قبضے سے نجات دلا دے کہ وادیاں، جھیلیں، آبشاریں اور بلندیاں پاک ہوتی ہیں انہیں آلودہ نہیں کیا جاتا۔ سیاح دوست اپنی گاڑی کی فٹنس کا خیال رکھیں۔ گلیشئر سے دور رہیں اور بچوں کو وادیوں اور مناظر سے بہلائیں۔ موت کے کھیل سے دور رکھیں۔

ٹیگز: