Wed, September 16, 2026

بلوچستان کوئلہ کان سانحہ، شانگلہ کے 28 نوجوان سپردِ خاک

بلوچستان کوئلہ کان سانحہ، شانگلہ کے 28 نوجوان سپردِ خاک

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان کے اندر میتھین گیس کے دھماکے سے پیش آنے والے المناک حادثے نے ضلع شانگلہ کو غم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا، جہاں جاں بحق ہونے والے 28 کان کنوں میں سے 23 کا تعلق ایک ہی گاؤں میان کلے سے تھا۔

شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے مزدوروں میں 23 افراد میان کلے (پیر آباد)، دو کانہ، جبکہ ایک، ایک مزدور بڑا اور گاتا بیلی بابا کے رہائشی تھے۔ ایک ہی گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد علاقے کے بیشتر گھروں میں سوگ کا سماں ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام مزدوروں کی عمریں 17 سے 25 برس کے درمیان تھیں۔ ان میں سے اکثر آپس میں عزیز و اقارب تھے، جبکہ کئی نوجوان ایسے بھی تھے جن کے والد ماضی میں کوئلہ کانوں کے مختلف حادثات میں جان سے جا چکے تھے اور وہ پہلے ہی یتیمی کی زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کان میں حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل کیا جاتا تو شاید اتنا بڑا جانی نقصان نہ ہوتا۔ ان کے مطابق کان میں مناسب ہوا کی نکاسی کا نظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث میتھین گیس جمع ہوئی اور جان لیوا دھماکہ رونما ہوا۔

اس افسوسناک سانحے میں تین سگے بھائی بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی کہ سرکاری اداروں کی جانب سے لاشوں کی منتقلی کے لیے بھی مناسب انتظامات نہیں کیے گئے، جس پر انہیں اپنے پیاروں کی میتیں ذاتی اخراجات پر آبائی علاقوں تک پہنچانا پڑیں۔

ضلعی حکام کے مطابق ایک میت جمعہ کے روز شانگلہ پہنچا دی گئی تھی، جبکہ دیگر لاشیں مرحلہ وار رات گئے اور ہفتے کی صبح تک مختلف علاقوں میں منتقل کی جا رہی تھیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سورینج کول فیلڈ میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا، جس سے دو مختلف کانیں متاثر ہوئیں۔ حادثے کے وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 34 مزدور ڈیوٹی پر موجود تھے۔

چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان محمد عاطف کے مطابق اب تک 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ باقی دو کان کنوں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت سے ملحقہ کان بھی متاثر ہوئی جہاں متعدد مزدور کام کر رہے تھے۔

عابد یار نے کہا کہ شانگلہ میں صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کوئلہ کانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔ ان کے مطابق یہ سانحہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ اس نے درجنوں خاندانوں کا مستقبل بھی تاریک کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ حالیہ حادثے نے ایک بار پھر کان کنوں کے تحفظ، حفاظتی معیارات پر عمل درآمد اور سرکاری نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ٹیگز: