فلسطین جس صورت حال سے دو چار ہے وہ اس جدید دنیا کے ہر انسان کے سامنے سوال اٹھاتی ہے۔ گلوبل ولیج اور انسان کا اجتماعی تصور دھندلانے لگتا ہے۔ فلسطین کی صورت حال سے نمٹنے کا واحد حل یہی نہیں کہ محاذ جنگ پر پہنچ کر فلسطینیوں کی حمایت کی جائے بلکہ بین الاقوامی سطح پر جو بھی ٹھوس اقدامات کیے جا سکتے ہیں کیے جانے چاہئیں۔ پوری دنیا میں موجودہ جنگوں کے بعد ہمارے لیے بعض باتیں تو بڑی واضح ہو چکی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ روایتی جنگوں کا دور نہیں رہا۔ لہٰذا اب روایتی گروپ اور تنظیموں پر انحصار کرنا بیل گاڑی پر لاہور سے اسلام آباد جانے جیسا ہو گا۔ دوسرا یہ کہ آبادی میں اضافہ کسی قوم کی ترقی اور افرادی قوت میں برتری کا ثبوت نہیں رہا بلکہ جدید علوم میں ترقی سے بہت چھوٹی اقوام بھی دنیا پر غالب آ جاتی ہیں لہٰذا اپنی آبادی بڑھا بڑھا کر سڑکوں پر رش کرنا اور فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر آنا ضروری نہیں رہا۔ اب ایک نظر غزہ پر کیجئے۔
غزہ میں جنگ، قحط اور انسانی بحران اس وقت شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں بھوک اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے لاکھوں فلسطینیوں کو زندگی اور موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک کم از کم 60 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 14 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صرف مارچ 2025 کے بعد سے کم و بیش 9 ہزار افراد شہید ہوئے۔ خوراک حاصل کرنے کی کوشش کے دوران 1060 افراد شہید اور لگ بھگ 6 ہزار زخمی ہوئے۔ شہدا میں 18500 سے زائد بچے شامل ہیں اور مجموعی طور پر خواتین اور بچے تمام اموات کا 50% سے زائد حصہ ہیں۔ غذائی قلت کے باعث ڈیڑھ سو سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں 89 بچے تھے۔ مارچ 2025 سے اب تک 737,000 سے زائد افراد کو دوبارہ بے گھر ہونا پڑا۔ مرکزی غزہ سے 684,000 افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اس وقت غزہ کا 87% علاقہ یا تو خالی کرا لیا گیا ہے یا فوجی زون قرار دیا گیا ہے۔ صرف 40% پانی صاف کرنے والے پلانٹس فعال ہیں۔ 70% سے زائد صحت کے مراکز مکمل طور پر بند یا تباہ ہو چکے ہیں۔ دوا، صاف پانی اور سینی ٹیشن کی شدید کمی ہے۔ غربت کی شرح 26% سے بڑھ کر تقریباً 60% ہو گئی ہے، یعنی 3.32 ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح 47% جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 60% تک پہنچ چکی ہے۔ دیگر تفصیلات اس سے بھی زیادہ بھیانک اور افسوس ناک ہیں۔
یہ خبریں پوری دنیا کے انسانوں کے انسانیت پر یقین کو متزلزل کرنے اور ایک فاشسٹ کلچر پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ دنیا اس صورت حال کو نظر انداز کر کے یہ وقت نہیں گزار سکتی۔ اس عالمی بے حسی کا اثر پوری دنیا کے لوگوں پر یقینا پڑے گا اور اس کے نتائج آئندہ کے مسائل اور سانحات میں سامنے آئیں گے۔ دنیا کے گلوبل فیشن اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح یہ عقیدہ بھی گھر گھر پھیلتا جا رہا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر سب کچھ جائز ہے۔ کمزور یا مظلوم کے لیے آواز اٹھانا اور حق بات کہنا حماقت ہے۔ ترقی کا تیز ترین رستہ خاموشی، چاپلوسی، بے حسی اور منافقت ہے۔ اس کے بعد آپ کو تیزی سے دنیا میں ایسے لوگ پھیلتے ہوئے نظر آئیں گے جن کا نہ تو کوئی مؤقف ہو گا اور نہ ہی کوئی ضمیر۔ صرف مفاد کے گرد گھومتے اور مالی فوائد کو سونگھتے لوگوں میں ان گنت اضافہ ہو گا۔ غزہ کو نظر انداز کرنے والے ممالک کی بستیوں میں وہ نفسیاتی وبا پھیلے گی جو ان کی خاموشی سے غزہ میں جنم لے چکی ہے۔ میرے خیال سے اب بھی اقوام متحدہ کو
غزہ کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر کوشش ضرور کرنی چاہیے۔
اگر اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کا کوئی لحاظ اب بھی ہے تو اقوام متحدہ، خصوصاً سلامتی کونسل، کو غیر مشروط فوری جنگ بندی کے لیے قرارداد منظور کرانی چاہیے۔ او آئی سی کا اگر کوئی سنجیدہ وجود تھا اور ہے تو او آئی سی کو مضبوط اور متحد مؤقف اختیار کرتے ہوئے بڑے ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے، بالخصوص امریکہ، فرانس، برطانیہ اور یورپی یونین وغیرہ۔ ناروے، قطر، ترکی کچھ اور نہیں کر سکتے تو فریقین کے درمیان ثالثی کر کے جنگ بندی معاہدہ کرا سکتے ہیں۔ طیب اردوان الیکشن کے نزدیک آنے پر ہمارے ضیا الحق صاحب والے سارے کام انجام دیں گے لیکن اگر وہ غزہ کے مسئلے پر ٹھوس اقدامات کرتے تو شاید باقی ممالک بھی ان کی معاونت کے لیے آگے آتے۔ بہر حال یہ بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، ریڈ کراس اور دیگر این جی اوز کو خوراک، پانی، ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی کی اجازت دی جائے۔ غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کیا جانا چاہیے تا کہ زندگی کی بنیادی اشیا کی ترسیل بحال ہو سکے۔ دنیا بھر میں سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے اور دباؤ ڈالنے والی کمپینز جاری رکھیں ایسے ہی سوشل میڈیا اور بائیکاٹ جیسی تحریکیں اسرائیل کو اقتصادی طور پر مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی جارحیت روکے۔ اقوام متحدہ کے اخلاقی وجود کو قائم دائم رکھنے کے لیے لازمی ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی پر اسرائیلی قیادت کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔ آزاد تحقیقات کے ذریعے جنگی جرائم کی نشان دہی کر کے رپورٹیں عالمی برادری کے سامنے رکھی جائیں۔ خود فلسطین میں بھی داخلی فلسطینی تقسیم ختم کر کے متحدہ قیادت جنگ بندی اور سیاسی عمل میں طاقتور آواز بن سکتی ہے۔ غزہ پر انسانیت سوز جرائم کا جاری رہنا پوری انسانیت کو جھنجھوڑتا رہے گا۔ کوئی قوم بھی اس سے نظریں چرا کر وقت نہیں گزار سکتی۔