قانون کی حکمرانی یا بیانیوں کی سیاست؟
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں ایک رجحان تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ داخلی معاملات کو بین الاقوامی بیانیوں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان کے حالیہ حالات خصوصاً عمران خان کے مقدمات اور ان سے جڑے مباحث اسی رجحان کی ایک واضح مثال ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ رائے دینے کا حق کس کے پاس ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی خودمختار ریاست کے قانونی معاملات کو بیرونی رائے عامہ کے تابع کیا جا سکتا ہے؟
یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ قانون کی حکمرانی کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے خواہ وہ داخلی دبا¶ ہو یا بیرونی بیانیہ تو اس کے اثرات محض ایک فرد یا ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے نظام انصاف پر پڑتے ہیں۔ حالیہ بین الاقوامی تبصرے جن میں ایک مخصوص سیاسی شخصیت کی رہائی کو پاکستان کے استحکام سے جوڑا جا رہا ہے دراصل اسی بنیادی اصول کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایک اہم پہلو Eric Lewis جیسے قانونی مبصرین کا م¶قف بھی ہے جو بظاہر قانونی نکات اٹھاتے ہیں مگر ان کی دلیل میں ایک واضح جھکا¶ محسوس ہوتا ہے۔ قانونی عمل (due process) پر سوال اٹھانا یقینا جائز ہے لیکن جب یہ سوالات انتخابی انداز میں اٹھائے جائیں اور ان کے ساتھ مکمل حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ تجزیہ کم اور وکالت زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کسی ماورائے قانون حراست میں نہیں بلکہ ایک ایسے فرد ہیں جو مختلف عدالتی فیصلوں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو محض سیاسی انتقام یا مظلومیت کا رنگ دینا ایک سادہ بیانیہ تو ہو سکتا ہے مگر مکمل حقیقت نہیں۔اس بحث کا دوسرا اہم پہلو وہ تصور ہے جس کے مطابق کسی ریاست کا استحکام ایک فرد کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک بھی نظر آتا ہے۔ ریاستیں شخصیات کے گرد نہیں بلکہ اداروں کے ذریعے چلتی ہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے،چاہے وہ امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ سفارت کاری ہو یا دیگر کثیرالجہتی کوششیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی پالیسی تسلسل کا نام ہے نہ کہ کسی ایک شخصیت کا مرہونِ منت نظام ہے۔
تاریخی تناظر میں بھی اگر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر دور میں ریاستی پالیسی کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں بعض ایسے فیصلے اور واقعات سامنے آئے جنہوں نے سفارتی سطح پر پیچیدگیاں پیدا کیں۔ کوالالمپور سمٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور Organization of Islamic Cooperation کے اندرونی اختلافات اس کی مثال ہیں۔ یہ واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی میں تسلسل اور توازن نہایت اہم ہوتا ہے اور جب یہ توازن متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جب کسی فرد کے قانونی معاملات کو قومی استحکام سے جوڑا جاتا ہے تو دراصل ایک خطرناک مثال قائم کی جاتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے مطابق اگر قانون اپنا راستہ اختیار کرے تو اسے عدم استحکام کا باعث قرار دیا جائے گا اور اگر قانون کو روکا جائے تو اسے استحکام کا نام دیا جائے گا۔ یہ منطق نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ اس میں ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور فیصلے شخصیات کے بجائے قوانین کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ اگر ہر فیصلہ عوامی دبا¶، بین الاقوامی بیانیے یا میڈیا مہمات کے تحت ہونے لگے تو پھر عدالتوں کی حیثیت محض رسمی رہ جائے گی۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قانون کی بالادستی کا اصل امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے جب دبا¶ زیادہ ہو اور توقعات بھی بڑھ جائیں۔یہاں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ یہ کہ عالمی سطح پر رائے سازی کا بڑھتا ہوا اثر سامنے آچکا ہے۔ آج کے دور میں ایک مضمون، ایک بیان یا ایک سوشل میڈیا مہم کسی بھی معاملے کو عالمی سطح پر نمایاں کر سکتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان بیانیوں کو کسی ملک کے عدالتی نظام پر فوقیت حاصل ہو جائے۔ پاکستان جیسے خودمختار ملک کے لیے یہ اصول اور بھی اہم ہے کیونکہ اس کا قانونی ڈھانچہ اپنے آئین اور قوانین کے تحت کام کرتا ہے نہ کہ بیرونی دبا¶ کے تحت۔حقیقت یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ایک اصولی معاملہ ہے جس میں لچک کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ اگر ایک بار یہ دروازہ کھول دیا جائے کہ بیرونی رائے یا دبا¶ عدالتی فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے تو پھر اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ آج ایک کیس ہوگا، کل دوسرا اور یوں نظامِ انصاف اپنی خودمختاری کھو بیٹھے گا۔
بالآخر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کا استحکام کسی ایک فرد یا ایک جماعت سے وابستہ نہیں بلکہ اس کے اداروں، اس کے آئین اور اس کے قانونی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ ادارے مضبوط ہوں گے تو ریاست بھی مستحکم رہے گی اور اگر ان پر دبا¶ ڈالا جائے گا تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوگا۔اسی لیے اصول بڑا واضح ہے کہ قانون کی حکمرانی بیرونی رائے کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔ عدالتیں اپنی ذمہ داری کے مطابق فیصلے کریں گی اور یہی جمہوریت کا تقاضا بھی ہے اور ریاستی خودمختاری کا تقاضا بھی ہے۔