خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا حالیہ بیان انتہائی متنازع اور عقل سے عاری قرار دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ جیسا ان کے بارے میں سمجھا جارہا تھا وہ بلاشبہ اس سے کئی گنا نا تجربہ کار نکلے ہیں۔ جیسا کہ اپنے قائد سے ملاقات کے لئے پہنچنے پر صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ نے ابھی تک کابینہ نہیں بنائی کیسے صوبہ چلے گا ؟ جس پر سہیل آفریدی غیر سنجیدہ انداز میں مسکراتے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اب تو یقینی طور پر یہ عیاں ہو گیا کہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ ناتجربہ کار نہیں بلکہ پراپیگنڈا کرنے کے ماہر ہیں اور کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو ”وار کرائمز“ قرار دیا ہے جو ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور خطرناک بیان ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایسے الفاظ، ایسے لہجے اور ایسی تعبیرات وہی طاقتیں استعمال کرتی رہی ہیں جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے خواب دیکھتی رہیں۔ یہ زبان پاکستان کی نہیں، بلکہ دشمن کے بیانیے کی بازگشت ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب بھی پاکستان کے خلاف نفسیاتی یا لسانی جنگ چھیڑی گئی، دشمن نے اسی طرزِ بیان کو ہتھیار بنایا۔
1971ءمیں یہی حربہ بھارت نے استعمال کیا۔ اس نے جھوٹ، افواہوں اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر یہ تاثر پھیلایا کہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ”وار کرائمز“ کیے، خواتین کی بے حرمتی کی، اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔ وہی پروپیگنڈا بعد میں بھارتی میڈیا اور مغربی حلقوں میں دہرا کر پیش کیا گیا تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ مگر حقیقت وقت کے ساتھ عیاں ہوئی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق شرمیلا بوس نے اپنی معروف تحقیق”Dead Reckoning“میں اس تمام مہم کی تہہ تک جا کر ثابت کیا کہ مکتی باہنی کے بیشتر دعوے جھوٹے، مبالغہ آمیز اور بھارتی ریاستی مفادات کے تابع تھے۔ انہوں نے تاریخی ریکارڈز اور عینی شاہدین کی گواہیوں سے واضح کیا کہ جنہیں ”وار کرائمز“ کہا گیا، وہ اکثر مکتی باہنی اور بھارتی ایجنسیوں کی تخلیق کردہ کہانیاں تھیں۔
یہی تاریخ آج خود کو دہرا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس بیانیے کو دشمن کے کسی پروپیگنڈا چینل نے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک کے ایک وزیرِ اعلیٰ نے اٹھانے کی سازش کی ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے ”وار کرائم“ کالفظ استعمال کرنا ان کی کم علمی نہیں کہی جا سکتی بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جسے قومی سانحہ کہا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جنگ لڑی جا رہی ہو، جہاں نوّے ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری، فوجی اور پولیس اہلکار اپنی جانیں قربان کر چکے ہوں، وہاں اس طرح کے الفاظ نہ صرف شہداءکے خون کی توہین ہیں بلکہ ان کے ورثاءکے دلوں پر زخم ہیں۔یہ کوئی اختلافِ رائے نہیں۔ اختلافِ رائے وہ ہوتا ہے جس میں نیت خالص ہو، دلیل موجود ہو اور قومی مفاد مقدم رکھا جائے۔ مگر جب ایک سیاسی رہنما دشمن کے بیانیے کو دہرانے لگے، جب وہ دہشت گردوں اور ریاست کے محافظوں کے درمیان اخلاقی مساوات قائم کرنے لگے تو یہ اختلاف نہیں بلکہ خطرناک مہم جوئی ہے۔ کیا سہیل آفریدی کو معلوم نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف گولیوں اور بموں کی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ بھی ہے؟ جب دشمن بندوق سے مارنے میں ناکام ہو جائے تو وہ زبان کے ذریعے وار کرتا ہے، جب میدان میں شکست کھا جائے تو میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے اپنا انتقام لیتا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے سرپرست پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے بیانیے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں اپنے محافظوں کے بارے میں شکوک پیدا ہوں، کہ شہداءکی قربانیاں سوالیہ نشان بن جائیں، کہ دشمن کے خلاف کھڑی دیواروں میں دراڑیں پڑ جائیں۔ سہیل آفریدی جیسے بیانات وہی دراڑ پیدا کرتے ہیں۔ اگر ایک وزیرِ اعلیٰ، جو آئین کا حلف اٹھاتا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ کرے گا، اسی زبان میں بولنے لگے جو دشمن استعمال کرتا ہے، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ محض لاعلمی ہے یا دانستہ سیاسی مفاد؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردوں نے متعدد علاقوں میں فورسز کے ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان سب واقعات میں دہشت گردوں نے بزدلانہ حملے کیے، مساجد کو نشانہ بنایا، عبادت گاہوں میں نمازیوں کو شہید کیا۔ مگر ان پر سہیل آفریدی کی زبان خاموش رہی لیکن جب بات پاکستان کی افواج کے خلاف پروپیگنڈے کی آئے توان کی زبان چلنے لگتی ہے۔
پاکستان کی ریاست نے ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کیا ہے مگر دشمن کے پروپیگنڈے کا آلہ کار بننے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ”وار کرائمز“ کا الزام صرف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کا بے جا استعمال نہ صرف سفارتی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ دشمن کو ایک اور موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف مقدمہ کھولے۔ یہی مکتی باہنی بیانیہ جب 1971 ءمیں چلایا گیا تھا تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش ہوئی۔ آج بھی اگر اسی اصطلاح کو ہماری اپنی قیادت استعمال کرنے لگے تو یقینا یہ قومی وحدت کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان کا ہر سپاہی، ہر شہید اس ملک کی سرزمین پر امن اور سلامتی کے لیے قربان ہوا۔ ان کے خون سے آج کی آزادی کا چراغ روشن ہے۔ ان کی قربانیوں پر سیاست کرنا ان کے حوصلوں پر شک کرنا، یا ان کے جذبے پر انگلی اٹھانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قوموں کی بقا ان کے بیانیے پر ہوتی ہے اور جو قوم اپنا بیانیہ کھو دے، وہ دشمن کے بیانیے میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے بیانات کو معمول نہ بننے دیا جائے۔ یہ 1971 ءوالا پاکستان نہیں۔ آج کا پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم ایک ہو کر اپنے محافظوں، اپنے شہدا اور اپنے بیانیے کا دفاع کریں۔ یہ پاکستان ہمارا ہے، اس کی عزت، اس کی فوج اور اس کی نظریاتی سرحدیں ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔