بیانیوں کی ایک بھرمار ہے جو کے پی کے اور بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہے۔ ملک دشمن بیانیے ٗ عوام دشمن بیانیے ٗ فوج مخالف بیانیے ٗ عدلیہ مخالف بیانیے ٗ انتظامیہ مخالف بیانیے ٗمعیشت مخالف بیانیے ٗ بات صرف بیانیوں تک رہتی تو اُس کے تجزیے کے اصول کچھ اور ہونے تھے لیکن یہاں تو اِن بیانیوں کے پس پشت دہشتگردوں کی دیواریں کھڑی ہیں ۔ جدید اسلحہ ٗ سہولت کاروںکی فراوانی ٗ اہداف تک رسائی ٗ عام شہریوں اور بچوں کا قتل ٗ نقل و حرکت میں آسانی جیسے مشکل معاملات سب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی دسترس میں ہیں ۔ انہیں ہندوستان جیسا دشمن جہاں سب کچھ فراہم کر رہا ہے وہاں اپنے ’’ دوستوں‘‘ نے بھی کے پی کے ٗ کے وسائل اور منشیات کی کمائی اُن پر لٹانے کی انتہا کررکھی ہے ۔ ورنہ یکلخت سارا بلوچستان مختلف مقامات سے سلگنا شروع نہ ہو جاتا ۔مزدور خاندانوں سے لے کر فوجی جوانوں تک کی شہادتیں یقینا لمحہ فکریہ ہے لیکن ہم ایک کمینے دشمن کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں جسے مفرور بلوچ سرداروں ٗ پی ٹی آئی کے ذیلی ونگز ٗ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے علاوہ بلوچستان میں موجودبھارتی نیٹ ورک کی مکمل حمایت اور وسائل تو حاصل ہی ہیں لیکن حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اتنی برق رفتاری اور چابک دستی سے یہ ملک دشمنی سرانجام نہیں دے سکتی جب تک اُس کے پاس لا محدود وسائل نہ ہوں ۔افغانستان کی سرزمین ٗ بھارت کے وسائل اور مالی معاونت کے علاوہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو ڈھکی چھپی نہیں کھلی حمایت حاصل ہے ۔ یار لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے پی ٹی آئی نے ’’بیانیوں کی جنگ‘‘ شروع کر رکھی ہے لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کیونکہ حکومت چلانا یا بہتر حکومت چلانا توکبھی پی ٹی آئی کا بیانیہ ہی نہیں رہا تو پھر نا اہلی کہاں سے آ گئی؟ اُن کا بنیادی مقصدتو ’’قیدی‘‘ کو بنیاد بنا کر ملک میں انارکی کرانا اور ایک مہا بحران (Ultra-Crises) پید ا کرنا ہے ۔ مہا بحران بنیادی طور پر بہت سے بحرانوں سے ملک کرایک بحران بننے کو کہتے ہیں جو بظاہر الگ الگ دکھائی دے رہے ہوتے ہیں لیکن ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرکے اپناوہ واحد مقصد حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے جس کیلئے تمام بیانیے الگ الگ بنائے جاتے ہیں اورانہیں اپنے ایک ہی مقصد سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ آپ کو نیازی کی رہائی کا بیانیہ الگ دکھائی دے رہا ہو گا ٗ فوج مخالف بیانیہ اُس سے مختلف سمجھا جائے گا ٗ اداروں پرحملوں کا بیانیہ اداروں پر ہی ڈالا جائے گا ٗ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا بیانیہ بنا کر نفرت پیدا کی جائے گی ٗ دوسرے صوبوں میں موجود سہولتوں کو اپنی نالائقی کے تناظر میں دکھانے کے بجائے وفاق کی نا انصافی یا پھر کسی دوسرے صوبے کی اجارہ داری بنا کر اپنے لوگوں کے آگے رکھی جائے گی ٗ جنگ کو نورا کشتی کہا جائے گا ٗ پاکستان کے دوست ممالک کے خلاف پروپیگنڈا کیا جائے گا اور دشمنوں کی تعریف کی جائے گی یا پھر دشمنوں کے دوستوں کے ساتھ رشتے بنائے جائیں گے تاکہ ریاست سے ڈائریکٹ ٹکرائو کی نوبت نہ آئے ۔ دہشتگردوں کو اپنے لوگ کہہ کر فوجی آپریشنز کی مخالفت کی جائے گی ٗجارحانہ انداز اپنا کر لوگوں کو یقین دلایا جائے گا کہ ہم آپ کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ حقیقت میں ایسا کرنے کا واحد مقصد عوام کو مشتعل کرنا اور ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی ہر وہ کام کرنے کیلئے ادھارکھائے بیٹھی ہے جس سے پاکستان کا نقصان ہواور بدقسمتی سے انہوں نے ایک ایسی سوچ کو پروان بھی چڑھا لیا ہے جو پاکستان کے نقصان کو اپنا فائدہ سمجھتی ہے گو کہ ایسا سوچنے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایسی سوچ کی اجازت اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے ؟ گزشتہ دنوں جمرود میں ہونے والا جلسہ نما جرگہ یا جرگہ نما جلسہ بنیادی طور پاکستان مخالف اور عوام کو ملک دشمنی پراُکسانے کی ایک ناکام کوشش تھی لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف زمین پر موجود ہی کہا ں ہے ؟ وہ چھوٹے چھوٹے اجتماعات یا احتجاجات میں اپنا بیانیہ بنا تے ہیں اور پھر اُسے سوشل میڈیا پر لا کردنیا بھر میں پھیلا دیتے ہیں جس سے لوگوں کی بڑی اکثریت اس گمراہ کن بیانیوں کا شکار ہو جاتی ہے اور اُن کے ذہن میں یہ تو بالکل نہیں رہتا کہ اس بیانیے کے پیچھے عوام کی کتنی طاقت ہے البتہ نفرت انگیز بیانات اور فاشزم کی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے کیونکہ فاشزم میں پہلے ذہنوں کو ہی آلودہ کرنا ہوتا ہے ۔ یہ شور شرابا ٗ یہ ہنگامہ خیزی ہر گز اپنی نااہل یا مجرمانہ غفلت چھپانے کیلئے نہیں ہے بلکہ یہی تو وہ حقیقی جرم ہے جو وہ سرانجام دے رہے ہیں جسے جمہوریت میں ملفوف کرکے عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ۔ جمرود جلسہ یقینا ایک نفرت انگیز بیانیے کا نیایہ جنم تھا۔ جمردو جلسہ میں تو وہ اپنے اُس اصل چہرے کے ساتھ آئے ہیں جو حقیقت میں عمران نیازی نے اُن کا بنایا ہے ۔ وہ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ مذاکرات تو راستہ نکالنے کیلئے ہوتے ہیں لیکن یہاں تو رستہ نکالنا مقصود ہی نہیں ٗ ریاست کو کھوکھلا کرنا اور پاکستان کے دشمنوں کا ساتھ دینا ابھی تک واحد مستقل بیانیہ ہے جو سامنے آیا ہے ۔ احتجاج کے شور میں آپ مہنگائی ٗ انتظامی اور معاشی بدحالی تو چھپا سکتے ہیں لیکن آپ کے الفاظ ملک دشمنی چھپانے سے قاصر ہیں ۔
14 نومبر 2025 ء کو خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے خود تیراہ کے بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے 4 ارب روپے منظور کیے اور پھر اِن غریبوں اور نقل مکانی کرنے والوں کو ملنے والی امداد میں بھی بڑے پیمانے پر خرد برد سامنے آیا ۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت خود تیراہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ 90 ہزار لوگوں کے لیے باغ اور دواتوئی میں صرف 2 رجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے۔ نقل مکانی کرنے والوں کی آباد کاری کی مینجمنٹ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دارصوبائی حکومت پر تھی لیکن پی ٹی آئی خود تیراہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد انتظامی ناکامی کو چھپانے کے لیے مظلوم متاثرین کی تکالیف کو ''فوج مخالف بیانیے'' کی بھینٹ چڑھانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو فوج اور ریاست کے خلاف ابھارا جائے اور 8 فروری کے جلسے میں اسے باردو کے طور پر استعمال کیا جا سکے ۔ یہ سب معصوم عوام کے جذبات کو اپنی مذموم مقاصدکی بھینٹ چڑھانے کی ایک نہایت منظم ٗ خطرناک اور ناپاک کوشش ہے جس کو قبل از وقت روکنا ہو گا۔