Wed, September 16, 2026

جنرل ہسپتال پوسٹ مارٹم کیس: دو ملازمین معطل، ابتدائی انکوائری رپورٹ پیش

جنرل ہسپتال پوسٹ مارٹم کیس: دو ملازمین معطل، ابتدائی انکوائری رپورٹ پیش

لاہور: جنرل ہسپتال میں مقتولہ کا پوسٹ مارٹم ڈاکٹر لبنیٰ جبین نے مکمل کیا، اور ابتدائی انکوائری رپورٹ پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔

پرنسپل نے معاملے کی شفاف جانچ کے لیے پروفیسر خضر حیات گوندل کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، پوسٹ مارٹم کے بعد ڈاکٹر لبنیٰ قانونی تقاضوں کے مطابق ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کرنے کے لیے سرکاری کاغذات تیار کر رہی تھیں، جب کسی نامعلوم شخص نے ایک ویڈیو بنائی، جس میں پوسٹ مارٹم کے اصل عمل کو دکھایا نہیں گیا۔

شواہد کی غیرجانبدارانہ جانچ کے لیے فرنزک ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔

ابتدائی انکوائری میں سرکاری فرائض میں مبینہ غفلت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے راز افشا کرنے کے شبہ میں دو ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ مریضوں اور لواحقین کا اعتماد بحال رکھنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ٹیگز: