Wed, September 16, 2026

 افغان پالیسی پر آخری فیصلے کا وقت 

 افغان پالیسی پر آخری فیصلے کا وقت 

افغان مذاکرات توقع کے عین مطابق بدترین ناکامی سے دوچار ہو گئے ۔ میں نے اِن کی متوقع ناکامی کا ذکر اپنے کالم میں کیا تھا ۔ طالبان سے مذاکرات اُس وقت ہوئے جب افغان وزیر خارجہ نے بھارت میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تازہ تازہ کھلی بدمعاشی کی تھی۔ اُس کے بعدافغانستان سے مذاکرات کرنا جب کہ افغان مذاکراتی ٹیم بار بار کابل سے رابطہ بھی کر رہی ہواور کابل میں بھارتی دماغ اُن کی رہنمائی کیلئے بیٹھے ہوں تو یہ نتیجہ اخذ کرنا انتہائی آسان تھا کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ایک طرف ریاستِ پاکستان افغانیوں کو بھارت کی پراکسی ڈکلیئر کرتی ہے اوردوسری طرف اُن کے ساتھ مذاکرات ¾ تویہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پراکسی کے پاس کسی نتیجہ خیز مذاکرات کا مینڈیٹ ہوتا ہے ؟اس کا جواب ہر باشعور شخص یہی دے گا کہ ایسا تو ممکن ہی نہیں ۔ افغانستان کبھی ہماری اور ہم امریکہ کی پراکسی وار کا حصہ رہ چکے ہیں اور ماضی قریب کے اُن واقعات کی روشنی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیا اُس وقت ہمارے یا افغانستان کے پاس روس کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ تھا ؟ یقینا نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ اُس وقت بھی جنگ کے خاتمے کا اعلان ریگن اور گوربا چیف نے ہاتھ ملا کر کیا تھا اور یقینا یہ ایک دن کا عمل تو ہو گا نہیں ۔ گو کہ اس جنگ کے خاتمے کا اعلان 1989ءمیں ہوا لیکن ہمیں اس بات کی سمجھ17اگست 1988ءکو ہی آ جانی چاہیے تھی جب ہمارے جرنیلوں کا طیارہ فضا میں پھٹ گیا تھا اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اس میں مارے جانے والے تمام ا فسران افغان جنگ کے ” ہیروز “ تھے ۔یعنی سرد جنگ اگست 1988ءمیں ہی ختم ہو چکی تھی ۔اب باتیں دو ہی سمجھ میں آتی ہیں کہ یا تو ہم تا دیر عالمی طاقتوں کی پالیسی کو سمجھے ہی نہیں تھے یا پھر ہمیں نئی سپرپاور کا نیو ورلڈ آرڈر اُسی دن سمجھ آ گیا تھا یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی شخص نہیں جانتا کہ اُس طیارے کی سواریوں پر کیا بیتی تھی ۔ جنرل ضیاءالحق سے ہزاروں سیاسی اختلاف سہی لیکن پاکستانی جرنیلوں کا طیارہ گرنا اور اُس کے حقائق سامنے نہ آنا بدترین المیہ ہے ۔ 
روس کے جانے کے بعد افغانستان کی پہلی خانہ جنگی بھی ہمارے کھاتے میں پڑی اور دوسری میں تو طالبان کی کامیابی اور افغان حکومت کو تسلیم کرنا ہمارے اُس وقت کے سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا ہی ” کریڈٹ “ ہے کیونکہ اُس وقت ایک فیک نیوز پاکستان میں ہر طرف پھیل گئی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے طالبان کو اپنے بچے کہاہے اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی انہیں طالبان کے ہاتھوں شہید ہونا پڑا۔کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ بھٹو کے موت کی بڑی وجہ بھی افغانستان جنگ تھی جو بھٹو نے کسی صورت نہیں لڑنا تھی اور امریکہ یہ جان چکا تھا ¾ بے نظیر کی 1990ءکی حکومت ختم کرنے میں بقول قاضی حسین احمد کے اُس زمانے میں 60کروڑ روپے میاں محمد نواز شریف کو دیئے ۔ افغانستان میں طالبان حکومت بننے کے بعد ٹی ٹی پی کو افغانستان میں بیٹھ کر آرگنائز کیا گیا ¾ اُسی ٹی ٹی پی نے پرویز مشرف کے دور میں طوفان برپا کیے رکھا اورکارساز کے دھماکے کے بعد محترمہ کی شہادت کا سانحہ ہوااور پھر سارا پاکستان خود کش حملوں سے گونجتا رہا۔ 
کھیل تماشے بہت ہو چکے ¾ اب اِن کی مزید گنجائش کسی صورت نہیں۔ بہت کچھ ایسا لکھا جاسکتا ہے جو یا تو ناقابل ِ اشاعت ہو جائے گا یا پھر قابل تعزیر لیکن اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستا ن کیلئے جان دینے سے بڑی سعادت بھلا کیا ہو سکتی ہے ؟ اگر ہمارے بچے وطن عزیز پر قربان ہو رہے ہیں تو ہم لوگ جتنا زندہ رہ چکے ہیں اب اتنا اور زندہ نہیں رہیں گے پھر سچ لکھنے میں کیا قباحت ہے ۔ ہم اُسی دائرے میں آ رہے ہیں جس میں کبھی افغان سوشلسٹ حکومت آئی تھی ۔ہمارے مشرقی محاذ پر ہمارا صدیوں پرانا دشمن جب کہ شمال مغرب میں نوزائیدہ دشمن تاریخ میں پہلی بارآپسی اتحاد کرکے ہمارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں ۔ میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اگر جنگ مسلط ہوجائے تو پھر اُس سے بھاگنا بدترین بزدلی اور نامردی ہے۔ ہم اپنے وطن کی حفاظت ¾ اپنے گوداموں کی حفاظت ¾ اپنے جغرافیے کی حفاظت ¾ اپنے بیوی بچوں اوربزرگوں کی حفاظت سے کیسے دستبردار ہو سکتے ہیں ؟دنیا ہمیں یکطرفہ امن کا کوئی طریقہ کار مل کر بتا دے ۔خواجہ آصف کی بھڑکیں اچھی تو لگتی ہیں لیکن یہ وقت قابل عمل پالیسی کا ہے ۔ وہ افغان اور سینٹرل ایشین جو ہزاروں سال سے ہندوستان پرحملہ آور ہوتے رہے ہیں ¾ جو ہندووں کے مندر لوٹتے رہے اور اُن کے بیوی بچوں کو اغوا کر کے بصرے کے بازاروں میں بیچتے رہے اُن کے ساتھ آج ہندوستا ن نے ہاتھ ملا لیا ہے جبکہ اگر تخلیق پاکستان کو غور سے سمجھا جائے تو تخت ِ دہلی تو پاکستان بننے کے بعد افغان جنگجوﺅں اور دہشتگردوں سے محفوظ ہوا ہے کہ ہماری بہادر سپاہ نے کسی کو سرحد عبور نہیں کرنے دی اوروہی افغان جو کبھی تخت دہلی سے سب کچھ وصول کرتے تھے آج ہمارے رحم و کرم پر ہیں اور ہم سے ہی برسرِ پیکار ہونے کا سوچ رہے ہیں ۔ یہ لڑائی 
صدیوں پرانی سوچ سے ہے جو حرام خوری اور دوسروں کی محنت لوٹنے کی ہے ۔ افغانیوں کی منشیات ساری دنیا میں سمگل ہوتی ہے اور بھارت بھی اُن کی بڑی منڈی ہے۔بلاک ریاست ہونے کی وجہ سے افغانوں کو کراچی کی بندرگاہ استعمال کرنا پڑتی ہے اور اب وہ للچائی نظروں سے گوادر کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں اُن کے ہزاروں نہیں لاکھوں جنگجو اور ایک صوبے کی حکومت اپنی تمام تر صوبائی طاقت کے ساتھ حمایتی ہے ایسی ہی صورت ِ حال بلوچستان میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔سو کسی بھی جنگ سے پہلے پاکستان کو اپنی ”منجھی کے نیچے ڈانگ پھیرنا“ ہو گی ورنہ افغانوں کو بھارت ¾ اسرائیل یاامریکہ سے توکیا حمایت ملے گی اُن کے حمایتیوں کی سب سے بڑی تعداد خود پاکستان میں چھپی بیٹھی ہے اور ابھی تک ہونے والے کام اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ہماری فوج بہادر ہے ¾ دنیا ہماری مدد کرنا چاہتی ہے ¾ ہم ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائلوں سے لیس ہیں ¾حوصلے کی کمی نہیں ¾ عوام بہادر ہے لیکن حکمت ِ عملی بنانے والوں کو ابھی بہت کچھ سوچنا پڑے گا ۔ورنہ پھر سوچنے کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ہم نے مکمل جنگ کرنی ہے یا مکمل اسلامی بھائی چارہ اس کا فیصلہ ابھی کرنا ہو گا کہ جنگ میں صرف گھوڑے نہیں عقل کے گھوڑے بھی نہیں بدلے جاسکتے۔

ٹیگز: