Wed, September 16, 2026

پیٹرول سستا ہوا، مگر کیا اتنا ہی کافی ہے؟

پیٹرول سستا ہوا، مگر کیا اتنا ہی کافی ہے؟


حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںکمی کا اعلان اگرچہ ایک اچھی خبر ہے لیکن شائد اتنی بھی اچھی نہیں کہ جتنا کہ اس کو ہونا چاہیے تھا۔ اب جبکہ ایران-امریکہ جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے کی طرف آ رہی ہیںتو کیا یہ پاکستانی عوام کا حق نہیں تھا کہ انہیں اگر زیادہ کم نہیں تو کم از کم جنگ سے پہلے والی صورتحال ہی میسر کر دی جاتی؟۔ 
ہمارے عوام بیچارے تو سادگی کی انتہا پر ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ گزشتہ روز جب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بائیس روپے سے زائد کمی کا اعلان کیا تو یقیناً لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی ہوگی۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والے ملازم نے حساب لگایا ہوگا کہ اب مہینے کے آخر میں چند سو روپے بچ جائیں گے۔ رکشہ چلانے والے نے سوچا ہوگا کہ شاید روز کی بچت کچھ بہتر ہو جائے۔ کسان نے امید باندھی ہوگی کہ اخراجات میں کچھ کمی آئے گی۔لیکن ان سادہ لوح لوگوں کو کون سمجھائے کہ جو ریلیف ان کو دیا گیا ہے وہ اس سے بہت کم ہے کہ جس پر ان کا حق ہے۔ 
حکومت اگر خود نہیں سوچتی تو اس سے سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا یہ کمی واقعی اتنی ہے کہ جتنی ہونی چاہیے تھی؟۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ دنیا بھر کے نیوز چینلز پر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خبریں چل رہی تھیں۔ ہر طرف خدشات اور بے یقینی کا ماحول تھا۔ ماہرین بتا رہے تھے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہوا۔ اس صورتحال میں عوام نے دل پر پتھر رکھ کر اس بات کو قبول کیا کہ چونکہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر یہاں بھی آئے گا۔عام آدمی نے شاید یہ سوچ کر خاموشی اختیار کر لی کہ حالات معمول پر آئیں گے تو قیمتیں بھی واپس نیچے آ جائیں گی۔
لیکن اب جبکہ حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان وہ جنگی کیفیت باقی نہیں رہی جس کا خوف دنیا کو پریشان کر رہا تھا۔ عالمی منڈی بھی پہلے جیسی بے یقینی کا شکار نہیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا پاکستانی عوام کو وہی ریلیف ملا ہے جو ان کا حق تھا؟۔ یہ سوال صرف ان لوگوں کا نہیں ہونا چاہیے جو گاڑی یا موٹر سائیکل رکھتے ہیں۔ دراصل پیٹرول کی قیمت ہر گھر کے بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سبزی فروش جب منڈی سے سامان لاتا ہے تو اس کے اخراجات میں پٹرول شامل ہوتا ہے۔ دودھ سپلائی کرنے والا، سکول وین چلانے والا، بس ڈرائیور، کسان، تاجر، طالبعلم سب کسی نہ کسی شکل میں ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کی لہریں پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہیں۔
مجھے ایک دکاندار کی بات یاد آتی ہے۔ چند ماہ پہلے اس سے پوچھا کہ مہنگائی کم کیوں نہیں ہو رہی؟ اس نے ہنس کر جواب دیا، ’بھائی صاحب،یہاں چیزیں اوپر تو لفٹ کے ذریعہ سے جاتی ہیں اور نیچے سیڑھیوں سے بھی نہیں آتیں۔‘ اس کے الفاظ شاید مزاحیہ تھے لیکن حقیقت بھی یہی ہے۔ ہمارے ہاں قیمتیں بڑھنے کی رفتارتو بہت تیز ہوتی ہے اور کمی ، اول تو ہوتی ہی نہیں اور اگر کبھی ہو تو اسکی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹر اگلے ہی دن کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن جب پٹرول سستا ہو تو کرایہ کم کرنے کے لیے مہینوں بحث چلتی رہتی ہے۔ مسئلہ صرف چند روپے اوپر یا نیچے ہونے کا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عام آدمی کو یہ احساس دلائے کہ اگر مشکل وقت میں اس نے بوجھ اٹھایا ہے تو اچھے وقت میں اسے ریلیف بھی ملے گا۔
یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت کے اپنے مسائل ہیں۔ شاہ خرچیوں اور پروٹوکول کے علاوہ قرضے ہیں، بجٹ خسارہ ہے، ترقیاتی اخراجات ہیں اور بے شمار مالی ذمہ داریاں ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کے مسائل بھی کم نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کو صرف ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے معیشت کو چلانے والے ایندھن کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر پٹرول مزید سستا ہوتا ہے تو صرف عوام ہی فائدہ نہیں اٹھاتے، حکومت بھی فائدے میں رہتی ہے۔ سستا ایندھن کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا پہیہ تیزی سے چلتا ہے۔ منڈیوں میں خرید و فروخت بڑھتی ہے۔ صنعتوں کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ کسان نسبتاً کم لاگت میں پیداوار حاصل کرتا ہے۔ یوں معیشت کے کئی پہیے ایک ساتھ چلنے لگتے ہیں۔
حکومت کے لیے شاید اس سے بہتر موقع نہیں ہو سکتا کہ وہ عوام کو یہ احساس دلائے کہ عالمی حالات بہتر ہونے کا فائدہ ان تک بھی پہنچ رہا ہے۔ اگر قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ اگر مکمل کمی ممکن نہیں تو کم از کم ایک واضح روڈ میپ دیا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مستقبل میں کیا توقع رکھنی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور کام بھی ضروری ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا پورا حساب عوام کے سامنے رکھے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ عالمی قیمت کتنی ہے، ٹیکس کتنے ہیں اور حکومت کو کتنا ریونیو مل رہا ہے۔ شفافیت ہمیشہ اعتماد پیدا کرتی ہے اور اعتماد کسی بھی معاشی پالیسی کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
مارچ 2026 میں جنگی حالات شدت اختیار کرنے کے بعد پٹرول کی قیمت 266.17 روپے سے بڑھا کر 321.17روپے فی لیٹر کی گئی، جسے اس وقت جنگ اور آبنائے ہرمز کے خدشات سے جوڑا گیا تھا۔بعد ازاں اپریل اور مئی میں قیمتیں مزید بڑھ کر 414 سے 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئیں۔اب جبکہ حالیہ کمی کے بعد پٹرول کی قیمت تقریباً 381 روپے فی لیٹر بتائی جا رہی ہے، کیا یہ سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر جنگ سے پہلے قیمت 253.17 روپے فی لیٹر تھی اور جنگی دبا¶ میں نمایاں کمی آ چکی ہے تو کیا قیمتوں کو مزید کم نہیں ہونا چاہیے؟۔

ٹیگز: