کراچی: – قائدآباد کے عوام کا صبر جواب دے گیا۔ کئی دنوں سے بجلی سے محروم شہری سڑکوں پر نکل آئے، اور نیشنل ہائی وے کو احتجاجاً بند کر دیا۔ نتیجہ؟ شہر کا اہم راستہ چودہ گھنٹے سے جام ہے۔
قومی شاہراہ پر ہر طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں، ہیوی ٹریفک کی رکی ہوئی لائنس، اور گرمی میں سسکتے مسافر... عوامی بے بسی کا کرب ناک منظر پیش کر رہے ہیں۔عید قربان کے جانور لے کر لوٹنے والے شہری بھی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
مظاہرین کہتے ہیں"ہم مسلسل اندھیرے میں ہیں، حکومت سو رہی ہے۔ یہ احتجاج ہمارا حق ہے!"
پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک بجلی کی فراہمی بحال نہ ہونے پر عوام کا غصہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حکام نے متبادل راستے فراہم کرنے کی اپیل تو کی ہے، مگر زمینی صورتحال میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔ احتجاج کب ختم ہوگا؟ سوال تاحال برقرار ہے۔