کہنے کو انسان اکیسویں صدی کی بلند ترین چوٹی پر کھڑا ہے ،چاند اور مریخ پر قدم رکھنے کی تیاریاں کر رہا ہے ، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکا ہے ، مگر حیرت یہ ہے کہ ہمارے گھروں کے بلب بجھنے اور چولہے ٹھنڈے ہونے کا خوف ابھی تک ختم نہیں ہو سکا ۔ بجلی اور گیس جو جدید زندگی کی روح ہیںہمارے ہاں مسلسل ایک اذیت ناک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی اور زوال کا گہرا تعلق توانائی کے ذرائع سے رہا ہے ۔ جب یورپ میں صنعتی انقلاب آیا تو کوئلے نے وہاں کی معیشت کہ نئی جان بخشی ۔امریکہ نے تیل کو اپنی طاقت بنایا اور مشرق وسطیٰ نے گیس کے ذخائر سے دنیا میں اپنی پوریشن مستحکم کی لیکن ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ پانی ، کوئلہ ، سورج اور ہوا سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ہم توانائی کے اس بحران کا شکار ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ توانائی کے بغیر معیشت ایک مفلوج جسم کی مانند ہوتی ہے ۔ بجلی نا ہو تو کارخانے ساکت ، گیس نا ہو تو گھروں کے برتن خالی اور یہ صرف سہولت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی اور مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ پاکستان کا بجلی بحران کوئی آج کی پیداوار نہیں ہے ، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب تربیلا اور منگلا ڈیم بنے تو امید بندھی تھی کہ ہم توانائی میں خود کفیل ہو جائیں گے مگر آبادی کے بڑھنے ، صنعتوں کے پھیلنے اور پالیسیوں کی ناکامی نے وہ امیدیں توڑ دیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر چند سال بعد ہمیں نئی لوڈ شیڈنگ کی اذیت جھیلنا پڑتی ہے ۔ حکومتیں منصوبے تو بناتی ہیں مگر ان میں شفافیت اور تسلسل نہیں ہوتا ۔ایک حکومت بجلی گھروں کے معاہدے کرتی ہے دوسری آ کر انہیں مہنگا اور نقصان دہ قرار دے دیتی ہے ۔ نتیجتاً عوام کے گھروں کے اندھیرے مزید بڑھتے ہیں ۔ اسی طرح گیس کو ہم نے قومی نعمت کہا مگر اس نعمت کو بھی ہم نے ضائع کر دیا ۔ سوئی گیس کے ذخائر جو کبھی پورے پاکستان کی دہائیوں تک کفالت کرنے کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں ۔ نئی دریافتوں پر سرمایہ کاری نہ ہونے اور کرپشن کے باعث آج ہم گیس درآمد کرنے پر مجبور ہیں ۔ سردیوں میں گھریلو صارفین کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں ، جب کہ صنعتیں گیس کی بندش کے باعث مزدوروں کو فارغ کر دیتی ہیں ۔ عام آدمی کے لیے بجلی اور گیس کا بحران محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا عذاب ہے ۔ توانائی کے اس بحران کا سب سے زیادہ اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ایک صنعت کار کے لیے مشینیں بجلی سے چلتی ہیں اور اگر بجلی مہنگی اور غیر یقینی ہو تو صنعت کس طرح ترقی کرے گی ؟ اسی طرح زرعی شعبے میں ٹیوب ویل اور مشینیری بجلی اور ڈیزل سے چلتی ہے جب یہ مہنگے ہو جائیں تو کسان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔ توانائی کی یہ قلت براہ راست مہنگائی کو جنم دیتی ہے ۔ جب صنعت کی پیداوار کم ہوتی ہے تو مارکیٹ میں اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں ، جب کسان اپنی لاگت پوری نہیں کر پاتا تو اناج ، سبزیاں اور پھل عوام کی پہنچ سے دور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ بد انتظامی اورکرپشن ہے ۔ آج دنیا سورج ، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کر رہی ہے ، جرمنی اور چین نے شمسی توانائی سے اپنی معیشت کو طاقتور بنایا ۔ ترکی اور ایران نے پن بجلی پر زور دیا مگر پاکستان میں یہ منصوبے صرف تقریبات اور اخباری بیانات تک ہی محدود رہتے ہیں ۔ہمارے ہاں تین سو دن سے زیادہ سورج چمکتا ہے ، ہوا سے بجلی بنانے کے لیے بہترین ساحلی پٹی موجود ہے اگر ہم سنجیدگی سے متبادل توانائی کی طرف جائیں تو یہ بحران حل ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت نے اپنے دور میں اس بحران پر قابو پانے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے مگر عملی طور پربجلی مزیدمہنگی ہوئی ، لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا اور گردشی قرضہ بے قابو ہوتا گیا۔ گردشی قرضہ محض ایک مالی اصلاح نہیں بلکہ یہ اس ناکامی کا نام ہے جس کی سزا دہائیوں سے غریب و بے بس عوام جھیل رہی ہے۔بجلی بنانے والی کمپنیوں کو حکومت وقت پر ادائیگی نہیں کرتی، وہ فیول خریدنے کے لیے قرض لیتی ہیں ،سود بڑھتا ہے اور آخرکار یہ سب صارفین کے بل میں شامل کر دیا جاتا ہے ۔ یوں ہر سال قرض بڑھتا ہے نرخ بڑھتے ہیں اور عوام کی کمر توٹتی ہے ۔روشنی اور حرارت ہمیشہ سے ہی امید کی علامت رہی ہیں مگر پاکستان میں یہ امید ہر ماہ ایک بل کی قسطوں کی صورت میں بیچی جا رہی ہے ۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا مطلب یہی ہے کہ ہر سہولت مہنگی کر دی جائے اور ہر ضرورت کو خریدنے کے لیے جیب خالی کر دی جائے ؟روشنی اور حرارت کوئی عیاشی نہیں ہے ، یہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے مگر جو حکومت اپنی عوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے بجائے اسے بوجھ بنا دے وہ کبھی بھی ترقی کا وعدہ نہیں کر سکتی ۔یہ سچ ہے کہ قومیں اندھیروں میں نہیں جیا کرتیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ بعض حکمران اندھیروں کو بھی کاروبار بنا لیتے ہیں ۔آج پاکستان کی غریب عوام کو اپنے گھروں میں جلنے والے بلب کی روشنی سے زیادہ اس کے بل کا بوجھ محسوس ہوتا ہے ۔ ہر مہینے کاغذ کا ایک ٹکڑا آتا ہے مگر یہ صرف اعداد نہیں لاتایہ امیدیں کترتا ہے ، خواب چراتا ہے اور زندگیاں مختصر کرتا ہے ۔ وقت آ گیا ہے عوام اب اندھیرے کے اس کاروبار پر سوال اٹھائیں، حکومتی منطق کے پردے کو چاک کریں اور یہ یاد دلائیں کہ روشنی اور حرارت کوئی عنایت نہیں بلکہ یہ ایک بنیادی حق ہے ۔ روشنی کے اس حق کو بچانے کے لیے صرف احتجاج کافی نہیں بلکہ سماجی شعور ، مسلسل دبائو اور غیر متزلزل مطالبہ درکار ہے ۔ ورنہ اندھیرے کا یہ سودا ہماری آنے والی نسلوں کو بھی رہن رکھ دے گا اور تب چراغ جلا کر بھی ہمیں روشنی نہیں ملے گی ۔ بجلی اور گیس صرف روشنی اور حرارت کے ذرائع نہیں بلکہ یہ ترقی ، روزگار ، خوشحالی اور قومی وقار کے ضامن ہیں ۔ اگر ہم نے ان نعمتوں کو بد انتظامی اور کرپشن کے اندھیروں میں ہی کھو دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گیں ۔