پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر روزنامہ نئی بات کی سینئر کالم نگار ہیں جن کے ہفتے میں دو کالم اخبار کے صفحہ دو کی زینت ہوتے ہیں۔ آپ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلم و براڈ کاسٹنگ کی پروفیسر و چیئرپرسن ہونے کے ساتھ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس پنجاب کی سربراہ ہیں۔ سیاست سے ہٹ کر ان کی کچھ ہی عرصہ قبل چھپ کر آنے والی تیسری کتاب ہے۔ اس میں تعلیمی ، سماجی ، معاشرتی موضوعات، ریاستی اداروں کے احوال و کوائف اور آئین و قانون اور انسانی حقوق سے متعلق ان کے ستر مضامین (کالم) شامل ہیں جو باکمال لوگ، خواتین، میڈیا اور صحافت، تعلیم اور تحقیق، کھیل کے میدان، سرحد پار، آئین و قانون اور انسانی حقوق اور ہزار داستان کے آٹھ عنوانات کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔ ان کالموں یا مضامین کا سیاست سے براہ ¿ راست کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ کالموں (مضامین) کے کتابی شکل میں مجموعے کا ٹائٹل سیاست سے ہٹ کر رکھا گیا ہے۔
مصنفہ ڈاکڑ لبنیٰ ظہیر اپنی بات کے عنوان کے تحت تعارفی کلمات جو بذاتِ خود ایک بھر پور ، جامع اور خوبصورت تحریر ہے میںلکھتی ہیں کہ "میری خوش قسمتی ہے کہ کالم نگاری کے حوالے سے مجھے معروف کالم نگار اور دانشور سینیٹر عرفان صدیقی صاحب (کتاب کی اشاعت کے موقع پر محترم عرفان صدیقی صاحب بقیدِ حیات تھے۔ ۱۱ نومبر ۲۰۲۵ءکو ان کا انتقال ہوا) کی مشفقانہ سر پرستی حاصل رہی۔۔ہمیشہ مجھے نصیحت کرتے ہیں کہ سیاست کے بجائے مجھے سماجی موضوعات پر لکھنا چاہیے۔ صدیقی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے نہایت محبت سے اس کتاب کا دیباچہ تحریر فرمایاہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل بھی صدیقی صاحب نے تجویز کیا۔"
محترم عرفان صدیقی صاحب ( مرحوم و مغفور) نے بھی کتاب کے ٹائٹل یا عنوان "سیاست سے ہٹ کر" کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔ وہ" اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے" کے عنوان کے تحت کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں " سیاست ہمیشہ پاکستان کا سِکہ رائج الوقت رہی ہے۔ سیاست کے بغیر حرف و بیاںکا رنگ روپ نکھرتا ہی نہیں۔ لُبنیٰ نے بھی سیاست کو شجرِ ممنوعہ تو نہیں سمجھا لیکن غیر سیاسی موضوعات اُس کا خصوصی میدان رہے ہیں۔ یہ بڑے دل گُردے کا کا م ہے۔ بلا شبہ اُس نے منوایا ہے کہ" اور بھی غم زمانے میں سیاست کے سوا" ۔ اُس کے کالموں کے زیرِ نظر مجموعے کا نام ہی "سیاست سے ہٹ کر"ہے۔ اِس سے اپنے قارئین پر لُبنیٰ ظہیر کے بھر پور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے اور کتاب کے ناشر علامہ عبدالستار عاصم کی طبع مہم جو کی اُپچ کا بھی"۔
پروفیسر ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر کی تصنیف "سیاست سے ہٹ کر "کے بارے میں یہ مضمون لکھتے ہوئے مجھے یاد آ رہا ہے کہ یہ ۲۵ فروری ۲۰۲۲ءکا دن تھا
کہ نامور کالم نگار ، شاعر اور دانش ور اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب (مرحوم و مغفور) کی معیت میں معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر جمال ناصر (جو وزیرِ اعلیٰ سید محسن نقوی کی نگران حکومت میں پنجاب کے وزیرِ صحت رہے) اور یہ بندہ ناچیز اسلام آباد ، لاہور موٹر وے پر رواں دواں تھے کہ اُسی رات کو ہم نے لاہور میں نامور ریٹائرڈ بیوروکریٹ عزیزِ گرامی قدر فواد حسن فواد کے صاحبزادے سلال حسن کی دعوتِ ولیمہ میں شرکت کرنا تھی۔ بھیرہ ریسٹ ایریا میں ہم چائے کے لیے رُکے تو اِس دواران عرفان صاحب کو پہلے لندن سے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف (جو اُن دنوں بغرض علاج لندن میں مقیم تھے) کا خیر خیریت کا وائس میسج آیا۔ کچھ دیر بعد لاہور سے میسج آ گیا کہ بزرگ صحافی اور روزنامہ ”نئی بات“ کے گروپ ایڈیٹر جناب عطا الرحمٰن جو کچھ دنوں سے علالت کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے کا انتقال ہو گیا ہے اور عصر کی نماز کے بعد اچھرہ قبرستان میں اُن کی نمازِ جنازہ اور تدفین ہو گی۔ ہم نے نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا تھی اور پروگرام طے پایا کہ لاہور پہنچنے کے بعد کچھ وقت پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں شعبہ¿ فلم و براڈ کاسٹنگ میں ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر کے آفس میں ٹھہریں گے۔ ماحضر تناول کریں گے اور پھر وہیں سے عطاءالرحمٰن صاحب کے جنازے میں شرکت کے لیے چلے جائیں گے۔
پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے شعبہ¿ فلم و براڈ کاسٹنگ (شعبہ¿ ابلاغیات) میں ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر سے ملاقات ہوئی تو ایسے لگا جیسے برسوں سے شناسائی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب سے ان کا کئی بار ذکر سُن رکھا تھا تو اس کے ساتھ روزنامہ نئی بات میں تواتر سے چھپنے والے اُن کے کالموں کا قاری ہونے کی بنا پر ان سے تعارف بھی تھا۔ خیر باتوں باتوں میں ڈاکٹر صاحبہ سے میں نے کہا کہ "نئی بات" میں آپ کے کالم کے سر نامے کے ساتھ آپ کی جو تصویر چھپتی ہے اس کی بجائے اپنی کوئی نئی تصویر یا فوٹو لگوائیں تو زیادہ اچھا لگے گا۔ اس پر ڈاکٹر صاحبہ کچھ جھینپ سی گئیں او ر میں نے ایسا محسوس کیا کہ کوئی غیر مناسب بات کہہ دی ہے۔ خیر اَب ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب "سیاست سے ہٹ کر" میں ان کا پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ¿ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم جو پنجاب یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر کے استاد رہے اور بعد میں ڈاکٹر صاحبہ کو اسی شعبے میں ان کے ساتھ بطور ِ لیکچرار کام کرنے کا موقع بھی ملا کے بارے میں" میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین " شیخ مرحوم کے عنوان سے چھپا مضمون پڑھا ہے تو مجھے حوصلہ ملا ہے کہ ۲۵ فروری ۲۰۲۲ءکو ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر صاحبہ سے پنجاب یونیورسٹی میں اُن کے آفس میں مَیں نے اُن کے اخبار میں چھپنے والی اپنی تصویر کے بدلنے کی جوبات کہی تھے وہ کچھ ایسی نا مناسب نہیں تھی کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم نے بھی اُن سے اپنی تصویر بدلنے کا کہا تھا ۔
کتاب میں ایک مضمون روزنامہ نئی بات کے سابقہ گروپ ایڈیٹر اور نامور صحافی عطا الرحمٰن صاحب مرحوم کے بارے میں بھی شامل ہے۔ "عطاالرحمٰن صاحب صحافت کا مینارہ ¿ نور"کے عنوان سے چھپے اس مضمون میں ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر صاحبہ نے مرحوم عطا الرحمٰن صاحب کو زبر دست خراجِ تحسین پیش کیا ہے توکچھ ایسی باتوں کا تذکرہ بھی کیا ہے جن سے روزنامہ نئی بات کے چیف ایڈیٹر مکرم و محترم چوہدری عبدالرحمٰن صاحب کی بڑائی ، فراخ حوصلگی اور وُسعتِ قلبی پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔ وہ لکھتی ہیں" سچ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن صاحب نے ہمیشہ عطا الرحمٰن صاحب کو عزت ، احترام دیا۔
میں نے ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر کی تحریر کا یہ اقتباس نقل کیا ہے اس سے جیسے میں نے اوپر محترم عطا الرحمٰن صاحب مرحوم ، چوہدی عبدالرحمٰن صاحب چیف ایڈیٹر (روزنامہ نئی بات) کا ذکر کرنا مقصود تھا تو اس کے ساتھ ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر صاحبہ کے انداز ِ تحریر کی طرف بھی اشارہ کرنا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اندازِ تحریر بلا شُبہ بڑا سادہ، رواں دواںاور چھوٹے چھوٹے جملے کہ سمجھنے میں کچھ مشکل پیش نہ آئے۔ محترم عرفان صدیقی صاحب نے بھی" اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے" کے عنوان سے اپنے مضمون میں جو کتاب کے دیباچہ کے طور پر چھپا ہے، ڈاکٹر لُبنیٰ صاحبہ کے اندازِ نگارش کی تحسین کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں" اُس (ڈاکٹر لُبنیٰ ظہیر) کی تحریر کی نمایاں خوبی، رواں دواں، تصنع سے پاک اور سادہ و پرکار اسلوب سے و کسی آن قاری کو گراں نہیں گزرتا بلکہ وہ دریا کی لطیف لہروں کے نرم رو بہاو¿ کی طرح تحریر کے ساتھ ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔
"©سیاست سے ہٹ کر" میں جیسے مَیں نے شروع میں لکھا، ستر کالم یا مضامین شامل ہیں۔ میرے لیے" با کمال لوگ" کے تحت چھپے چھ مضامین یا کالم خصوصی دلچسپی کا باعث بنے ہیں۔ ان مضامین کو شخصی خاکے بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ علم و ادب اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی گراں مایہ شخصیات کے بارے میںہیں۔ کتاب میں" تعلیم اور تحقیق "کے گوشے کے تحت سب سے زیادہ پندرہ مضامین یا کالم شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان میں سے ہر کالم یا مضمون ایک سے ایک بڑھ کر اہمیت کا حامل ہے کہ ان میں وطنِ عزیز میں تعلیم کے شعبے کی کسمپرسی، جامعات کے گرتے معیار اور اہلِ علم و دانش خواتین حضرات میں چربہ سازی کے رجحان کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ اربابِ اختیار کی طرف سے تعلیم کے شعبے سے بے اعتنائی برتنے کا ماتم بھی ہے۔