Wed, September 16, 2026

نظام ناکام ہو چکا ہے

نظام ناکام ہو چکا ہے


وزیر داخلہ محسن نقوی نے نظام کے بارے میں کیا ایسا کہہ دیا کہ ہلچل مچ گئی ہے انہوں نے کہا کہ نظام چل نہیں رہا ہے سیاسی نظام چلانے والے ہوں یا اسے فنڈ کرنے والے‘ سب دیکھ رہے ہیں کہ نظام ڈلیور نہیں کر رہا ہے نظام پر گہری نظر رکھنے والے تو دور کی بات ہے عام شہری‘ ذرا سی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی یہ جان چکا ہے کہ جاری نظام قطعاً ڈلیور نہیں کررہا ہے ایک عام آدمی مکمل طور پر مایوس اور ناامید نظر آ رہا ہے آبادی کا دو تہائی جو جوانوں پر مشتمل ہے اپنے حال سے مایوس ہے اسے اس ملک میں اپنا حال تاریک نظر آ رہا ہے مستقبل تو قطعاً تاریک ہے انہیں یہاں ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور اپنا مستقبل بنانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی ہے وہ یہاں رہنا نہیں چاہتے بیرون ملک جا کر اپنا حال بنانا چاہتے ہیں اس کے لئے وہ زندگی کی بازی بھی لگانے کے لئے تیار ہیں ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے کے لئے وہ زندگی کی بازی بھی لگانے کے لئے تیار ہیں ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے والوں کی تعداد دیکھ کر ہم نوجوانوں کی مایوسی کا اظہار سمجھ سکتے ہیں۔
ویسے ہم اگر پاکستان کی سات آٹھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں نظام کبھی بھی چل نہیں سکا‘ ڈلیور نہیں کر سکا‘ قیام پاکستان کے بعد 9 سال تک یہ ملک بے آئین رہا پہلا آئین 9 سال بعد معرض وجود میں آیا قیام پاکستان کے فوراً بعد ملکی آئین کی ڈائریکشن کے بارے میں بحث شروع ہو گئی کہ ملکی نظام اسلامی ہو گا یا سیکولر اللہ اللہ کر کے 1956ءمیں پہلا آئین معرض وجود میں آیا شومئی قسمت دیکھیں یہ آئین دو سال بھی چل سکا‘ آئین دینے والے نے تو پہلے ہی استعفیٰ دے دیا بیورو کریسی نے سیاست کو پتلیوں کا کھیل بنا دیا تھا فوج کے سربراہ نے حتمی فیصلہ کیا کہ اقتدار پر قبضہ کر کے اس کھیل کا خاتمہ کر دیا‘ 1958ءکا جنرل ایوب خان کا اقتدار1969ءکے یحییٰ خان مارشل لاءتک جاری رہا‘ 1956ءکے آئین کے تحت قائم کردہ نظم مملکت نہیں چل سکا‘ مارشل لاءکے تحت 1962ءکے آئین کے ذریعے جو نظام قائم کیا گیا وہ بھی نہ چل سکا‘ جنرل ایوب خان نے جاتے جاتے اپنے ہی آئین کو روندتے ہوئے مارشل لاءکے حوالے کر گئے‘ 1962 کے آئین کی رو سے صدر مملکت کی عدم موجودگی میں آئینی طور پر نظم مملکت سپیکر کے ہاتھوں انجام پانا تھا لیکن جنرل ایوب نظم مملکت آرمی چیف جنرل یحییٰ کے سپرد کر گئے کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جنرل یحییٰ خان نے بذات خود ملکی نظم و نسق سنبھال لیا تھا‘ بہرحال 1962ءکا آئین بھی نہیں چل سکا جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنا کھیل شروع کر دیا‘ ہمیں معلوم ہے کہ جنرل یحییٰ ایک عیاش جرنیل تھے۔ انہوں نے 1969ءتا 1971 جو کچھ کیا وہ ہماری سیاسی و عسکری تاریخ کا عبرتناک ہی نہیں شرمناک باب ہے‘ دسمبر 1971ءمیں مملکت خداداد دولخت ہو گئی‘ پاکستان کی اکثریتی آبادی بنگالیوں نے مغربی پاکستان یا وفاق پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا‘ بھارتی فوج کی مدد سے پاکستان دو لخت کر دیا گیا‘ اس دور کی سب سے بڑی مسلم ریاست دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دی گئی نظم ریاست ناکام ہوا 1947ءتا 1971ء24 سالوں کے دوران ہم مل جل کر رہے اور وفاق کو چلانے کا کوئی بھی متفقہ لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکے‘ ملک دو لخت کیوں ہوا؟ اس بارے میں قومی سطح پر کوئی تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی ہم نے کسی قسم کا کوئی بھی سبق سیکھنے کی جسارت نہیں کی۔
تقسیم مملکت کے بعد ہم نے ایک بار پھر نئے عزم و ہمت کے ساتھ سفر کاآغاز کیا ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو حوصلہ دیا‘ وفاق کے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملک کو 1973ءکا ایک متفقہ آئین دیا بہت اعلیٰ کام کیا لیکن 1973ءتا 1977ءچار سالوں کے دوران اس میں 7ترامیم کر ڈالیں‘ بنیادی انسانی حقوق غضب کر لئے‘ سیاستدانوں کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا گیا اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دیا‘ جو سلوک جنرل ایوب خان نے اپنے 1962ءکے آئین کا کیا ویسا ہی سلوک ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے 1973ءکے آئین کے ساتھ کیا‘ بھٹو 
صاحب نے کہا تھا کہ میں نے 1973ءکے آئین کے ذریعے مارشل لاءدفن کر دیا ہے پھرہم نے دیکھا کہ 1977ءکی اپوزیشن کی تحریک کے دوران بھٹو صاحب نے دفن شدہ مارشل لاءکو خود نئی زندگی دی اپوزیشن تحریک دبانے کے لئے ملک کے تین شہروں میں مارشل لاءلگایا‘ فوج کو احتجاجی عوام پر گولی چلانے کا حکم دیا پھرجنرل ضیاءالحق نے 1973ءکے آئین کو چلتا کیا آئینی نظام نہیں چل سکا آئین بنانے والے نے بھی جزوی مارشل لاءکے ذریعے مکمل مارشل لاءکی راہ ہموار کیا جنرل ضیاءالحق گیارہ سال تک 1977ءتا 1988ءاپنے طیارے کے حادثے میں شہادت تک ملک کے سیاہ اور سفید پر غالب رہے‘ ا س کے بعد 1988ءتا 2009ءگیارہ سال تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان سیاست اور اقتدار کا کھیل کھیلا گیا حتی کہ 1999ءمیں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا‘ سیاست ہار گئی‘ آئین پائمال ہو گیا‘ پھر جنرل مشرف نے اقتدار کی اپنی بساط بچھائی نواز شریف اور بے نظیر کو ا قتدار سے نکالے رکھنے کی جدوجہد شروع ہو گئی‘ عمران خان کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا جنرل مشرف سے جنرل باجوہ تک یہی کھیل کھیلا گیا پھر عمران خان نے پرپرزے نکالنے شروع کئے تو انہیں فکس کر کی منصوبہ سازی کی گئی اور اس کے لئے ایک نئے نظام کو تشکیل دیا گیا جس کے بارے میں محسن نقوی صاحب نے فرمایا ہے کہ وہ ڈلیور کرنے میں ناکام رہا ہے‘ جی ہاں کیونکہ یہ نظام جاری سیاسی نظام کسی گہری فکر و سوچ اور بڑے مقصد کے حصول کے لئے قائم نہیں کیا گیا اس لئے اس کے نتائج بھی ایسے ہی نکل رہے ہیں‘ عمران خان کو قید میں رکھنے کے باوجود اس کی فین فالوونگ کم نہیں ہوسکی ہے اس کا بیانیہ بھی اسی طرح موجود ہے موجودہ حاکمین نہ تو عمرانی بیانے کا توڑ کر سکے ہیں اور نہ ہی کوئی اپنا بیانہ قوم کے سامنے پیش کر سکے ہیں‘ ایران امریکہ جنگ نے معیشت کا بٹھہ بٹھا دیا ہے معیشت پہلے ہی ڈانواڈول تھی جسے ٹھیک کرنے کا سنہرا خواب دکھا کر موجودہ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تھا حکمرانوں کی معاشی حکمت عملی نہ تو کسی کی سمجھ میں آ رہی ہے اور نہ ہی عوام کوفائدہ ہو رہا ہے‘ ایسے میں محسن نقوی صاحب کا نظام کی ناکامی کے بارے میں فرمانا بالکل درست ہے لیکن وہ اس ناکامی کو دور کرنے کے لئے جو نسخہ تجویز فرما رہے ہیں وہ ایک بڑی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اس لئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: