یروشلم/کیو : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا کہ ایرانی ساختہ 'شاہد' خودکش ڈرونز اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے ایک سنگین "دردِ سر" بن چکے ہیں۔ ان سستے مگر مہلک ڈرونز کو روکنے میں ناکامی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ہنگامی رابطہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے چند سو ڈالرز مالیت کے چھوٹے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو لاکھوں ڈالرز کے مہنگے میزائل فائر کرنا پڑ رہے ہیں، جو دفاعی بجٹ پر شدید بوجھ بن رہا ہے۔ان ڈرونز کی سست رفتاری اور زمین سے قریب پرواز کی وجہ سے جدید ریڈارز کے لیے انہیں بروقت ٹریس کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے رابطے پر صدر زیلنسکی نے ایران کے ان ڈرونز کے خلاف مؤثر ترین ہتھیار اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یوکرین، جو خود طویل عرصے سے ان ڈرونز کا سامنا کر رہا ہے، اب اس ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنے میں مہارت حاصل کر چکا ہے۔انکشاف ہوا ہے کہ یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ کے 5 اہم ممالک میں ڈرونز کے خلاف نبرد آزما خصوصی فوجی یونٹس تعینات کر دیے ہیں۔ یہ یونٹس ایرانی ڈرونز کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور یوکرین کا یہ نیا فوجی تعاون خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور ایران کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔