Thu, September 17, 2026

بھارتی فوج میں خواتین کی حفاظت کا فقدان، داخلی نظام ناکام ثابت

بھارتی فوج میں خواتین کی حفاظت کا فقدان، داخلی نظام ناکام ثابت

نئی دہلی: بھارتی فوج میں خواتین افسران کے خلاف جنسی ہراسانی، جسمانی حملے اور دھمکیوں کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، جو فوج کی شفافیت اور نظم و ضبط کے دعووں کو سوالیہ نشان بناتے ہیں۔

سنہ 2025 میں پٹیالہ میں ایک میجر نے لیفٹیننٹ کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا، مگر فوجی حکام نے POSH Act کے تحت قانونی کارروائی کے بجائے داخلی انکوائری شروع کی اور متاثرہ پر شکایت واپس لینے کا دباؤ ڈالا۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ دہائی میں خواتین افسران کے خلاف جاری سنگین رجحانات کا حصہ ہے، جن میں کئی کیسز میں عدالت کی مداخلت کے باوجود فوجی احتساب ناکافی رہا۔ سری نگر، میگھالیہ، مدھیہ پردیش اور اوڑیسہ میں بھی خواتین کے خلاف ہراسانی اور جنسی زیادتی کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے۔

فوج میں سینئرز کی طاقت کے غلط استعمال، قانونی تاخیر اور POSH قانون کی عدم تعمیل سے خواتین افسران انصاف کے لیے بے بس ہیں۔ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ فوج میں اصلاحات اور سخت احتساب کی اشد ضرورت ہے تاکہ خواتین افسران کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ٹیگز: