اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں یکساں تعلیمی نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ تعلیم کا منظم اور مساوی ڈھانچہ ہی مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ریکٹر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، اور اسی تناظر میں وزیراعظم نے ان شعبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن کا عوام کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست تعلق ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کا مقصد ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے اصلاحات لانا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور کارکردگی میں شفافیت آئے۔ ان کے مطابق گورننس ریفارمز کے لیے ٹیکنالوجی سب سے اہم عنصر بن چکی ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے ایف بی آر کی متعدد اصلاحات کو بطور کیس اسٹڈی پیش کیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا بنیادی ادارہ ہے، اس میں بہتری ملک کی مالیاتی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے لوکل گورنمنٹ کے کئی سسٹمز کا قریب سے جائزہ لیا ہے اور جب تک مقامی حکومت کے سب سے نچلے درجے کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، گورننس میں نمایاں تبدیلی لانا ممکن نہیں۔