کسی کے متھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ مکار ہے اس کے لچھنوں سے پتہ چلتا ہے کہ بندہ ایک نمبر کا جھوٹا مکار اور فراڈیا ہے دنیا میں کئی فرعون آئے اور مٹی میں مل گئے کیونکہ اچھائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور برائی کو کوئی اچھے لفظوں سے یاد نہیں کرتادنیاوی فرعونوں نے ہمیشہ اپنا قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے اور جنہوں نے اللہ کے احکامات کی پیروی کی وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوئے اور عاقبت بھی سنوار لی آج دنیا کے تین شیطانوں نے ات اٹھائی ہو ئی ہے جو دوسرے ممالک میں ٹانگ اڑا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں امریکی شہ پر اسرائیل نے عرب ممالک کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے غزہ میں بدمعاشی کی تمام حدیں پار کر رکھی ہیں کوئی نہیں جو نیتن یاہو کا ہاتھ روک سکے تیسرے شیطان مودی کی کسی ہمسائے سے نہیں بنتی بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے آئے روز دہشت گردی میں جوان شہید ہو رہے ہیں عام آدمی بھی زندگیاں گنوا رہے ہیں پاکستان سے مرمت کرانے کے بعد اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیااسرائیل ایران سے ”کٹ“ کھانے کے بعد باولا ہو گیا ہے اورغزہ میں خونریزی کررہا ہے اور کوئی نہیں جو اس درندے کا ہاتھ روکے شیطان خود توکوئی کام نہیں کرتا اپنے چیلوں کے ذریعے سے کراتا ہے، صدر ٹرمپ طاقتور ہونے کی وجہ سے بہت سارے ملکوں میں بربادی تباہی کیلئے کام کررہا ہے، کامیاب اور گروشیطان ہونے کی وجہ سے دہشت گرود ں کی پشت پناہی کرتاہے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، دہشت گردی پھیلانا ان تینوںکی اولین ترجیح ہے، یہی چال اب ایران میں کھیلی جا رہی ہے ۔
ہندوستان سے ملکرایران اور افغانستان میںبھی یہی حالات پیدا کر چکے ہیں ان تین مکاروں کی شاطرانہ چال یہ ہے کہ اگر دوسرا ملک نہیں دبتا تو پراکسی وار شروع کر دی جائے جس طرح پچھلے دنوں ایران کے شہر زاہدان میں جوڈیشل کمپلیکس میں حملہ کیا گیا جس میں 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی جہنم واصل ہوئے،دہشت گردوں نے عدالتی کمپاو¿نڈ میں گھس کر ججز کے چیمبرز میں فائرنگ کی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل بھارت اور امریکہ پاکستان کے بعد ایران میں بھی دہشت گردی کی آبیار ی کررہے ہیں حملوں نے ایران میں سلامتی کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں، زاہدان اور سردشت میں ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں کی تحقیقات جاری ہیں اور مقامی حکام ابھی تک ان کے پیچھے کارفرما عناصر کی نشاندہی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، عوامی سطح پر بھی ان حملوں کے بعد تشویش اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے، جبکہ حکومت پر سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے دبا¶ بڑھ رہا ہے،دوسری طرف آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت نے آپریشن مہادیو کے نام پر دوبارہ جعلی مقابلے شروع کر دیئے ہیں، غیر قانونی طور پر زیر حراست پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کرنے کا بھارتی منصوبہ بنایا گیا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی تحریکِ آزادی کو کچلنا چاہتا ہے جو اس کی بھول ہے کیونکہ کشمیری گردنیں تو کٹوا سکتے ہیں لیکن اپنے حق سے کبھی دستبر دار نہیں ہو سکتے بنیا پریشان بھی اسی وجہ سے ہے کہ بارود کے سامنے چھوٹے چھوٹے پتھر ہاتھوں میں پکڑے نوجوان سات لاکھ بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہیں بھارت نا م نہاد آپریشن مہادیو کی آڑ میں اندرون ملک سیاسی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے، جب کہ بھارتی جیلوں میں قید افراد کو مارنے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع بھارتی جیلوں میں 723 پاکستانیوں کی غیر قانونی قید کی تفصیلات بتا چکے ہیں، 56 پاکستانی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی اور جبراً حراست میں ہیں، ان 56 افراد کی تفصیلات بھی ڈی جی آئی ایس پی آر 29 اور 30 اپریل کو بتا چکے ہیں،بھارتی میڈیا کو پہلے ہی سے ان افراد کی لاشوں اور پلانٹڈ ہتھیاروں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا تی ہیں، غیر قانونی حراست میں افراد کو دہشت گرد ظاہر کر کے پاکستان مخالف بیانات بھی دلوائے جا سکتے ہیں،بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں فیک کا¶نٹر سپیشلسٹ کے طور پر بدنام زمانہ ہے، پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن سندور کی ناکامی اور ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت مکمل طور بوکھلا چکا ہے، نیت یاہو کا فری میسن ہا¶س کا نقشہ اور منشور کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، امریکی تھنک ٹینک کا بلوچستان سٹڈی پروجیکٹ اسرائیلی ،بھارتی مفاد کیلئے ہے، منصوبے کے ذریعے اسرائیل بھارتی پراکسیز سے اپنے مقاصد کے لیے کام لے سکتا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی کے شواہد منظر عام پر آگئے، 21 جولائی کو قلات آپریشن میں ہلاک دہشتگرد صہیب لانگو لاپتہ افراد کی لسٹ میں تھا، فتنہ الہندوستان نے دہشتگرد صہیب لانگو عرف عامر بخش کی ہلاکت اور وابستگی کو تسلیم کیافتنہ الہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارم نے دہشتگرد صہیب کو لاپتہ قرار دیا تھا، اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے ہلاک دہشتگرد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے، مارچ 2024 کو گوادر حملے میں ہلاک دہشتگرد کریم جان بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں تھا، نیول بیس حملے میں مارا گیا دہشتگرد عبدالودود بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا جن ثبوتوں کے بعد دنیا کو جان لینا چاہےے کہ تینوں شیطان دنیا کا امن کس طرح تباہ کرکے اپنے مقاصد کرنا چاہتے ہیں اسلامی ممالک کو ان تینوں شیطانوں سے ہوشیار رہنا چاہےے تاکہ ان کی مکاری سے بچا جاسکے۔