Wed, September 16, 2026

آبنائے ہرمز اور بزرگ شیطان

آبنائے ہرمز اور بزرگ شیطان

خلیج کا خطہ ایک بار پھر شعلوں کی لپیٹ میں ہے اوراس تلخ حقیقت کو مزید بے نقاب کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے صلح، مذاکرات اور معاہدے کبھی بھی مستقل پالیسی نہیں رہے بلکہ محض وقتی حربے اور دھوکے کے ہتھیار ہیں۔ جون میں طے پانے والا امریکہ ایران معاہدہ، جس پر خود امریکی صدر نے ورسائی کے شاہی محل میں دستخط کیے تھے، بمشکل تین ہفتے زندہ رہ سکا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ سوال یہ نہیں کہ یہ معاہدہ کیوں ٹوٹا، سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ نے کبھی اسے نبھانے کی نیت بھی رکھی تھی؟ شاید اسی وجہ سے ایران اسے بزرگ شیطان قرار دیتا ہے۔ 
امریکی صدر کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو جھوٹ اور تضاد کی ایک ایسی لڑی سامنے آتی ہے جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے سربراہ کے شایانِ شان نہیں۔ ایک ہی سانس میں وہ جنگ بندی کو ختم قرار دیتاہے اور دوسری ہی سانس میں امن مذاکرات کے جاری رہنے کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ کبھی آبنائے ہرمز کو مکمل کھلا قرار دیا جاتا ہے تو کچھ ہی گھنٹوں بعد وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر مکمل ناکہ بندی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ ایک موقع پر امریکہ نے جہازوں کو زبردستی آبنائے سے گزارنے کی مہم شروع کی، مگر جیسے ہی خلیجی اتحادیوں نے اپنے اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے انکار کیا، یہ مہم شرمناک انداز میں واپس لینی پڑی۔ یہ محض بیانات کی الجھن نہیں بلکہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی ہے۔ جھوٹ پر جھوٹ بولو، موقف بدلتے رہو اور خطے کو مستقل بے یقینی میں رکھو تاکہ اپنے ذاتی اورگروہی مفادات آگے بڑھائے جا سکیں۔ ایک ایسی طاقت جس کا اپنا کہا لفظ اپنے ہی اگلے بیان کی نفی کرتا ہو۔ وہ کسی صورت پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
امریکہ ایران معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا، جبکہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور دونوں فریق منجمد ایرانی اثاثوں سمیت باقی معاملات پر تیس دن میں بات چیت مکمل کریں گے۔ لیکن اسی دوران امریکہ نے چپکے سے عمان کے جنوبی راستے کو فعال کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ جوایران کی خودمختاری اور آبنائے ہرمز پر اس کے قدرتی و تاریخی حق پر حملہ تھا۔آبنائے کا شمالی حصہ، جو تجارتی جہاز رانی کا سب سے اہم راستہ ہے، جغرافیائی طور پر ایرانی پانیوں سے متصل ہے اور کنٹرول کا حق فطری طور پر ایران کو حاصل ہے۔ بین الاقوامی سمندری قانون کے اکثر ماہرین متفق ہیں کہ نام نہاد آزادانہ گزرگاہ کا اصول، جس پر امریکہ اصرار کرتا ہے، کوئی آفاقی تسلیم شدہ عالمی قانون نہیں بلکہ محض مغربی تشریح ہے جسے ایران نے شروع دن سے مسترد کیا ہے۔ امریکہ نے اسی قانونی ابہام سے فائدہ اٹھا کرصلح کی آڑ میں آبنائے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی، جو معاہدے کی روح کے صریح خلاف اور کھلا دھوکا ہے۔
سات جولائی کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں تہران کا واضح موقف تھا کہ وہ بار بار وارننگ کے باوجود ایرانی کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔یہ ایران کا اپنی خودمختار سرحدوں کے دفاع کا حق تھا، نہ کہ کسی جارحیت کا آغاز۔ امریکہ نے اس واقعے کو بہانہ بنا کر ایک ہی ہفتے کے دوران ایران میں تین سو سے زائد اہداف پر بمباری کر ڈالی۔ ایک ایسا غیر متناسب ردعمل جس کا اصل واقعے سے کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا۔ تین جہازوں کے جواب میں تین سو حملے انصاف نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔
اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ کھیل محض آبنائے ہرمز یا تین جہازوں کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ ایک وسیع تر امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پورے خطے کو مستقل عدم استحکام میں دھکیلے رکھنا ہے۔ اس منصوبے کا واضح ثبوت آٹھ جولائی کو گولستان صوبے میں آق تکہ خان ریلوے پل پر کیا جانے والا حملہ ہے، جو آق قلعہ-اینچہ برون ریلوے لائن پر واقع ہے۔ یہ پل اس چین- قازقستان- ترکمانستان راہداری کا حصہ ہے جو ایران کے شمال مشرقی سرحد سے داخل ہو کر گورگان کے راستے تہران تک پہنچتی ہے اور چین کے شہر ژیان سے شروع ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ روٹ کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے امریکی حملے آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی ایران تک محدود تھے، لیکن یہ پل جو کہ آبنائے ہرمز سے تقریباً نو سو میل دور واقع ہے یعنی امریکہ نے جان بوجھ کر ہدف کی حدود بڑھا کر اس تجارتی راستے تک پھیلا دیں جس پر ایران اپنی معیشت بچانے کے لیے انحصار کر رہا تھا۔ گزشتہ ایک سال میں چین سے ایران آنے والی ٹرینوں کی تعداد کم از کم پینسٹھ رہی اور امریکی ناکہ بندی کے بعد یہ تعداد تین گنا ہو گئی۔یہی اضافہ اس راستے کو امریکہ کی نظر میں نیا فوجی ہدف بنا گیا۔ یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ صرف جہاز رانی نہیں بلکہ ایران کو چین اور روس سے جوڑنے والے ہر راستے کو کاٹنا چاہتا ہے، تاکہ اپنی کمزور ہوتی بالادستی اور ڈالر کی ساکھ کو سہارا دے سکے۔ یہ عدم استحکام کوئی حادثاتی نتیجہ نہیں بلکہ امریکی پالیسی کا جوہر ہے۔
اس المیے میں سب سے شرمناک کردار خلیجی ریاستوں، بالخصوص سعودی عرب، قطر، کویت، دبئی اور اردن کا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی معیشتیں اور سلامتی براہِ راست آبنائے ہرمز کی بحالی سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود یہ امریکی موقف کی حمایت پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی اصولی موقف نہیں بلکہ خالص خوف ہے۔ ایک مضبوط اور خودمختار ایران ان بادشاہتوں کو اپنے اقتدار کے لیے ایک خطرہ لگتاہے۔ڈر ہے کہ اس کے نظریاتی اثرات ان کی عوام میں سرایت کر کے موروثی حکومتوں کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ریاستیں، امریکہ کی جانب سے اپنی حفاظت کی ناکامی اور اپنی معیشتوں کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود، امریکہ کے زیرِ سایہ رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔گویا اپنے عوام کے مفاد پر اپنے اقتدار کے تحفظ کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کا تنازعہ محض ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ اس بات کا فیصلہ کن امتحان ہے کہ خطے کے مسلمان ممالک اپنے وسائل اور اپنے مستقبل کے لئے خود مختار فیصلے کر سکتے ہیں یا نہیں۔ جبکہ امریکہ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بدیسی اور دروغ گو طاقت ہے، جس کا ہر معاہدہ عارضی اور ہر بیان قابلِ تنسیخ ہے۔ امریکی اقدامات درحقیقت خطے کے عوام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی عدم استحکام کا شاخسانہ ہیں۔

ٹیگز: