وہ سب لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جن کے بچوں نے میٹرک کے حالیہ امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور وہ لوگ تو دوہری مبارکباد کے حق دار ہیں جن کے بچوں نے پوزیشنیں لی ہیں۔ سب سے زیادہ مبارکباد ان لوگوں کو کہ جن کی بیٹیاں امتحان میں کامیاب ہوئی ہیں۔ حالیہ امتحانی نتائج میں بھی ہر سال کی طرح کامیاب طلبا میں لڑکیوں کا تناسب مجموعی طور پر زیادہ رہا ہے جبکہ پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچے آگے ہیں۔ یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ لڑکیوں اور پسماندہ طبقے کے بچوں میں آگے بڑھنے کی لگن عام بچوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ یہ یقینا ایک مثبت رجحان ہے تاہم اس رجحان کا منفی پہلو یہ ہے عام بچوں بالخصوص لڑکوں میں آگے بڑھنے کی لگن کم ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ غریب اور پسماندہ طبقے کے طلبا امتحانات میں تو اچھے نمبر لے لیتے ہیں لیکن مختلف مسائل کے نتیجے میں ان میں سے بہت کم تعداد اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھ پاتی ہے۔ نتائج آنے پر طلبا کی مدد اور اعانت کے دعوے تو بہت سننے کو ملتے ہیں لیکن ان پر من و عن عمل درآمد کم ہی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انتہائی ہونہار بچے جو میٹرک تک بہت شاندار کارکردگی دکھا رہے ہوتے ہیں یا تو مالی مسائل کی وجہ سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں یا سرے سے ہی تعلیمی عمل سے باہر ہو کر عملی زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اچھے اداروں میں داخلہ نہ لینے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے بچوں کا تعلق اکثر دیہی علاقوں یا دور دراز شہروں سے ہوتا ہے جبکہ بیشتر اچھے ادارے بڑے شہروں میں ہیں جہاں اول تو تعلیمی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں، دوسرا یہ کہ داخلہ ملنے کی صورت میں انھیں ہاسٹل یا کرائے کے گھروں میں رہنا پڑتا ہے جس سے اخراجات دگنا ہو جاتے ہیں جنھیں برداشت کرنا غریب والدین کے بس میں نہیں ہوتا چنانچہ یہ ہونہار بچے مقامی اداروں ہی میں داخلہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ مقامی اداروں میں داخلہ لے کر کوئی پڑھ نہیں سکتا۔ اصل مسئلہ ماحول کا ہوتا ہے۔ ایک تو ان تعلیمی اداروں کا ماحول اور معیار بڑے شہروں کے کالجوں جیسا نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ یہ بچے عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکے ہوتے جہاں انھیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔۔ مقامی کالجوں کے ماحول اور تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں حصہ لینے کے باعث ان بچوں کی چمک دمک وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑنے لگتی ہے۔انھوں نے تعلیم کے میدان میں کامیابیوں کے جو مزید جھنڈے گاڑنا ہوتے ہیں، اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لڑکیوں کی بات کی جائے تو امتحانات میں ان کی کامیابی کا زیادہ تناسب جہاں خوش آئند ہے، وہاں لڑکوں کی ان کے مقابلے میں کم کامیابی لمحہ فکریہ بھی ہے۔ لڑکیاں عام طور پر تعلیم کے میدان میں اپنی کامیابیوں کا تسلسل تو برقرار رکھتی ہیں لیکن فارغ التحصیل ہوتے ہی والدین کو ان کی شادی کی فکر دامن گیر ہونے لگتی ہے جس کے باعث بہت سی لڑکیاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں آتی ہی نہیں اور جو آجاتی ہیں ان میں سے بیشتر کی شخصیت بھی گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں منقسم رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے دیگر سماجی مسائل کے باعث وہ اپنی سو فی صد کارکردگی کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکتیں۔ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اب ملک کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب کہیں زیادہ ہے لیکن جس رفتار سے وہ کامیابیاں اپنے نام کر رہی ہیں اس نسبت سے بہت کم ہے۔ خواتین کو اور زیادہ ورک فورس میں آنا چاہیے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے کہ اگر خواتین فارغ التحصیل ہونے کے بعد
گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح نہ دیں۔ دوسری طرف لڑکوں میں ناکامی کا تناسب زیادہ ہے اور جو کامیاب ہو رہے ہیں وہ بھی کم نمبر لے کر۔ نتیجے کے طور پر انہیں اچھے تعلیمی اداروں اور مسابقتی مضامین میں داخلہ نہیں ملتا چنانچہ بیشتر لڑکے اوسط درجے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اوسط درجے ہی کی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس قسم کی ملازمت کرنے میں یوں تو کوئی حرج نہیں کہ اس سے بھی کوئی نہ کوئی کاروبار تو چلتا ہے اور کسی نہ کسی گھر کا چولھا بھی جلتا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں گھر درای کے سبب، غریب طبقے کے ذہین لڑکے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اور متوسط طبقے کے لڑکے تعلیم کی طرف توجہ نہ دینے کے باعث پُرکشش ملازمتوں تک رسائی سے محروم رہ جاتے ہیں تو پھر یہ میدان مراعات یافتہ طبقے کے لیے کھلا رہ جاتا ہے جس کا مطمع نظر ہی ملک کے تمام وسائل اور طاقت کے تمام مراکز پر اپنا تسلط برقرار رکھنا ہے۔ چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ متوسط اور پسماندہ طبقے کے لڑکوں کی اعلیٰ مسابقتی تعلیم تک رسائی ہو جس کے لیے ان میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنا اشد ضروری ہے۔ متوسط اور پسماندہ طبقے کے نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا شوق پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین بیٹیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹوں کی تعلیم میں بھی خصوصی دلچسپی لیں۔ انھیں کامیابی پر انعام کا لالچ دیں۔ ان پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ کم سے کم ڈالیں اور تعلیم کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔ کھیلوں اور دیگر صحت مند سرگرمیوں میں شرکت سے روکنے کی بجائے ان میں حصہ لینے پر حوصلہ افزائی کریں تاکہ ان سرگرمیوں کے تعلیمی عمل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں اور وہ تعلیمی میدان میں زیادہ سے زیادہ کامیابیاں حاصل کر کے نہ صرف اپنے طبقات کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوں بلکہ لوگوں کی محرومیوں کا بھی ازالہ کر سکیں۔ متوسط طبقے کے لڑکوں کی تعلیمی کامیابیوں کا تناسب اگر اسی طرح کم ہوتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ ہمارے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی پیدا ہو جائے گی۔ میٹرک کے حالیہ نتائج کے نتائج آنے والے وقت میں اچھے نہیں ہوں گے۔