Wed, September 16, 2026

کراچی: انٹر سال اول کے نتائج پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ حکومت کے زیر غور، کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا

کراچی: انٹر سال اول کے نتائج پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ حکومت کے زیر غور، کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا

کراچی: سندھ حکومت نے کراچی کے انٹر سال اول کے کم امتحانی نتائج کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ تو وصول کر لی ہے، لیکن اس پر ابھی تک کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ اور والدین کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کراچی کے انٹر سال اول کے پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے غیر معمولی کم نتائج کے بعد طلبہ نے احتجاج شروع کیا، اور اس معاملے کو سندھ اسمبلی میں بھی اُٹھایا گیا۔ جنوری میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ کی زیر قیادت ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ 12 فروری کو حکومت کو پیش کی، لیکن اب تک اس پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کراچی اور سندھ کے دیگر تعلیمی بورڈز کے نتائج، داخلہ پالیسی، نصاب اور امتحانی عمل میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں اہم نکات شامل ہیں:

    نتائج میں غیر معمولی فرق: کراچی کے پری میڈیکل کے نتائج کی شرح 36 فیصد اور پری انجینئرنگ کے 29 فیصد رہی، جبکہ سندھ کے دیگر بورڈز میں یہ شرح کہیں زیادہ تھی، حالانکہ نصاب اور امتحانی پیٹرن ایک جیسے تھے۔

    داخلہ پالیسی میں تبدیلی: 2022 سے قبل 50 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ کو سائنس گروپ میں داخلہ نہیں دیا جاتا تھا، مگر اب 40 فیصد والے طلبہ کو بھی داخلہ دیا جا رہا ہے، جس سے نتائج کی شرح میں مسلسل کمی آئی ہے۔

    نصاب میں خامیاں: فزکس کی کتاب میں ریاضی کے پیچیدہ تصورات (Calculus) شامل کر دیے گئے ہیں، جو طلبہ نے پہلے نہیں پڑھے تھے، اور کچھ موضوعات انٹر سال دوم کے ہونے چاہییں تھے مگر ان کو سال اول میں شامل کر دیا گیا۔

    امتحانی عمل میں بے ضابطگیاں: امتحانی کاپیوں کی جانچ میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ہزاروں کاپیاں اساتذہ نے گھروں پر چیک کیں، جبکہ بعض جگہوں پر نرمی برتی گئی اور بعض پر سختی کی گئی، جس سے مارکس میں فرق آیا۔

اب تک 27 ہزار 700 طلبہ نے اپنی مارکس کی اسکروٹنی کے لیے درخواستیں دی ہیں، مگر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر کسی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک نتائج کے منتظر ہیں۔ مزید یہ کہ 28 اپریل سے نئے امتحانات شروع ہونے جا رہے ہیں اور طلبہ کو اس بات کا علم نہیں کہ انہیں کون سے پرچے دوبارہ دینے ہوں گے۔

رپورٹ میں چند اصلاحات کی تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں امتحانی عمل میں شفافیت کے لیے تین ڈپٹی چیئرمین کی تعیناتی، اساتذہ کو جانچ کے مناسب معاوضے کی فراہمی، اور سکروٹنی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت شامل ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اور والدین میں مزید بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ٹیگز: