محترم فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب!
محترم وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب!
السلام علیکم!
یہ خط کسی مخصوص سیاسی جماعت، مسلک یا ذاتی مفاد کے تحت نہیں، بلکہ ایک عام پاکستانی شہری کی صدائے احتجاج ہے، ایک ایسے شخص کی فریاد جسے اس ریاست نے ہر موڑ پر مایوس کیا، ہر موڑ پر لٹا، ہر قانون میں پچھاڑا، اور اب ایسا قانون لایا گیا کہ جیسے عوام کا زخم مزید گہرا کر دیا گیا ہو۔
جناب والا!
ہمیں تو پہلے ہی شکوہ تھا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام طاقتور کے لیے اور ہے، اور کمزور کے لیے اور۔ مگر 2024 کی نیب ترمیمی قانون سازی نے تو اس تفریق کو آئینی شکل دے دی۔ نیب کا دائرہ اختیار محدود کر دیا گیا۔ اب نیب صرف ان کیسز کی تحقیق کرے گا جہاں کرپشن یا مالی بدعنوانی پچاس کروڑ روپے سے زیادہ ہو۔ پچاس کروڑ سے کم کی چوری، فراڈ یا غبن؟ جی نہیں، وہ نیب کا مسئلہ نہیں۔ اب وہ پولیس، اینٹی کرپشن یا کسی اور ادارے کے حوالے۔ گویا یہ قانون سازی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اگر آپ نے بدعنوانی کرنی ہے، تو پچاس کروڑ سے کم کریں — آپ محفوظ ہیں!یہ کون سا اصولِ عدل ہے؟ یہ کیسی فہم و فراست ہے؟اور یہ سوال ہم جیسے عام پاکستانی کریں تو کس سے کریں؟ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ان لوگوں سے، جو خود اربوں کے کیسوں میں نامزد ہیں؟ یا نیب سے، جسے اب صرف بڑے مگرمچھوں کے کیس دیکھنے کا حکم دیا گیا ہے — مگر وہ بھی 'چُن چُن کر'؟
جنرل صاحب!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس ملک کے لاکھوں شہری، خصوصاً بزرگ، بیوائیں، ریٹائرڈ ملازمین، محنت کش مزدور، اور اوورسیز پاکستانی روزانہ کس طرح ہا¶سنگ سوسائٹیز میں فراڈ کا شکار ہوتے ہیں؟ ان کے لاکھوں، کروڑوں روپے لوٹ لیے جاتے ہیں۔ ان کے خواب برباد، ان کی زندگیاں تاریک کر دی جاتی ہیں۔یہ کرپشن ہے یا نہیں؟یہ لوٹ مار نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں نہیں آتی؟یہ مظلوم لوگ کہاں جائیں؟ پولیس کے پاس؟ جس کی اپنی شہرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں؟ اینٹی کرپشن کے پاس؟ جس کا حال اور بھی بُرا ہے — رشوت، سفارش، فائل دبانے کا کلچر! کیا یہ قانون سازی کسی عوامی مفاد میں ہوئی؟ ہرگز نہیں!اس قانون سے فائدہ صرف اُن ''معزز'' چوروں کو ہوا جنہوں نے لاکھوں نہیں، بلکہ ''پچاس کروڑ سے کم'' کی حد میں چوری کی، اور اب وہ مسکرا کر ملک میں گھوم رہے ہیں۔ اب نیب اُن کے پیچھے نہیں آئے گا۔ اب وہ قانون کے ''محفوظ زون'' میں ہیں۔
جناب وزیراعظم!
آپ کا تعلق محنت کش عوام سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آپ کی سیاست عوامی خدمت کے دعووں سے بھری پڑی ہے۔ تو پھر آپ نے اس عوام دشمن قانون کو کیسے منظور کیا؟ کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ ترمیمی قانون ایسے ہے جیسے: ''گھوڑا چوری کرنے والے کو سلام،اور انڈا چوری کرنے والے کو نیب حوالات!'' اس قانون کا اصل مطلب یہ ہے: “اگر تم بڑے چور ہو، تو تمھارے لیے نیب ہے۔ اگر تم چھوٹے چور ہو، تو تمھیں معمولی ادارے نمٹائیں گے — مگر یہ چھوٹے چور اکثر عوام نہیں، بلکہ وہ 'گاہک' ہوتے ہیں جنہیں فراڈ کر کے چونا لگایا گیا ہوتا ہے۔”
جنرل صاحب!
اگر آپ واقعی اداروں کی بحالی کے علمبردار ہیں، اگر آپ واقعی ''ریاست بچا¶'' کے نعرے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں، تو پھر یہ قانون سازی واپس لیجیے۔ یہ قانون صرف مخصوص طبقات کے مفاد کے لیے ہے۔ عام آدمی کے لیے نہیں۔ یہ ترمیم غریب اور متوسط طبقے کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔
جناب وزیراعظم!
آپ سے بھی گزارش ہے، التجا ہے کہ آپ اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے اس قانون پر نظر ثانی کریں۔ یہ قانون انصاف کا خون کرتا ہے۔ یہ قانون غریب کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ قانون پاکستان کے اس وعدے کے خلاف ہے جو قائد اعظم نے دیا تھا — ''پاکستان میں سب برابر ہوں گے، قانون سب کے لیے ایک ہوگا۔'' مگر یہاں تو قانون خود کہہ رہا ہے کہ: “اگر تمھاری چوری پچاس کروڑ سے کم ہے، تو تمھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔” یہ نہ صرف اخلاقی پستی ہے، بلکہ آئندہ کے لیے چوروں کو ترغیب ہے کہ بس اپنی چوری کو پچاس کروڑ کی حد سے نیچے رکھو، اور نیب کو آرام دو۔
جنرل صاحب!
کیا اب آپ بھی ''خاموشی'' کو پالیسی سمجھتے ہیں؟ کیا اب آپ بھی اسی خاموش تماشائی کا کردار ادا کریں گے جس نے ہمیشہ ان چوروں کو موقع دیا کہ وہ قوانین میں اپنے لیے راستے نکال لیں؟ ہم عوام اب تنگ آچکے ہیں۔ یہ ملک اسی وقت بچے گا جب یہاں ہر جرم پر ایک جیسا احتساب ہوگا — خواہ وہ چوری ایک لاکھ کی ہو یا ایک ارب کی۔ لہٰذا ہم آپ سے پکار پکار کر مطالبہ کرتے ہیں: نیب ترمیمی قانون میں سے ''پچاس کروڑ'' کی حد کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام مالی بدعنوانی، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، نیب کے دائرہ اختیار میں دوبارہ لائی جائے۔ عوام کو انصاف کے لیے پولیس، انٹی کرپشن، یا تھانوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ہا¶سنگ سوسائٹیز میں ہونے والی بدعنوانی کے لیے ایک علیحدہ خصوصی سیل بنایا جائے۔ یہ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس کا قانون، اس کا احتساب، اس کا نظام صرف طاقتور کے لیے نہیں، ہر شہری کے لیے ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب عوام خود سوال کرے گی کہ: ''کیا پاکستان صرف امیروں کے لیے ہے؟'' ''کیا قانون صرف ارب پتی مجرموں کی سہولت کے لیے بنایا جاتا ہے؟'' ''کیا انصاف صرف طاقتور کے لیے محفوظ ہے؟'' ہم منتظر ہیں آپ کے ردعمل کے،اور دعا گو ہیں کہ آپ یہ سوالات سننے کا حوصلہ رکھیں۔
والسلام
ایک سوال کرنے والا پاکستانی شہری