Wed, September 16, 2026

پی آئی اے: دانستہ زوال اورنجکاری!

پی آئی اے: دانستہ زوال اورنجکاری!

پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن محض ایک فضائی کمپنی نہیں تھی بلکہ ریاستِ پاکستان کی انتظامی صلاحیت، قومی وقار اور معاشی خودمختاری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ یہ وہ ادارہ تھا جس نے 60 اور 70 کی دہائی میں نہ صرف پاکستان کو عالمی فضائی نقشے پر نمایاں کیا بلکہ خطے کی کئی ابھرتی ہوئی ایئرلائنز بشمول ایمریٹس اور قطر ایئرویزکے لیے فنی مہارت، تربیت اور آپریشنل ماڈلز کی بنیاد فراہم کی۔ مگر آج یہی ادارہ 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد ایک ایسی مثال بن چکا ہے جو ریاستی پالیسی، اشرافیہ کی معیشت اور نیو لبرل نجکاری ماڈل کے تضادات کو پوری طرح بے نقاب کرتا ہے۔
پی آئی اے کا زوال کسی اچانک حادثے یا مارکیٹ کی ناگزیر منطق کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ایک طویل المدتی، دانستہ اور پالیسی پر مبنی عمل تھا۔ عشروں تک سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیاں، اقربا پروری، مہنگے لیز معاہدے، ناقص روٹ مینجمنٹ اور میرٹ کی مسلسل پامالی نے ادارے کو اندر سے کھوکھلا کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی ایئرلائن انڈسٹری پیشہ ورانہ خودمختاری اور کارپوریٹ گورننس کی طرف بڑھ رہی تھی، پی آئی اے کو سیاسی حکومتوں نے ایک انتظامی یتیم بنا دیا۔
 یہ عمل محض نااہلی نہیں بلکہ یہ انٹرنیشنل ڈی ویلیویشن کی کلاسیک مثال ہے۔ یعنی پہلے کسی ادارے کی سروس، ساکھ اور مالی حیثیت کو بگاڑا جائے، پھر اسے ناقابلِ اصلاح قرار دے کر نجکاری کے لیے پیش کیا جائے۔ عالمی سیاسی معیشت میں یہ ماڈل پہلے بھی دیکھے جا چکے ہیں۔ جہاں ریاستیں قومی اثاثوں کو کمزور کر کے مخصوص سرمایہ دار گروہوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے مستفید ہونے والے ممالک ارجنٹینا، یونان، لاطینی امریکا (ممالک) اور سری لنکا کلاسیک کیس سٹڈی ہیں۔ اب پاکستان بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ قومی ائر لائن کے ساتھ بھی بالآخر یہی ہوا۔ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص نجی شعبے کو منتقل کر دیئے گئے، جبکہ حکومت نے 25 فیصد حصہ اپنے پاس رکھا۔ بظاہر یہ دعویٰ کیا گیا کہ نجکاری سے قومی خزانے کو فوری ریلیف ملے گا اور ادارہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر چل سکے گا۔ ایوی ایشن اور خود سرمایہ داری معاشی ماہرین کے نقطہ نظر سے اگر اس سودے کو تکنیکی اور مالی زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نظر آتی ہے۔
سب سے بنیادی سوال قیمت کا ہے۔ جس ادارے کے پاس قیمتی بین الاقوامی روٹس، محدود اور مہنگے لینڈنگ و ٹیک آف سلاٹس، تربیت یافتہ انسانی سرمایہ، تکنیکی انفراسٹرکچر، فلائٹ کیٹرنگ، گرا¶نڈ ہینڈلنگ اور قیمتی رئیل سٹیٹ اثاثے موجود ہوں کیا اس کی حقیقی قدر وہی ہو سکتی ہے جو نجکاری کے عمل میں ظاہر کی گئی؟ بین الاقوامی ہوابازی کے ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ صرف یورپ، برطانیہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک کے روٹس اور سلاٹس کی مارکیٹ ویلیو ہی نجکاری سے حاصل شدہ رقم سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔ اس میں اگر برانڈ ایکویٹی اور انسانی سرمائے کی قدر شامل کر لی جائے تو فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔
اس تضاد کو مزید سنگین بناتی ہے وہ حقیقت جسے اکثر سرکاری بیانات میں پسِ پشت ڈال دیا گیا۔نجکاری کے باوجود پی آئی اے کے تاریخی قرض اور واجبات حکومتِ پاکستان نے خود اپنے ذمے رکھے ہیں۔ یعنی ادارے کے منافع بخش اثاثے نجی ہاتھوں میں منتقل ہو گئے، جبکہ اربوں روپے کے قرض، سودی واجبات اور قانونی ذمہ داریاں ریاست کے پاس رہ گئیں یعنی عوام پر۔یہ ماڈل معاشیات میں ایک معروف مگر متنازع تصور کی نمائندگی کرتا ہے ”یعنی منافع نجی شعبے کا، خسارہ عوام کا“۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں پی آئی اے کی نجکاری محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں رہتی بلکہ ایک ریاستی اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔ اگر حکومت نے پہلے ہی قرض اتارنا تھا، ادارے کو ”کلین بیلنس شیٹ“ دینا تھی اور مستقبل کی ذمہ داریاں بھی خود اٹھانا تھیں تو پھر قوم کو اصل میں کیا حاصل ہوا؟ کیا یہ سودا واقعی عوامی مفاد میں تھا یا یہ محض اثاثوں کی منتقلی کا ایک منظم عمل تھا؟۔
نجکاری کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ریاستیں ایئرلائنز نہیں چلا سکتیں۔ مگر یہ دلیل خود عالمی حقائق سے متصادم ہے۔ قطر ایئر ویز، ایمریٹس، ترک ایئرلائنز، چائنا سدرن اور سنگاپور ایئرلائن جیسے ادارے آج بھی ریاستی سرپرستی میں نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ منافع بخش بھی ہیں۔صرف 2024 میں ایمرٹس کا منافع 6 ارب ڈالر جبکہ قطر ائر ویز کا منافع 1.2 ارب ڈالر رہا۔ سرکار کی سرپرستی میں چلنے والی ائر لائنز دنیا کی دس بڑی ائر لائنز میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کی کامیابی اور منافع کی تفصیلات انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں حکومت پالیسی تک محدود رہتی ہے اور روزمرہ انتظامی امور پیشہ ور ماہرین کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہاں اداروں کو دانستہ کمزور نہیں کیا جاتا تاکہ بعد میں انہیں سستے داموں بیچا جا سکے۔
پی آئی اے کے معاملے میں اصل ناکامی نجکاری نہیں بلکہ گورننس کی ناکامی نظر آتی ہے۔ اگر ادارے کو بروقت خودمختاری، شفافیت اور احتساب فراہم کیا جاتا تو آج اسے فروخت کرنے کے بجائے اسے ایک سٹرٹیجک قومی اثاثے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایسا نہ کیا گیا، کیونکہ مسئلہ کارکردگی نہیں بلکہ مخصوص کنٹرول اور مفاد تھا۔
نتیجتاً پی آئی اے کی نجکاری پاکستان کی ریاستی سمت کا ایک علامتی اظہار بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کس طرح قومی اثاثوں کو پہلے کمزور کرتے ہیں۔ پھر ان کی کم قیمت لگاتے ہیں اور آخرکار انہیں اس انداز میں فروخت کرتے ہیں کہ قرض، بوجھ اور ذمہ داریاں عوام کے حصے میں آتی ہیں۔
اگر اس ماڈل پر روش قائم رہی تو پھرآپ کو یہی منطق باقی قومی اداروں کی نج کاری میں بھی روبہ عمل دکھائی دے گی ۔ریلوے، توانائی، سٹیل مل یا انشورنس سیکٹر سمیت کئی ادارے مخصوص کنٹرول میں جاتے نظر آئیں گے۔ پی آئی اے کی کہانی دراصل ایک ایئرلائن کی نہیں،بلکہ ریاستی ترجیحات کے زوال کی کہانی ہے۔سوال اب یہ نہیں کہ پی آئی اے نجی ہاتھوں میں چلی گئی۔ سوال یہ ہے کہ جن سیاسی پارٹیوں اور انتظامی افراد نے اس قومی ادارے کو زبوں حالی کا شکار کیا، کیا انھیں احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ کیا ریاست کے موجودہ ذمہ داران اس نجکاری کے بدلے قوم کو اس کی حقیقی قیمت دلا سکے؟اور اگر نہیں، تو یہ نجکاری نہیں بلکہ ایک قومی اثاثے سے خاموش معاشی دستبرداری ہے۔ ان سوالات پر سوچنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔

ٹیگز: