Wed, September 16, 2026

علامتوں کا زوال

علامتوں کا زوال

دوستو وسکی نے 1873 میں قدامت پسند ہفت روزہ " دی سٹیزن" میں اپنے دوستوں کے اصرار پر بحیثیت مدیر کام شروع کر دیا لیکن یہ سلسلہ ان کے مزاج کے خلاف ہونے کی وجہ سے چل نہ سکا۔ ایک ہی سال میں کام کے میکانیکی انداز اور بے رنگی کی وجہ سے اس نے بد دل ہو کر استعفیٰ دے دیا۔ 1876 میں حالات کی تبدیلی کے بعد اس نے اسی ہفت روزہ میں ایک قلم کار کی ڈائری (Dairy of a writer) کے عنوان سے کالم لکھنے کا آغاز کیا۔ اس بار ان کے قلم کی ذمہ داری ہر تحدید سے آزاد تھی۔ دوستو فسکی نے آزادانہ لکھا۔ اب وہ ہر موضوع پر پابندیوں سے آزاد ہو کر لکھ سکتا تھا۔ اس کے مضامین میں معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ مذہبی رجحانات معاشی درجہ بندی اور سیاسی ریشہ دوانیوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ 
اس نے 1878 میں لکھا کہ اس کی تحریروں کا مقصد اپنے ہم وطنوں کے دلوں اور دماغوں میں جھانک کر اندازِ فکر کی قدر و قیمت کا تعین کرنا ہے۔ گلی کوچوں میں مٹر گشت کرنے والوں اور بھیڑ میں پھنسے تنہا لوگوں کے جذبات و احساسات کا اس نے گہرائی سے مطالعہ کیا اور اپنی تحریروں میں بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا۔اس نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ لوگ اپنی رواں روسی زبان میں بات چیت کرنے کی بجائے ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی زبان میں بات چیت کرنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ اس کے نزدیک یہ احساس کمتری ہی نہیں حب الوطنی کا فقدان بھی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ جھوٹ بولنا لوگوں کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے اور بناوٹ سے کام لینا زندگی کا لازمی جزو۔ لوگوں کی اکثریت انتقام پسند طبیعت کی حامل ہے اور ہر شے تہس نہس کرنے کے در پے نظر آتی ہے۔
دوستو وسکی کے نزدیک اس نوعیت کے طرز عمل کی وجہ یہ تھی کہ لوگ شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ یہ identity crisis انھیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو منوانے میں ناکام ہو کر بے شناختی کے مسائل سے دو چار ہو چکے ہیں۔ ان امراض سے نمٹنے کے لیے اس نے بڑی مہارت سے تجاویز پیش کیں جن میں فرد اور ریاست کے مفادات کو ایک کرنا اور انھیں ایک شناخت پر متحد کرنا ضروری تھا۔ شناخت کے مسئلے کا شکار لوگ سب سے پہلے اپنی زبان سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہیں سے ان کی زندگی کی تشریح اور تفسیر بدل جاتی ہے پھر یا تو خود پورے سماج کے نامیاتی ڈھانچے سے الگ کھڑے ہو جاتے ہیں یا کم از کم ایسا سمجھنے لگتے ہیں۔ دوستو وسکی نے اپنی زبان سے لگاؤ اور اس پر اعتماد رکھنے کے عمل کو حب الوطنی سے جوڑا ہے۔ ساتھ ہی زبان سے لا تعلقی کو لوگوں کے بناوٹی رویوں کی بنیاد بھی قرار دیا ہے۔در اصل زبان اپنی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ قدریں رویوں کو جنم دیتی ہیں اور یہی رویے زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔ کسی معاشرے کے فیشن کے پیچھے بھی اس کے زبان و بیان کا بنیادی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔
 ہم جس مخلوط کلچر میں زندگی گزار رہی ہیں اسے مخلوط سے زیادہ کنفیوز کہنا مناسب ہو گا۔ یہاں گاؤں دیہات اور کئی چھوٹے شہروں میں جنم لینے والے بچوں کو پیدائشی طور پر انگریز ثابت کرنے کی خواہش میں پہلے دن سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی سنائی جاتی ہے۔ اس غیر تخلیقی رویے اور بناوٹی طرزِ زندگی کی سب سے بڑی وجہ اپنی زبان سے بے اعتنائی برتنا معلوم ہوتی ہے۔ یا اس کا دوسرا مقصد مستقبل میں ملک سے فرار ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ کسی دوسرے ملک جانا کوئی معیوب بات نہیں لیکن آپ اس شکست خوردہ ذہنیت کا اندازہ کیجے جو اپنے ملک میں جنم لینے والے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد اس دیس کے لیے پرایا تصور کر لیتی ہے۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ ہم اپنی آب و ہوا، زمین، اس کے وسائل اور محرکات کے کتنے محرم ہیں اور اس کے مسائل کو کس حد تک سمجھ سکتے ہیں یا ان کا حل تلاش کرنے کی کتنی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ جب تک لوگ اپنی شناخت کے بحران کا شکار ہو کر نظریاتی اور فلسفیانہ درآمدات پر انحصار کرتے رہیں گے، اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا اور وسائل کا بہترین استعمال ان کی دسترس سے باہر رہے گا۔  بناوٹ اور جھوٹ فیشن کی طرح پھیلتا نظر آئے گا۔ لوگ اپنی رواں زبان کے مقابلے میں ٹوٹی پھوٹی مغربی زبان بولتے نظر آئیں گے۔
ہمارے نزدیک کوئی بھی زبان نہ تو تعصب کی بنیاد ہونی چاہیے اور نہ ہی اسے کسی فضیلت کا پیمانہ قرار دینا چاہیے۔ یہ بات بڑی سادہ ہے کہ زبان سوچنے اور سمجھنے کا بنیادی وسیلہ ہوتی ہے۔ یہ زندگی کے خارجی عوامل سے انسان کا ذہنی اور فکری رابطہ قائم کرتی ہے۔ زبان کے انتخاب میں کم از کم ان عوامل کو ضرور اہمیت دینی چاہیے جو فطری طور پر اس کی تشکیل اور اس کی تخلیق میں کار فرما ہوتے ہیں۔ کسی خطے کی آب و ہوا، زمینی موجودات، پیشے، روایات اور اس کے تہذیبی و ثقافتی عناصر سے قطع تعلق رہ کر اس کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔ ایک انسان کے لیے اسی فطرت کی تسخیر ممکن ہے جس کا میدان اس کے حصے میں آیا ہے وہ اسی فضا کے ماحولیاتی عناصر سے ہم کلام ہوتا ہے جس میں وہ زندگی گزار رہا ہو اور اس کا انھی حقائق اور محرکات سے پالا پڑتا ہے جہاں جو اس کی زمین پر وجود پاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ارد گرد کی چیزوں کا شناور انھی علامتوں کے ذریعے بن سکتا ہے جو اس کی اپنی ہوں۔  ایسی صورت میں اپنی زبان سے اجنبیت کا نتیجہ غور و فکر کی صلاحیت کو سلب کرتا ہے اور غیر تخلیقی رویوں کو جنم دیتا ہے۔ معاشرہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور بناوٹ ترقی سمجھی جاتی ہے۔

ٹیگز: