سچ اور جھوٹ دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو انسانی و قومی شخصیت اور معاشرے کی بنیاد طے کرتے ہیں۔ سچ روشنی کی مانند ہے جو دل و دماغ کو منور کرتا ہے، جبکہ جھوٹ اندھیرا ہے جو اعتماد اور سکون کو نگل لیتا ہے۔ سچ وقتی طور پر کڑوا ضرور لگتا ہے، مگر اس کی جڑیں دیرپا ہوتی ہیں، جب کہ جھوٹ لمحاتی آسائش تو دیتا ہے مگر آخرکار حقیقت کے سامنے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ آسان جھوٹ پر سچ کی مشکل راہ کا انتخاب کرے۔اسی طرح دنیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب طاقت کے سب نعروں کے باوجود حقیقت کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی آج اسی بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’آپریشن سندور‘‘ کی ناکامی محض ایک عسکری حادثہ نہیں، بلکہ ایک ذہنی و سفارتی شکست کا استعارہ بن چکی ہے۔ وہ رہنما جو کبھی ’’نیا بھارت‘‘ کے نعرے کے ساتھ عالمی افق پر چمکتا تھا، اب ایک محتاط خاموشی کے پردے میں پناہ لیے ہوئے ہے۔آسیان سمٹ 2025 ء میں مودی کی غیر حاضری، اور اسے دیوالی کی مصروفیات کا نام دینا، کسی حکمتِ عملی سے زیادہ خوف کی علامت محسوس ہوتا ہے ۔وہ خوف جو اس وقت جنم لیتا ہے جب طاقت کا بھرم حقیقت کی روشنی میں چکناچور ہو جائے جبکہ سفارتی محاذ پر یہ خاموشی ایک اعلان ہے کہ بھارت کا جارحانہ بیانیہ اب اپنے ہی بوجھ سے لرزنے لگا ہے۔
’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد مودی حکومت کا عسکری اعتماد زمین بوس ہوا۔ وہی ملک جو خود کو خطے کا محافظ سمجھتا تھا، اب اپنے میڈیا کو کنٹرول کر کے، پروپیگنڈے کے ذریعے شکست کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر خاموشی اکثر شور سے زیادہ کچھ کہہ جاتی ہے، اور دنیا اب اس شور کو صاف سن رہی ہے۔ آسیان میں غیر حاضری، جی-7 میں محدود شرکت، اور سفارتی دوروں کی منسوخی یہ سب عوامل اس بات کے شاہد ہیں کہ نئی دہلی کی آواز دھیرے دھیرے مدھم پڑ رہی ہے۔امریکہ کے ساتھ تعلقات کی دراڑ نے اس کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ روس سے تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں اور نئی امریکی محصولات نے بھارتی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے مودی کی خفیہ یقین دہانیاں جب وزارتِ خارجہ نے عوامی سطح پر مسترد کیں، تو یہ تضاد بھارت کی ساکھ کے لیے ایک زلزلہ ثابت ہوا۔ دنیا نے محسوس کیا کہ ’’نیا بھارت‘‘ دراصل پرانے تضادات کا نیا چہرہ ہے ۔ ایک ایسا ملک جو داخلی کمزوریوں کو سفارتی چالوں سے ڈھانپنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مودی حکومت کا سب سے بڑا بحران اب بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ ملک کے اندر مذہبی تقسیم گہری ہو چکی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد عام ہے، کسان احتجاجات پھر سے سر اٹھا رہے ہیں، اور معیشت کی رفتار کمزور نبضوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ مودی کا بیانیہ، جو کبھی قوم پرستی اور ترقی کے امتزاج پر کھڑا تھا، اب خود اپنی بنیادوں سے لڑ رہا ہے۔ سفارتی خاموشی اگرچہ وقتی پناہ گاہ بن سکتی ہے، مگر تاریخ جانتی ہے کہ خاموشی شکست کی سب سے گہری تصدیق ہوتی ہے۔بھارتی میڈیا اب بھی مودی کی غیر حاضری کو حکمتِ عملی کا رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے جبکہ دوسری جانب تجزیہ کاروں کو مدعو کر کے بتایا جاتا ہے کہ ’’وزیرِ اعظم سوچ سمجھ کر خاموش ہیں‘‘۔ مگر بین الاقوامی برادری اس خاموشی کو پسپائی سمجھ رہی ہے۔ وہ مودی جو کبھی اقوامِ متحدہ، جی-20 اور برکس فورمز پر گھن گرج کے ساتھ بیانات دیتے تھے، آج کیمروں سے گریزاں ہیں۔ وہ رہنما جو کبھی ’’ویژنری‘‘ کہلاتا تھا، اب اپنے ہی بیانیے کے سایوں میں الجھ چکا ہے۔
مودی حکومت کا یہ زوال صرف شخصی نہیں، بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ نیپال، سری لنکا، اور بنگلہ دیش جیسے قریبی ممالک چین کی سمت جھک رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم (سارک) برسوں سے تعطل کا شکار ہے، اور بھارت اس میں کوئی نئی جان ڈالنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ جو ملک کبھی پورے خطے کا رہنما بننے کے خواب دیکھتا تھا، اب سفارتی تنہائی کے اندھیروں میں اپنے نقش ڈھونڈ رہا ہے۔عالمی سطح پر مودی کی سیاست اب ’’حاضر دماغ رہنما‘‘ کی بجائے ’’خاموش مبصر‘‘ کا تاثر دے رہی ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے مضمر نہیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اندرونی بحران کی آئینہ دار بن چکی ہے۔ مذہبی تقسیم، معاشی سست روی، اور عوامی بے چینی نے اس حکومت کے ستونوں کو ہلا دیا ہے۔ وہ حکومت جو خود کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری تجربہ کہتی تھی، آج اپنے ہی شہریوں کے سوالوں سے خوفزدہ ہے۔ اب مودی کی سفارتی خاموشی ایک سیاسی لائحہ عمل نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی پناہ گاہ بن گئی ہے ، جیسے ایک رہنما اپنے ہی خوابوں کی راکھ پر بیٹھا سوچ رہا ہو کہ غلطی کہاں سے ہوئی ہے۔دنیا کا مزاج اب بدل چکا ہے۔ خاموشی اب جواب نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اقرار بن جاتی ہے۔
طاقت کا زمانہ اب تاثر سے نہیں، شفافیت سے ناپا جاتا ہے۔مودی کے سامنے سوال یہ نہیں کہ وہ کب کسی عالمی اجلاس میں شریک ہوں گے، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ جائیں گے تو کیا دنیا ان کی بات پر یقین کرے گی؟ ’’سندور‘‘ کی بازگشت ابھی مدھم نہیں ہوئی، اور شاید وہ جانتے ہیں کہ ہر سوال اب ان کے اپنے بیانیے کے خلاف جائے گا۔ تاریخ کے آئینے میں مودی کی تصویر اب دھندلانے لگی ہے ۔ ایک ایسا چہرہ جو کبھی طاقت کی علامت تھا، اب پسپائی کی داستان بن چکا ہے۔ مگر تاریخ بڑی بے رحم ہے،وہ خاموش رہنماؤں کو فراموش نہیں کرتی، بلکہ ان کی خاموشی ہی کو ان کی پہچان بنا دیتی ہے۔آخر میں شاید یہی سچ باقی رہ جائے گا کہ خاموشی تحفظ نہیں دیتی، صرف سچ کو زیادہ واضح کر دیتی ہے۔