Wed, September 16, 2026

ڈور کا شور

ڈور کا شور

شور تو کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا۔ یہ تو پھر ڈور کا شور ہے جو ایک بار پھر کچھ عرصے کے وقفے سے اٹھا ہے۔ قاتل ڈور کا یہ شور ہر چند ماہ بعد کچھ روز کے لیے پورے زوروشور سے اٹھتا ہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دم توڑ دیتا ہے۔ یہ سلسلہ پچھلے بیس پچیس سال سے جاری ہے۔ اس بار یہ شور لاہور میں ایک نوجوان کی ڈور سے موت اور دوسرے کے زخمی ہونے کے بعد اٹھا ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار یہ کتنے دن جاری رہتا ہے۔
گزشتہ سال رمضان المبارک کے دوران فیصل آباد میں قاتل ڈور سے ایک نوجوان کی موت پر بھی یہ شور اٹھا تھا جس کی دل خراش ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ موٹرسائیکل سوار نوجوان کا گلا کٹا اور زمین پر گر گیا۔ موٹر سائیکل بھی سڑک پر پھسلتا ہوا دور جا گرا۔ نوجوان گرنے کے بعد اٹھا تو اس کی سفید قمیص تیزی سے سرخ ہوتی دکھائی دی۔ خون کا فوارہ اس کے حلقوم سے ابل کر اجلے لباس کو رنگین کر رہا تھا۔ قریب سے گزرتے راہگیر مدد کو پہنچے لیکن خون کا دھارا اتنا تیز تھا کہ نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے دم توڑ گیا۔
مریم نواز اس وقت نئی نئی وزیرعلی پنجاب بنی تھیں۔ انھوں نے فیصل آباد کے اس اندوہ ناک واقعے کا سخت نوٹس لیا۔ متعلقہ اداروں کو قاتل ڈور کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے، اپنے والد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ہمراہ اس نوجوان کے گھر بھی گئیں اور اس کے والدین کو دلاسہ دیا اور متاثرہ خاندان کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ مالی امداد اگرچہ کسی جان کا نعم البدل تو نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی کسی حد تک دکھ کا مداوا تو ہو ہی جاتا ہے۔
اب لاہور کے واقعے پر بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا ہے اور متعلقہ اداروں کو قاتل ڈور کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ امید ہے کہ اس بار بھی وزیراعلی صاحبہ متاثرہ خاندان کا غم بانٹنے کا سامان ضرور کریں گی کیونکہ مرنے والے نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ 
اس بات کی بھی امید ہے کہ پولیس اور تمام متعلقہ ادارے بھی قاتل ڈور کی روک تھام کے لیے فیصل اباد والے واقعے سے زیادہ سخت اقدامات کریں گے۔ ایسے اقدامات جن سے قاتل دور کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے اور آئندہ کوئی بھی زندگی اس کی بھینٹ نہ چڑھے۔ 
 ہمیشہ ایسا ہوتا رہا کہ ڈور سے ہلاکت کا کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہونے کے بعد پولیس اور انتظامیہ فوری طور پر متحرک ہو جاتی ہے۔ پتنگ بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو پکڑ کر تھانوں میں بند کر دیا جاتا ہے، کچھ کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے جاتے ہیں۔ پتنگ فروشوں پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں ڈور اور پتنگیں قبضے میں لی جاتی ہیں اور انہیں میڈیا کے کیمروں کے سامنے تلف بھی کر دیا جاتا ہے۔ لیکن پتنگ بازی پھر بھی نہیں رکتی اور قاتل ڈور کے استعمال کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ صرف وقتی طور پر لوگ کچھ دنوں کے لیے چوکنے ہو جاتے ہیں لیکن انتظامیہ کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر دوبارہ سے پتنگ بازی شروع کر دیتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں میں ڈور سے بچانے والے آہنی راڈ بھی تقسیم کیے جاتے ہیں جنھیں اپنی موٹر سائیکلوں کے آگے لگا لیتے ہیں تاکہ ڈور کٹ کر گرنے کی صورت میں راڈ سے ٹکرائے اور ان کا گلا محفوظ رہے لیکن یہ راڈ بھی کچھ عرصے بعد ٹوٹ جاتے ہیں یا یہ سوچ کر اتار دیئے جاتے ہیں کہ اب تو پتنگ بازی ختم ہو چکی ہے۔ کچھ لوگ سرے سے یہ راڈ لگاتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ان کی دیکھا دیکھی بھی راڈ اتار دیتے ہیں کہ اب کون سا کوئی نقصان ہو رہا ہے اور پھر اسی دوران کوئی نہ کوئی نیا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔
پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، مقدمات کا اندراج، سزائیں، شہریوں کا احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سب اقدامات اہم اور ضروری ہیں لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہیں ورنہ یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ یہ اقدامات قاتل ڈور سے مکمل طور پر نجات نہیں دلا سکے۔
دوسری طرف پتنگ بازی کے حامی ہر بار کوئی واقعہ رونما ہونے کے بعد قاتل ڈور کی مذمت کی بجائے پتنگ بازی کی وکالت کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں۔ ان کا استدلال ہوتا ہے کہ پتنگ بازی پنجاب کا روایتی کھیل اور بسنت پنجابی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے چنانچہ اس کھیل اور تہوار کو محض قاتل ڈور کی وجہ سے ختم نہیں کرنا چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت اب دوبارہ سے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔
قاتل ڈور سے نجات کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ ملک بھر میں سڑکوں کے کنارے اونچے پول نصب کیے جائیں اور ان کے اوپر دھاتی تار باندھ دی جائے تاکہ کسی قسم کی ڈور بھی پتنگ کٹنے کے بعد سڑک پر نہ گرے بلکہ دھاتی تار کے اوپر سے گزر جائے۔ اس قسم کا انتظام بعض سڑکوں کے کنارے تو پہلے سے موجود ہے کیونکہ شہروں کی اکثر سڑکوں کے کنارے بجلی کے کھمبے موجود ہوتے ہیں اور ان پر لگے تار ڈور کو نیچے نہیں گرنے دیتے لیکن اکثر اوقات یہ کھمبے زیادہ اونچے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ڈور نیچے آ گرتی ہے۔ بعض سڑکوں کے کنارے ایسا انتظام موجود ہی نہیں۔ اگر ہر سڑک کے کنارے بجلی کے اونچے پول نصب کر دیئے جائیں اور ان پر بجلی کی تار ہی لگا دی جائے تو یہ قاتل ڈور سے بچاؤ کا مستقل حل ہو گا۔
ممکن ہے کچھ لوگ یہ سوچیں کہ اس پر بہت زیادہ خرچ آئے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی زندگی سے قیمتی کوئی چیز نہیں۔ ایک زندگی بچانے کے لیے اگر اس سے دگنا بھی خرچ کرنا پڑے تو کرنا چاہیے۔ ویسے بھی یہ خرچ ایک ہی بار ہو گا۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لیے سکون ہو جائے گا کیونکہ اس انتظام کی صورت میں نہ تو پتنگ بازی پر پابندی لگانے کی ضرورت پڑے گی، نہ پولیس اور انتظامیہ ہی کو ہر پانچ چھ ماہ بعد متحرک ہونے اور پھر چند دن بعد چپ سادھنے کی ضرورت پڑے گی۔ نہ ہی کسی موٹرسائیکل سوار کو ڈور سے بچنے کے لیے موٹر سائیکل کے آگے راڈ لگانا پڑے گا اور نہ ہی کوئی قیمتی جان ضائع ہو گی۔ دوسرے لفظوں میں ڈور کا شور ہمیشہ کے لیے دم توڑ جائے گا۔

ٹیگز: