Wed, September 16, 2026

نفرت کی سیاست اور بھارتی جمہوریت کا زوال

نفرت کی سیاست اور بھارتی جمہوریت کا زوال

جو بھارت اپنے آپ میں جمہوریت کی ماں بنا ہوا تھا، آج وہی ماں اپنے ہی بچوں میں تعصب کا زہر گھول رہی ہے۔ نفرت کے دھوئیں نے سانس لینا دشوار کر دیا ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ زوال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حاصل ہے ، ایک ایسا منصوبہ جو نام و نہاد جمہوریت کو مذہب کے رنگ میں رنگ کر، انصاف کے ترازو کو اکثریت کے پلڑے میں ڈالنا چاہتا ہے۔2025 کے سیاسی ماحول میں، ظلم اور بربریت کے رجحانات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔ مرکزی وزیر گیری راج سنگھ نے حال ہی میں مسلمانوں کو "نمک حرام" قرار دیا یہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں، بلکہ ایک سیاسی پیغام تھا حکومت کی فلاحی اسکیمیں اب حق نہیں بلکہ وفاداری کی قیمت بن گئی ہیں۔اسی دوران، مدھا کولکرنی اور پراگیا ٹھاکر جیسے انتہا پسند سیاست دانوں کے اقدامات نے نفرت کو ادارہ جاتی شکل دے دی۔ شنیوار وڈا (پونا) میں مسلمان خواتین کو نماز سے روکنے کے لیے گائے کے پیشاب کا چھڑکاؤ کیا گیا یہ 2025 کے بھارت کا نیا چہرہ ہے۔ پراگیا ٹھاکر کا والدین کو یہ کہنا کہ "اگر تمہاری بیٹیاں دوسرے مذہب میں شادی کریں تو سزا دو"  ایک کھلی دھمکی ہے جسے سیاسی تحفظ حاصل ہے۔ماضی میں جھانکے تو بھارت کی بھیانک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جیسے کہ 2017میں اتر پردیش کے دادری میں ایک مسلم محمد اخلاق نامی شخص کو محض "گائے کا گوشت رکھنے" کے شک میں ہجوم نے مار دیا۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس نے گو رکشا کے نام پر قتل و غارت کا نیا دروازہ کھول دیا۔اسی برس، الور (راجستھان) میں پہلو خان نامی شخص کو 
ہجوم نے تشدد کر کے شہید کر دیا۔ قاتلوں کو بعد میں ضمانت مل گئی، جبکہ مقتول کا خاندان انصاف کے دروازے کھٹکھٹاتا رہ گیا۔2019  میں نئی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی (NRC) کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے آئینی حقوق کو کھلے عام چیلنج کیا گیا۔ دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر پولیس نے حملہ کیا، اور فروری 2020 میں دہلی فسادات نے 50 سے زائد جانیں لے لیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔2021 میں ہریدوار میں ایک "دھرم سنسد" کے دوران ہندو انتہا پسند رہنماوں نے کھلے عام مسلمانوں کے قتلِ عام کی اپیل کی۔ ریاستی ادارے خاموش رہے، گویا یہ سب معمول کی بات ہو۔یہ سب الگ واقعات نہیں بلکہ منصوبہ بند ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جیسے 2018 کے "لو جہاد" قوانین نے بین المذاہب شادیوں کو جرم بنا دیا، یا 2022  کے حجاب تنازعے میں مسلم لڑکیوں کو کلاس روم سے نکال دیا گیا۔جان بوجھ کر ہر بار، حکومت یا تو خاموش رہی یا بالواسطہ ان عناصر کی حمایت کی جنہوں نے فرقہ واریت کو تقویت دی۔ یہ تمام اقدامات انتخابات سے پہلے اکثریتی ووٹرز کو متحد کرنے کی کوشش ہیں۔ بہار، اتر پردیش، اور مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کی مہم چل رہی ہے۔ AIMIM جیسے پلیٹ فارمز کو "فرقہ پرست" قرار دے کر سیاسی گفتگو سے باہر دھکیل دیا گیا تاکہ اکثریتی ووٹ بنک کو پولرائز کیا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب بھارت میں اختلاف رائے خطرہ بن چکا ہے۔ حکومت کے بیانات سے لے کر میڈیا کی رپورٹنگ تک، ہر سطح پر ایک ہی بیانیہ غالب ہے جو حکومت کے مخالف ہے، وہ "دیش دروہی" ہے۔گاندھی اور نہرو کا برائے نام سیکولر بھارت اب اکثریتی جمہوریت میں بدل گیا ہے جہاں آئین کتابوں میں ہے، عمل میں نہیں۔2025 کا بھارت اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر یہ رجحانات برقرار رہے، تو انتخابات عوام کی مرضی کی نہیں بلکہ خوف، نفرت اور نفسیاتی جبر کی عکاسی کریں گے۔ جمہوریت کی بنیاد مساوات، انصاف اور برداشت تبھی بن سکتی ہے جب عوام نفرت کے بیانیے کو مسترد کریں اور ریاست کو یاد دلائیں کہ شہریت وفاداری نہیں، حق ہے۔اگر بھارت نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والا وقت انتخابی عمل کو نہیں بلکہ جمہوریت اور مسلمانوں کے وجود کو خطرے میں ڈال دے گا۔بھارت آج ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ، جہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اکثریت پسندی کی آمریت کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بن چکے ہیں، اور بھارتی میڈیا جو پہلے گودی میڈیا کا کردار ادا کر رہا ہے اور فاشسٹ مودی کے قدموں میں جھک چکا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جہاں سچ بغاوت اور انصاف جرم بن جاتا ہے۔ اگر حکومت مذہب کے نام پر شہریوں میں تفریق ڈالے گی، تو آئین محض کاغذ کا ایک ٹکڑا رہ جائے گا۔آج بھارت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ گاندھی کے بھارت کا وارث ہے یا گوڈسے کے خواب کا۔ کیونکہ جب ریاست انصاف کے بجائے انتقام بانٹے، جب شہریوں کو ایمان کے بجائے شناخت پر پرکھا جائے، تو جمہوریت باقی نہیں رہتی صرف نظام کا ڈھانچہ رہ جاتا ہے، جس کے اندر روح مر چکی ہوتی ہے، یہی وہ لمحہ ہے جب تاریخ خاموش نہیں رہتی وہ فیصلہ سناتی ہے۔

ٹیگز: