ایک باپ کی دو بیٹیاں تھیں دونوں ہی اپنے والد سے بہت پیارکرتی تھیں بدلے میں بابل بھی واری واری جاتا تھا ایک دن والد نے اپنی ایک بیٹی سے سوال کیا کہ تم کس کا کھاتی ہو تو اس نے جواب دیا آپ کا جب دوسری سے یہی سوال کیا تو اس نے کہا کہ میں اپنا نصیب کھاتی ہوں یہ بات باپ کو ناگوار گزری اور اس نے جس بیٹی نے کہا تھا کہ آپ کا کھاتی ہوں کو گلے لگالیا اورجس نے کہا تھا اپنے نصیب کھاتی ہوں تو اسے ایک بہت ہی ماڑے گھر میں بیاہ دیا کہ جہاں ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی تھی جب اس لڑکی کی شادی ہوئی تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ نے خالی ہاتھ گھر نہیں آنا کہا جاتا ہے کہ ایک روزلڑکی کے شوہرکو کوئی کام نہ ملا تو گھر جاتے ہوئے راستے میں ایک مرا ہوا سانپ تھا کو ہی اٹھا لیا جب گھر پہنچا تو بیوی نے کہا کہ یہ کیا لے آئے ہو تووہ بولا کہ آپ نے خود ہی کہا تھا کہ گھر خالی ہاتھ نہیں آنا تو اس لئے آج میں جو ملا لے آیا ہوں یہ بات سن کر بیوی نے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں سانپ کو چھت پر رکھ دو خاوند نے ایسا ہی کیا کہا جاتا ہے کہ ایک روز چھت پر سے ایک باز گزر رہا تھاجس کے منہ میں ہیروں کا ہار تھا اس نے جب سانپ کو دیکھا تو اٹھانے کیلئے لپکا اور جب سانپ اٹھانے کیلئے لپکا تو اس کے منہ سے ہیرے کا ہار گر گیا ایک دن دونوں میاں بیوی چھت پر گئے ہیروں کا ہار پڑا تھا جسے فروخت کرکے وہ مالا مال ہو گئے پھر ایک روز انہوں نے چند لوگوں کی دعوت کی جس میں لڑکی کا باپ بھی شامل تھا دونوں میاں بیوی نے سونے کے برتنوں میں کھانا صرف کیا اورکہاکہ جاتے ہوئے برتن بھی ساتھ لے جائیں جب لڑکی کے باپ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت حیران ہوا کہ یہ کیسے ہو گیا میں نے کنگلے کے ساتھ اس کی شادی کی تھی پھر لڑکی نے اپنے باپ کو کہا کہ اب بتائو کہ میں آپ کا کھاتی ہوں یا اپنے نصیب کا؟ ناشکری انسان کو ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے ہر شخص کے پاس نعمتیں ہوتی ہیں، کوئی فیکٹری کا مالک ہوتا ہے تو کوئی ملازم،سب کو سب کچھ مل جائے یہ ضروری نہیں،شکر گزار بندہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے جبکہ ناشکرا انسان ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رہتا ہے، انسان کو نہیں معلوم کہ اس کے مقدر میں کتنا رزق ہے مگر رزق کے حصول کی کوشش کرنا اچھی بات ہے ہربندہ اپنے اپنے نصیب کا کھاتا ہے حضرت علی ؓسے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایمان چار ستونوں پر قائم ہے صبر ,یقین ,عدل اور جہاد .پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق خوف دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا، آج ہم جس دور میں گزر رہے ہیں کوئی دن اچھا نہیں گزر رہا کیونکہ ہم ناشکرے ہیں اس ملک کوبنے ہوئے تقریباً 78 سال ہونے کو ہیں ہمارا آنے والا ہر کل سیاسی، معاشی طور پر خراب ہوتا جارہا ہے حقیقت یہ ہے د نیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہے جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں موجود ہوں جو ہمارے پاس ہیں ہمارے پاس چار موسم ہیں جو کہیں نہیں پھر بھی ہم مر گئے مر گئے کرتے رہتے ہیں کرتے کچھ نہیں اور الزام حالات کو دیتے رہتے ہیں،نظام کیوں نہیں بدلا جاتا؟ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو طعنے دیتے رہتے ہیں اس کی جگہ دوسرا آجاتا ہے اس نظام کو دیکھ لیں جو کچھ ہو رہا ہے مہنگائی ہے لوگ مر رہے ہیںخودکشیاں کررہے ہیں اولادیں بیچ رہے ہیں چاہتے ہیںسارا ملک سدھر جائے لیکن ہم خود سدھرنا نہیں چاہتے دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اپنی نہیں؟ہر وقت حالات کا رونا روتے رہتے ہیں خود کوئی کوشش نہیں کرتے کہ حالات بدل جائیں تب تمہار ے حالات بدلیں گے جب تم اپنے آپ کو بدلو گے جب اس میں تم بہتری لاؤ گے تمہارے حالات میں بہتری لے آئیں گے اور یہ بڑا عجیب طوفان آیا ہوا ہے ہمارے ملک میں کہ پوری قوم کی اصلاح کر دو یہی کامیابی کی کنجی ہے ہم گھر بیٹھے شارٹ کٹ کے چکر میں رہتے ہیں جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے شروع میں دی گئی مثل کا مقصد لوگوں کو بتانا ہے کہ نیت درست ہو تو اللہ غیب سے مدد فرماتا ہے اور اگر نیت ٹھیک نہ ہو تو مالک کل بھی ناراض ہو جاتا ہے اوراللہ کی ناراضگی بندے کو دو کوڑی کا بنا دیتی ہے جو نصیب میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا لیکن ضروری ہے کہ کچھ کریں چاہے مرا ہوا سانپ ہی مل جائے گھر لے آئیں پھر دیکھیں اللہ کیسے مہربان ہوتا ہے اس لئے اپنی سوچ کو بدلیں؟آخر میں بس اتنا ہی کہ
نہ کر نصیب سے اتنا گلا اے انسان جب
خدا راضی ہوتا ہے تو ہر چیز مل جاتی ہے