پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں حکومتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف معاشی استحکام، بہتری اور بحالی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا براہِ راست بوجھ عوام، صنعت اور کاروباری طبقے پر پڑ رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بظاہر ایک تکنیکی اقدام لگتا ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دور رس ہیں۔ بلند شرح سود کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کے لیے قرض مہنگا رہے گا، نئی سرمایہ کاری سست ہو گی اور صنعتی سرگرمیاں مزید دبا¶ میں آئیں گی۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کا م¶قف یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ دعووں کے مطابق مہنگائی کم کیوں نہیں ہورہی؟ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق آٹے، چینی، پھلوں اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک جانب تو حکومت معاشی بہتری کی دعویدار ہے لیکن دوسری جانب ملکی معیشت کو قرضوں پر چلارہی ہے۔ رواں سال پاکستان کو 25 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کرنا ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ رقم رول اوور کی جا رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک وقتی سہولت ہے، مگر حقیقت میں یہ مسئلے کو آگے دھکیلنے کے مترادف ہے۔ حکومت یہ دعوے ضرور کرتی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے زائد بڑھے ہیں۔ لیکن یہ بھی تو بتائے کہ اس میں سے زیادہ تر حصہ قرضوں کا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں سٹیٹ بینک کی جانب سے اوپن مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر لینا اس بات کی علامت ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے مسلسل غیر معمولی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت ابھی تک اپنے پا¶ں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔اگر معیشت واقعی مستحکم ہوتی تو قرضوں کا انحصار کم ہوتا، نہ کہ ہر سال نئے رول اوور اور نئے انتظامات کی ضرورت پڑتی۔
اس وقت پاکستان کے لیے صرف بیرونی ادائیگیاں ہی واحد مسئلہ نہیں ہیں۔ توانائی کا شعبہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ صرف پانچ ماہ میں 223 ارب روپے بڑھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات کے دعوے کاغذوں تک محدود ہیں۔ گردشی قرضہ کم کرنے کے معاہدوں کے باوجود قرض کا بڑھ جانے پر یہ سوال تو بنتا ہے نا کہ مسئلہ پالیسی کا ہے یا عملدرآمد کا؟ یا دونوں کا؟۔ اگر پاور سیکٹر کا یہی حال رہا تو اس کا براہ راست اثر صنعت اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑے گا۔ اس کے بعد یہ اثرات برآمدات اور مجموعی معیشت پر منتقل ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل جیسا اہم برآمدی شعبہ آج زوال کا شکار ہے۔ اس حوالے سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ مہنگی بجلی کے باعث 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں۔حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ایکسپورٹ بڑھانے والے سیکٹرز کے لیے سہولیات لازمی ہیں۔ جب ایکسپورٹ سیکٹر دبا¶ میں آتا ہے تو معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق پہلی ششماہی میں برآمدات 15 ارب 18 کروڑ ڈالر رہیں، اب اگر برآمدات کم ہوتی رہیں تو نہ صرف حکومت کا 60 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس کا خواب ادھورا رہ جائے گا بلکہ ملکی معیشت پر بھی دبا¶ بڑھے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ٹیکس مسلسل بڑھے گا۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اپنا موقف دے چکے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس نیٹ بڑھانے کا م¶قف اصولی طور پر درست ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ پہلے سے متعین شدہ اہداف ہی نہ پورے ہوں گے تو ٹیکس نیٹ مزید کیسے بڑھے گا؟۔ جنوری کے آغاز میں خبر آئی تھی کہ ایف بی آر موجودہ مالی سال مسلسل پانچویں ماہ ٹیکس ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوگیا، مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 335 ارب روپے سے زائد کمی کا سامنا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کاروبار اور عوام کے لیے معاشی ماحول ہی درست نہیں ہوگا تو ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیسے ہوگا اور کرے گا کون؟ کیا پھر سے عام آدمی ہی پسے گا؟ کیونکہ عملی طور پر ٹیکس کا بوجھ پہلے ہی عام آدمی، خاص طور پر تنخواہ دار طبقے اور ڈومیسٹک کامرس کے ٹیکس دہندگان پر ڈالا جارہا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی اپنی حیثیت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے دوسری جانب حکومت کے پاس گنجائش ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف کی بجائے تکلیف ہی ملتی ہے۔پٹرولیم لیوی میں اضافہ اس کی واضح مثال ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے لیے آمدن بڑھانا عوامی سہولت سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ یہ قلیل مدتی حل تو ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت میں اس کے نتیجے میں مہنگائی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہی ہو گا۔ اصل سوال، جس سے حکومت مسلسل گریز کر رہی ہے، یہ ہے کہ جو ٹیکس عوام اور کاروباری طبقے سے جمع کیا جا رہا ہے، کیا وہ درست ترجیحات پر خرچ ہو رہا ہے؟ اگر عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور سستی توانائی میسر نہیں آ رہی، تو پھر مزید قربانیوں کا مطالبہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟۔ معاشی بحالی کا راستہ صرف ٹیکس بڑھانے سے نہیں، بلکہ اعتماد بحال کرنے سے نکلتا ہے۔ ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف م¶ثر کارروائی، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی کی عیاشیوں پر قدغن اور کاروبار دوست پالیسیاں ہی وہ اقدامات ہیں جو معیشت کو واقعی درست سمت میں لے جا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، یہ کھوکھلے دعوے اور سخت فیصلے عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتے رہیں گے اور معیشت ایک ہی دائرے میں گھومتی رہے گی۔