اسلام آباد : نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے بننے والی مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے پر اصولی رضامندی رکھتا ہے، مگر وہ کسی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا یا فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا ہو۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی امن فورس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونا ضروری ہے، اور فورس کے مینڈیٹ، کردار اور ٹی او آرز کا حتمی فیصلہ ہونے تک پاکستان کوئی آخری قدم نہیں اٹھائے گا۔ ملائیشیا نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے مجوزہ غزہ امن معاہدے میں “انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جس میں زیادہ تر مسلم ممالک کی افواج شامل ہوں گی۔ اس فورس کا مقصد جنگ بندی کو مضبوط بنانا، امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا اور غزہ کے انتظامی ڈھانچے کو فوری سہارا دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے بھی غزہ میں فوج بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ پاکستان نے بھی مثبت جواب دیا، لیکن جب اطلاعات سامنے آئیں کہ فورس کا ایک ممکنہ کردار حماس کو غیر مسلح کرنا بھی ہو سکتا ہے تو پاکستان نے فوراً اپنا مؤقف واضح کر دیا کہ وہ اس کا حصہ نہیں بنے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار امن برقرار رکھنے تک محدود ہونا چاہئے، امن نافذ کرنے تک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فورس کا دائرہ کار مکمل طور پر طے نہیں ہوتا، فوج بھیجنے کا فیصلہ بھی مؤخر رہے گا۔
افغانستان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر فوجی ایکشن کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اسے کسی "بھائی کے گھر گھس کر کارروائی" کا درست طریقہ نہیں سمجھتا۔