پاکستان اس وقت جس معاشی، انتظامی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے، اس میں سب سے بڑا المیہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ سچ کی کمی ہے۔ ہمارے ادارے، حکمران، بیوروکریسی، کاروباری طبقات اور حتیٰ کہ سیاسی جماعتیں بھی اکثر اعداد و شمار، وعدوں اور نعروں کے ایسے جال میں الجھی ہوئی ہیں جہاں حقیقت دھندلا جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں قلم کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی رہ جاتی ہے کہ وہ مصلحت، خوف اور مفاد سے بالاتر ہو کر صرف سچ لکھے۔ کیونکہ جب معاشرے میں سچ بولنے والے خاموش ہو جائیں تو پھر جھوٹ ریاستی پالیسی بن جاتا ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات اس وقت اسی تلخ حقیقت کی تصویر ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) مالی سال 2025-26 میں اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ جولائی سے اپریل تک تقریباً 683 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے جو دہائیوں سے چند تنخواہ دار افراد اور محدود شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر معیشت چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایف بی آر ہدف کیوں حاصل نہ کر سکا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ ٹیکس نظام کبھی کامیاب ہو بھی سکتا ہے؟ ایک ایسا نظام جس کی بنیاد امپورٹ اسٹیج پر سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور جرمانوں پر ہو، وہ پائیدار معیشت کیسے پیدا کرے گا؟ جب معیشت کی رفتار سست ہو، صنعت دباو¿ میں ہو، کاروباری طبقہ خوفزدہ ہو اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو، تو ٹیکس اہداف محض کاغذی خواہش بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا سب سے بڑا مسئلہ شرحِ ٹیکس نہیں بلکہ اعتماد کا فقدان ہے۔ عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ اس سے وصول کیا گیا ٹیکس قومی ترقی کے بجائے بدانتظامی، کرپشن اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں ضائع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کلچر پیدا نہیں ہو سکا۔ جب ریاست شہری کو عزت، انصاف اور سہولت دینے میں ناکام ہو جائے تو پھر شہری بھی ریاست کے ساتھ جذباتی تعلق کھو دیتا ہے۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں نے ہمیشہ کم شرح ٹیکس اور وسیع ٹیکس بیس کی پالیسی اپنائی۔ “لافیر کرو” کا اصول بھی یہی کہتا ہے کہ ٹیکس کی بلند شرح ہمیشہ زیادہ ریونیو نہیں دیتی۔ جب ٹیکس ضرورت سے زیادہ بڑھا دیا جائے تو کاروبار سکڑتے ہیں، سرمایہ ملک سے باہر جاتا ہے اور لوگ غیر رسمی معیشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ تاجر، صنعتکار اور حتیٰ کہ متوسط طبقہ بھی خود کو ریاستی شکنجے میں محسوس کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کو ٹیکس دہشت گردی نہیں بلکہ معاشی آزادی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی ریونیو بڑھانا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس کی شرح کم کر کے نظام کو آسان بنانا ہوگا۔ جب لوگوں کو محسوس ہوگا کہ ٹیکس دینا سزا نہیں بلکہ قومی شراکت ہے، تبھی رضاکارانہ ٹیکس کلچر فروغ پائے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے پالیسی ساز ابھی تک پرانے نوآبادیاتی ماڈل پر چل رہے ہیں۔ ایف بی آر جیسے حساس معاشی ادارے میں بھی تکنیکی ماہرین کے بجائے انتظامی افسران کی بالادستی ہے۔ اکانومی، ٹیکسیشن اور عالمی تجارت جیسے پیچیدہ شعبے صرف انتظامی اختیارات سے نہیں چلتے بلکہ ان کے لیے معاشی وڑن، تحقیقی ذہن اور جدید عالمی فہم درکار ہوتی ہے۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ ماہرین کو نظرانداز اور فائل کلچر کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پاکستان میں پانچ ٹریلین روپے سے زائد کے مقدمات کسٹم اپیلٹ ٹربیونلز میں زیر التوا ہیں۔ یہ صرف عدالتی تاخیر نہیں بلکہ سرمایہ، کاروبار اور ریاستی ساکھ کا بحران ہے۔ ایک کاروباری شخص جب برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا ہے تو وہ نئی سرمایہ کاری سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ پھر حکومت حیران ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اداروں کے اندر مفادات کا ایسا جال بن چکا ہے جہاں بعض اوقات افسران کے قریبی افراد انہی مقدمات میں وکیل بن کر پیش ہوتے ہیں۔ جب احتساب اور مفادات کے تصادم کے درمیان حد ختم ہو جائے تو انصاف مشکوک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو لگتا ہے کہ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے۔
پاکستان کی بندرگاہی اور تجارتی پالیسیوں کی مثال بھی ہمارے غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کو ظاہر کرتی ہے۔ ماضی میں چھوٹے تاجروں، امپورٹرز اور مزدوروں کی سہولت کے لیے اپ کنٹری پورٹس قائم کی گئیں تاکہ کاروبار آسان ہو۔ مگر بعد میں پورا نظام دوبارہ محدود مراکز تک منتقل کر دیا گیا، جس سے کرپشن، دلالی اور استحصال میں اضافہ ہوا۔ اس کا نقصان صرف تاجروں کو نہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی ہوا۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ہر مسئلے کا حل مزید ٹیکس، مزید جرمانے اور مزید گرفتاریوں میں تلاش کیا جاتا ہے۔ معیشت اعتماد سے چلتی ہے، خوف سے نہیں۔ اگر صنعتکار، تاجر، مزدور اور سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گے تو معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ عوامی اختیار کی حقیقی منتقلی کا نام ہے۔ اگر منتخب حکومتیں اپنا بجٹ بھی آزادانہ طور پر نہ بنا سکیں، اگر ہر معاشی پالیسی عالمی اداروں کی منظوری سے مشروط ہو، اگر پارلیمنٹ صرف رسمی مہر ثبت کرنے والا ادارہ بن جائے، تو پھر عوام کے ووٹ کی حیثیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پاکستان میں اصل بحران صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور ادارہ جاتی ہے۔ ہم نے اداروں کو عوامی خدمت کے بجائے اختیار اور کنٹرول کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی خود کو شہری نہیں بلکہ رعایا محسوس کرتا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور انصاف میں تاخیر نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور کر دیا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم سچ سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ صرف نئے ٹیکس لگا کر معیشت نہیں چل سکتی۔ سچ یہ ہے کہ بیوروکریسی کی موجودہ ساخت ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر کوئی معاشی پیکج کامیاب نہیں ہوگا۔ اور سچ یہ بھی ہے کہ اگر ریاست نے شہری کو عزت اور انصاف نہ دیا تو پھر ٹیکس نیٹ بڑھانے کے تمام دعوے کھوکھلے رہیں گے۔ آج پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں پالیسی سازی ماہرین کے ہاتھ میں ہو، جہاں ٹیکس نظام آسان اور منصفانہ ہو، جہاں صنعت اور تجارت کو دشمن نہیں بلکہ شراکت دار سمجھا جائے، جہاں عدالتیں فوری انصاف دیں، اور جہاں ریاست عوام پر حکومت نہیں بلکہ خدمت کرے۔
قومیں صرف قرضوں، ٹیکسوں یا نعروں سے نہیں بنتیں بلکہ سچ، انصاف اور اعتماد سے بنتی ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ سچ بولتی ہے تو شہری بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر جب ہر بجٹ، ہر اعلان اور ہر پالیسی عوام پر حملہ محسوس ہونے لگے تو پھر فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم خوشامد، خوف اور مصلحت کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے طاقت کے ایوانوں میں بھی سچ کہنے کی جرا¿ت کی۔
اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ:
سچ لکھوں گا، ورنہ نہیں لکھو گا