Wed, September 16, 2026

عید الاضحی کے کچھ مناظر 

عید الاضحی کے کچھ مناظر 

پہلا منظر:
کسی مویشی منڈی میں ایک علامہ صاحب ٹی وی رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ کٹے کی قربانی جائز نہیں۔ علامہ صاحب کے اس فتوے پر کٹے کے بیوپاری اور خریدار حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ حیرانی اس بات پر کہ بیوپاری بہت عرصے سے عیدالاضحٰی پر کٹے فروخت کرتا رہا ہے جبکہ خریدار بھی ایک عرصے سے ہر سال کٹا ذبح کر کے سنت ابراہیمی ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ دونوں پریشان اس بات پر ہیں کہ بیوپاری کے خیال میں علامہ صاحب کے فتوے کے بعد اس کا مال تجارت فروخت نہیں ہو سکے گا اور اسے نقصان اٹھا کر گھر لوٹنا پڑے گا جبکہ خریدار اس لیے پریشان ہے کہ اسے اب کم قیمت کٹا خریدنے کی بجائے مہنگا بیل خریدنا پڑے گا چنانچہ دونوں اپنے اپنے مفاد کے پیش نظر علامہ صاحب کو دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم تو پہلے بھی عید پر کٹے قربان کرتے رہے ہیں اور فلاں مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ کٹے کی قربانی جائز ہے جس پر علامہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے کلمہ نبی کا پڑھا ہوا ہے یا ان مولانا صاحب کا۔ علامہ صاحب کی یہ دلیل سن کر بیوپاری اور خریدار تو خاموش ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ہی دیر میں علامہ صاحب کے فتوے کے جواب میں کچھ اور علمائے کرام بھی میدان عمل میں آ جاتے ہیں اور قرآنی و مذہبی حوالوں سے ثابت کرتے ہیں کہ کٹے کی قربانی بالکل جائز ہے۔ یہ جوابی فتویٰ ہمیں تو بالکل قرین عقل محسوس ہوا اور یقینا اس کے بعد بیوپاری اور کٹے قربان کرنے والوں کو بھی سکھ کا سانس مل گیا ہوگا۔
دوسرا منظر:
ہر سال عید الاضحی کی طرح اس بار بھی اناڑی قصابوں کی خوب چاندی ہوئی۔ یہ اناڑی قصائی جن کی اپنی کسائی ہونی چاہیے، سال میں صرف ایک بار یعنی عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں پر اپنا ہنر آزماتے ہیں اور اپنی جیبیں گرم کرنے کے لیے لوگوں کی قربانیاں خراب کرتے ہیں۔ پیشہ ور قصاب تو اکیلا بھی بڑے سے بڑا جانور ذبح کر لیتا ہے لیکن یہ اناڑی قصائی آٹھ آٹھ دس دس بندوں کی ٹیم ساتھ لگا کر بھی قربانی کا ایک جانور قابو نہیں کر سکتے۔ ان کے ہاتھوں اکثر جانور بپھر جاتے ہیں اور بے قابو ہو کر سڑکوں گلیوں میں دوڑنے لگتے، جو بھی راہ میں آئے اسے روندتے ہوئے کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں اور پھر جس جگہ قابو آ جائیں اسی مقام پر انہیں ذبح کرنا پڑ جاتا ہے۔ اللہ تعالی سنت ابراہیمی ادا کرنے والوں کو ایسے قصائیوں سے محفوظ رکھے اور اپنی قربانیاں خود ذبح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تیسرا منظر:
پاکستان کے مایہ ناز سابق فاسٹ باو¿لر وسیم اکرم حج کے موقع پر باو¿لنگ کے انداز میں شیطان کو کنکریاں مارتے نظر آئے۔ وسیم بھائی کے اس انداز پر ملا جلا عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کچھ نے پسند کیا ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالی کو بھی ان کا یہ عمل ضرور پسند آیا ہوگا کیونکہ اس کا ایک بندہ اس کی عبادت کے ارادے سے اپنا مال خرچ کر کے اور وقت نکال کر اتنا طویل سفر کر کے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہے تو اسے کیوں پسند نہیں آئے گا۔ کیا ہوا اگر اس نے شیطان کے ساتھ تھوڑی سی موج مستی کر لی۔ اس منظر پر کئی دلچسپ تبصرے بھی دیکھنے کو ملے ہیں جن میں سب سے دلچسپ تبصرہ یہ لگا کہ وسیم اکرم حج کے موقع پر عمران خان کے ساتھ نیٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔
چوتھا منظر:
بنگلہ دیش میں ایک بھینسا محض اپنے ظاہری حلیے کی امریکی صدر کے ساتھ مماثلت کی بنا پر قربان ہونے کی سعادت سے محروم رہ گیا۔ یار لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ وہ قربانی سے بچ گیا لیکن ہمارا خیال ہے کہ اللہ کی راہ میں قربان ہونا ایک سعادت ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نامی یہ بھینسا امریکی صدر کا ہم شکل ہونے کے باعث اس عظیم سعادت سے محروم رہ گیا۔ البتہ بنگلہ دیش والوں نے اسے ایک اور سعادت عطا کر دی ہے کہ اسے چڑیا گھر منتقل کر دیا ہے تاکہ امریکی صدر سے ملاقات کے خواہش مند اس بھینسے کے دیدار سے فیض یاب ہو کر امریکی صدر سے ملنے کا شوق پورا کر سکیں۔ 
یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشابہت کی بدولت بھینسے کی تو جان بخشی ہو گئی لیکن کیا بھنسے کے ساتھ مماثلت ایران کے ہاتھوں ڈونلڈ ٹرمپ کی جان بخشی کا باعث بھی بن سکے گی یا نہیں؟۔
پانچواں منظر:
لاہور کی گلیوں اور سڑکوں کے اطراف عیدالاضحٰی کے دن کہیں کوئی آلائش یا جانوروں کی باقیات نظر نہیں آئیں۔ ستھرا پنجاب اتھارٹی کا عملہ پورے صوبے میں متحرک رہا اور آلائشوں کو فوری ٹھکانے لگاتا رہا۔ صوبے کے اس صاف ستھرے ماحول کا کریڈٹ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے دور حکومت میں یہ مثال قائم کی ہے کہ قربانی کے روز بھی کہیں کوئی آلائش نظرآتی ہے نہ تعفن طبیعت کو مکدر کرتا ہے ورنہ ان سے پہلے بھی صفائی کا اہتمام تو ضرور ہوتا تھا لیکن کئی جگہوں پر آلائشیں پھر بھی کئی کئی دن تک پڑی گلتی سڑتی رہتیں اور بدبو کے بھبھکے لوگوں کی زندگی اجیرن کیے رکھتے تھے۔
چھٹا اور آخری منظر:
گزشتہ چند سال سے عید الاضحٰی شدید گرمی کے موسم میں آ رہی ہے۔ سو قربانی کے گوشت کے ساتھ ساتھ آموں کا موسم بھی چل رہا ہوتا ہے چنانچہ لوگ گوشت کے ساتھ ساتھ آموں پر بھی خوب ہاتھ صاف کرتے ہیں بلکہ کچھ شوقین تو صرف آموں پر ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی شان میں ایک قطعہ عرض ہے:
عید الاضحی پہ یار لوگوں نے
 گوشت والے ہی کھائے سارے طعام 
ہم نے لیکن تمام عرصے میں
رات دن کھائے ہیں بس آم ہی آم

ٹیگز: