Wed, September 16, 2026

کچھ یادیں، کچھ باتیں

کچھ یادیں، کچھ باتیں

آج 13 جنوری کا دن ہے، یہ میرا جنم دن ہے۔ میرے بچے حیران ہیں، بابا نے اپنا جنم دن کیسے بدل دیا۔ یہ ابھی بچے ہیں، بچے ہوئے ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ انسان کئی بار جنم لیتا ہے اور کئی بار مرتا ہے۔ توبہ بھی ایک نیا جنم ہے۔ شعور کا مادیت سے نکل کر روحانیت کے مدار میں داخل ہونا بھی ایک نیا جنم ہے۔ 13 جنوری 1985 میرا نیا جنم ہے، اس دن میں میری پہلی ملاقات تھی، شائد طے تھی، میرے مرشد، میرے ہادی، میرے صاحب، میرے لج پار واصف علی واصف سے!۔
عالمِ اسباب میں اس ملاقات کا بہانہ کچھ یوں بنا، عالمِ اسباب میں بہانے ہی بنا کرتے ہیں، فیصلے تو کہیں اور ہوتے ہیں۔ ”نوائے وقت“ کے ادبی ایڈیشن میں آپ کا پہلا کالم شائع ہوا عنوان تھا محبت۔ محبت کا پڑھنا، محبت میں داخل ہونے کا سبب بنا۔ اس زمانے میں ہم دنیا جہان کا ادب اور فلسفہ پڑھنا اپنا کارِ منصبی سمجھا کرتے تھے۔ اس مضمون پر شعور دم بخود رہ گیا۔ دل نے آواز دی، یہ زمینی دانش نہیں، یہ کوئی دانشِ نورانی ہے۔ کالم کے آخر میں برائے رابطہ ایڈریس بھی لکھا ہوا تھا، ہم نے فوراً کاغذ قلم سنبھالا اور ایک خط روانہ کر دیا، اس خط میں کچھ عجیب وغریب سوالات تھے، مثلاً میں خود کو جاننا چاہتا ہوں، میں کون ہوں؟ یہ زندگی کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی لکھ دیا کہ میں ایف ایس سی کا امتحان دے کر فارغ ہوا ہوں اور میڈیکل میں داخلے کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ کا جواب موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ یہ تمہاری عمر تعلیم حاصل کرنے کی ہے، پہلے تعلیم مکمل کرو، پھر ان سوالات کی تلاش میں نکلنا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ علم کے نام پر تعلیم سے فرار نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے سوچا کہ غالباً مجھے تعلیم میں کمزور سمجھ رہے ہیں۔ میں نے جھٹ سے اپنے پرویژنل سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپیاں ساتھ لگائیں اور لکھ دیا کہ دیکھ لیں، ہر سبجیکٹ میں میرا اے پلس گریڈ ہے، میں تعلیم سے بھگوڑا نہیں ہوں، مجھے واقعی ان سوالوں کا جواب چاہیے۔ آپ نے لکھا: تمہارا سند یافتہ خط ملا وہ خط اب میرے لیے سند ہے۔ مزید لکھا کہ متاثر کرنا اور متاثر ہونا حجاب ہے۔ یہ میرا پہلا سبق تھا۔ جملہ پڑھنا اور جملے سے گذرنا ان میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس فقرے کو اپنے وجود پر وارد کرنے میں مجھے چالیس سال کا عرصہ لگا ہے۔ اب آپ کی بات 
سمجھ میں آئی کہ راستہ جاننے اور راستہ طے کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ تیسرے خط کے جواب میں لکھا کہ اس نمبر پر فون کر کے آ جاو¿۔ پہلی ملاقات میں ”کرن کرن سورج“ تحفے میں ملی اور ساتھ حکم ہوا کہ کشف المحجوب پڑھا کرو۔ وہ دن اور آج کا دن ابھی تک ”کشف المحجوب“ پڑھ رہا ہوں، مکمل نہیں ہوئی۔ سلیٹ صاف تھی، اس لیے زیادہ دقت نہیں پیش نہیں آئی۔ یہ ہوا کہ چند ملاقاتوں ہی میں دانشِ فرنگ کی خیرگی کافور ہو گئی، معلوم ہوا کہ خلیل جبران سے ول درانت تک عقل و دانش کے سب سورما یہاں ڈھیر ہیں۔
آج سے اکتالیس برس قبل ہونے والی پہلی ملاقات میں ایک بچے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ چار دہائیوں کے بعد میں آج ہی کی دن آپ کے چونتیسویں عرس کی تقریبات میں منعقد کسی سیمینار میں آپ کی یادیں اور باتیں دہرا رہا ہوں گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے صاحب کو یہ ضرور علم ہو گا وہ صاحب جس کے سامنے قطرہ اور قلزم یکتائی میں ہے، اور لمحہ اور زمانہ یکجائی میں، اس کے سامنے وقت کے پردے اٹھے ہوں گے اور اسے ضرور معلوم ہو گا، اس وقت جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، اور جو کچھ میں کہہ نہیں پا رہا۔
اوائل کی ملاقاتوں کی بات ہے، ایک بار آپ کے پاس حاضرِ خدمت ہوا تو اس وقت آپ کے پاس ذوالفقار تابش صاحب بیٹھے ہوئے تھے، میں کمرے میں داخل ہوا تو مجھ سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ یہ بڑے مشہور شاعر ہیں۔ ذوالفقار تابش! میں نے چھوٹتے ہی کہا: جی! بالوں سے ہی لگ رہے ہیں۔ مہمان کے سامنے ایک نوجوان کی بے باکی ظاہر ہے آداب کے خلاف تھی۔ کہنے لگے: اچھا! اب تم ایسا کرو کہ ذرا باہر دھوپ میں جاو¿، دھوپ کا فائدہ لو! ہم ذرا بات کر لیں، گویا مجھے باہر کھڑا کر دیا گیا۔ میں باہر پیچ و تاپ کھا رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ یہ تو سراسر میری بے عزتی ہو گئی ہے، دل ہی دل میں سوچا: میں چلا جاو¿ں یا ٹھہرا رہوں۔ کافی دیر کے بعد آپ مہمان کو الوداع کہنے کے لیے باہر نکلے تو کہا: دیکھا! اچھا ہوا نا؟ اس سے دو کام ہو گئے، ایک تو ہم نے بات کر لی اور دوسرا یہ کہ تمہارا ٹیسٹ بھی ہو گیا اگر چلے جاتے تو چلے جاتے۔
میں نے جب آپ سے ملنا شروع کیا تو مجھ حکم ہوا کہ اب اس کے بعد کسی اور سے نہیں ملنا۔ اس زمانے میں نوجوان کو شعرا اور ادبا سے ملنے ملانے کا بہت شوق تھا۔ میں نے وعدہ کر لیا کہ ٹھیک ہے۔ ایک بار اس حکم کی خلاف ورزی ہو گئی، میں کسی بہانے اس وقت کے ایک معروف ادیب سے ملنے چلا گیا۔ معلوم نہیں، آپ کو کیسے معلوم ہو گیا۔ اگلے دن حاضر ہوا تو آپ جلال میں تھے۔ پوچھا: کیا چاہتے ہو؟ سوشل سرکل بڑھانا چاہتے ہو؟ کیا چاہتے ہو؟ میں چپکا بیٹھا سنتا رہا۔ جب باہر نکلا تو سمجھ لیا کہ اب لگتا ہے اپنا پتہ کٹ گیا ہے۔ میں باہر نکل کر موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے لگا تو یکدم پیچھے سے آواز دی: پھر کب آو¿ گے؟ اس جملے نے میری زندگی بدل دی۔ یہ جملہ میری زندگی میں نہ ہوتا، تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتا۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: سر! جب آپ کہیں گے ”فرمایا: تم کل آ جاو¿“۔ اگلے دن حاضر ہوا تو نہایت شفقت سے بتایا کہ جگہ جگہ جانے میں کیا خرابی ہے، پھر ادب کے نام پر بہت سی بے ادبیوں کی نشاندہی بھی کی۔ مجھے ایک انگریزی کا جملہ سنایا اور پھر پوچھا: کیسا جملہ ہے؟ میں نے بے اختیار کہا: بہت زبردست جملہ ہے۔ آپ نے فہمائش کرتے ہوئے کہا: جملہ تو بہت خوب ہے لیکن لکھنے والے کی عاقبت خراب کر گیا۔ ہم نے کیا محبت کرنی ہے، محبت تو آپ نے کی ہے، بچے بچے سے کی ہے، ہم ایسے بگڑے ہوئے بچے سے بھی کی ہے۔
صاحبزادہ کاشف محمود کہتے ہیں کہ آپ واقعات بیان کیا کریں، فلسفہ اور تصوف کی طرف نہ نکل جایا کریں، مگر کیا کریں! یہ فلسفہ، یہ تصوف، یہ شعر و ادب ایک ایسی شراب ہے کہ بقول غالب: چھٹتی نہیں ہے کافر منہ کو لگی ہوئی۔
ایک قولِ معروف ہے: من عرف نفسہ، فقد عرف ربہ کچھ لوگ اسے حدیث کہتے ہیں، لیکن یہ قول زمانہ قدیم سے اہلِ عرفان کے ہاں مروج تھی۔ قدیم یونان کے معبدوں میں بھی لکھا ہوتا تھا:Know Thyself ، خود کو پہچانو اکثر لوگ پوچھتے ہیں، کیسے؟ کیا مراحل ہیں؟ کیسے پہچانیں؟ اب ایک شعر آپ کے مجموعہِ کلام ”شب چراغ“ سے پیشِ کرتا ہوں:
نشاطِ رنگ و بو سے بے نیازِ آرزو ہو کر
ہم اپنے روبرو آئے، تمہارے روبرو ہو کر
اس پر غور کریں، کہ یہاں خود کو پہچاننے کا مکمل طریقہ کار بیان کر دیا گیا ہے، نشاطِ رنگ و بُو سے بے نیاز ہونا شرط ہے، اور یہ ریاضت عمر بھر ہے، یہی تپسیا ہے راہِ طریقت کی! آپ کا ارشاد ہے، ہوسِ زر اور لذتِ وجود چھوڑ دی جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ زندگی آسان ہو گی تو مرنا بھی آسان ہو گا۔ زندگی گزارنے کے بعد زندگی چھوڑنے کا فن بھی آنا چاہیے۔
(الحمرا ہال میں منعقدہ سیمینار بسلسلہ تقریباتِ عرس حضرت واصف علی واصف مورخہ 13 جنوری، پڑھا گیا)

ٹیگز: