Wed, September 16, 2026

کچھ کچھ اچھا بھی ہے

کچھ کچھ اچھا بھی ہے

ہم ہر وقت پاکستان میں سب کچھ برا ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں ۔کچھ تو بہت بلکہ ہروقت ہی روتے رہتے ہیں شاید ان کی مجبوری ان کے سیاسی نظریات یا پسند کی حکومت نہ ہونا ہو اس لیے وہ کسی کی محبت اور کسی کی نفرت میں ہر وقت مایوسی کی بات ہی کرتے ہیں ۔میری تو رائے اور یقین یہ ہے کہ اگر آپ کو لکھنے اور بولنے کی جگہ میسر ہے اور اللہ کریم نے آپ کو صلاحیت بھی بخشی ہے تو آپ کو معاشرے میں امید بانٹنی چاہیے۔ہر وقت مایوسی پھیلانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ امید وہ واحد چیز ہے جس کے سہارے بھوک اور مشکلات برداشت کی جاسکتی ہیں اور مایوسی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے اپنی جان تک لی جاسکتی ہے تو انتخاب کرنے میں اچھی چیز کا کرلیا جائے تو بہتر ہوتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بری چیزوں کا ذکر یا نشاندہی نہ کی جائے ۔بالکل کی جائے کیونکہ مثبت تنقید بھی معاشرے کے لیے امید کا کام ہی کرتی ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں چینی کی قیمتوں کا ذکر کیا تھا تو اس پر حکومت کا موقف موصول ہوا ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جب چینی کی ایکسپورٹ یعنی باہر بھیجنے کی اجازت دی گئی تو اس وقت ملک میں چینی اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ تھی ۔حکومت نے ایکسپورٹ سبسڈی بھی نہیں دی اور چینی والوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک میں ضرورت کے مطاق چینی اسی قیمت پر دستیاب رکھی جائے گی ۔کچھ عرصے تک ملک میں چینی کی قیمت میں استحکام بھی رہا اس کے بعد مصنوعی قلت اور چوربازاری شروع کی گئی جو ایک جرم تھا۔صوبے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکے جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔پھر یہ تنقید تھی کہ حکومت نے اب چینی درآمد کیوں کرنے کافیصلہ کیا ۔اس کاجواب ہے کہ چینی کی درآمد کا تعلق گزشتہ سال کی برآمد سے نہیں بلکہ آنے والے سال میں کرشنگ سیزن کی پیش بندی کے طورپر کیا گیا ہے ۔اندازہ ہے کہ گنے کی فصل اس سال کم ہوگی جس کی وجہ سے چینی کی پیداوار میں کمی متوقع ہے اس ممکنہ کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ابھی سے پیش بندی کرتے ہوئے خود چینی ملک میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ بحران پیدا ہونے سے پہلے اس کے سامنے بند باندھ دیا جائے ۔یہ بھی سامنے رہے کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں چینی کا سکینڈل بناتھا کیونکہ ملک میں چینی کم ہونے کے باوجود باہر بھیجنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ایکسپورٹ پر سبسڈی بھی دی گئی ۔
کچھ اچھی چیزوں کا ذکر شروع ہی کررہا تھا تو خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کردی ہے کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے ہندوستان کے پانچ جہاز گرائے ہیں۔اب اس تصدیق کے بعد ہندوستان میں طوفان آیا ہوا ہے ۔مودی سرکار کا بس نہیں چل رہا کہ اپنی شرمندگی کس طرح چھپائے کیونکہ ٹرمپ اب تک کو ئی تیس مرتبہ تو صرف یہ دنیا کو بتا چکا ہے کہ ہندوستان جھوٹ بول رہا ہے کہ امریکا کے کہنے پر سیز فائر نہیں ہوا۔اس پر نریندر مودی اور آر ایس ایس سخت مشکل میں ہیں اور مودی کا خاتمہ قریب سے قریب آتا جارہا ہے۔ یہ پاکستان کی عزت اور وقار میں مسلسل اضافے کا باعث ہے تو پھر پاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!
آج ہی دوسری اچھی خبر یہ ملی ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں نے کمال کردیا ہے ۔ وہ نوجوان جو آئی ٹی سے وابستہ ہیں جو ڈیجیٹل کاروباری ہیں۔ جو فری لانسرز ہیں جو اپنی خدمات ڈیجیٹل طور پر دنیا میں ایکسپورٹ کررہے ہیں ان کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔یہ برآمدات اس سال تاریخ کی بلندترین سطح تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر ہوگئی ہیں ۔برآمدات میں اضافے کی بات ہورہی ہے تو ساتھ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں سات فیصد اضافہ بھی جوڑ لیتے ہیں۔ یہ وہی ٹیکسٹائل سیکٹر ہے جس کی تباہی کا رونا ہمارے وہی ’’روندو‘‘ دوست سارا سال روتے رہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر برباد ہوگیا ۔اب برآمدات کیسے ہوں گی تو سال ختم ہوا تو پتہ چلا کہ سات فیصد اضافہ اس سال ہوگیا ہے تو پھر پاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!
ایک اور اچھی خبر سن لیں ۔آج چودہ سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اس سال سرپلس میں رہا ہے ۔سرپلس بھی کوئی چھوٹا موٹا نہیں ہے بلکہ ملکی تاریخ میں بائیس سال بعد اتنا بڑا یعنی دواعشاریہ اٹھارہ ارب ڈالر کا سرپلس رہا ہے ۔ماہ جون میں یہ کرنٹ اکاؤنٹ تیس سو بیاسی ملین ڈالر سرپلس رہا یوں چودہ سال بعد پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کی نحوست سے باہر نکل آیا اور بائیس بعد تاریخ کا سب سے بڑا سرپلس پوسٹ کیا۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہی خسارہ ہر وقت سننے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سامنے آنے کے بعد یہ تو کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!
پاکستان کو اوورسیز کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زرتاریخ میں کبھی اٹھائیس تیس ارب ڈالر سے اوپر نہیں گئی تھیں اس سال اس میں بھی ریکارڈ توڑ بہتری آئی ہے۔گزشتہ سال کی نسبت ترسیلات زر میں چھبیس فیصلہ اضافہ ہوگیا ہے اور اس سال اڑٹیس ارب ڈالر ترسیلات زرمیں ریکارڈ اضافہ اچھی بلکہ بہترین خبر ہے تو پھرپاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!
اچھی خبروں کا تذکرہ چل رہا ہے تو ایک اور اچھی خبر پاکستان کے لیے برطانیہ سے آگئی ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا ہے۔یہ وہ خرابی تھی تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پیدا کردہ تھی جب دوہزار بیس میں کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا تو اس کے بعد ہوابازی کے وزیرغلام سرور خان نے وہ ہوائی قلعے بنائے کہ ہماری ہوابازی کی صنعت ہی ہوا ہوگئی اور طیارے زمین پر آگرے۔وزیرموصوف نے اسمبلی کے فلور پرکہہ دیا کہ پاکستان کے پائلٹ سارے ہی جعلی ڈگریوں والے ہیں۔اس کے بعد دنیا بھر میں پی آئی اے کے لیے دروازے بند ہونے لگے ۔ہمارے منافع بخش روٹ بند ہو گئے۔ پی آئی اے تباہ ہوگئی ۔وزیراعظم شہبازشریف اور ان کی ٹیم نے یہ بھاری پتھر اٹھانے کے لیے دن رات ایک کردیا۔برطانیہ کو یقین دہانیاں کرائی گئیں۔اب برطانیہ نے پاکستان کی یقین دہانیوں کے بعد اپنی فضائیں ہمارے جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔اس اعلان کے بعد پی آئی اے نے چودہ اگست سے دوبارہ برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن کا اعلان کردیا ہے ۔اس آپریشن کے بعد پی آئی اے دوبارہ بحال ہوگی اور اس ایئر لائن کی نجکاری اب آسان بھی ہوگی اور قیمت بھی بہتر لے گی تو پھرپاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!
یہ تو کچھ اچھی چیزیں ہیں جو حقیقت بن کر اب ہمارے سامنے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے ساتھ جو عزت،وقار اور خطے میں لیڈرشپ وابستہ ہوئی ہے اس اچھائی کی قیمت تو شاید ہی کوئی دے سکے ۔یہ وہ لیڈرشپ رول ہے جس سے پاکستان کی سفارتکاری آسان ہوئی ہے ۔اب دنیا ہماری طرف ہے۔پاکستان سفارتی طورپرپہلے سے کہیں مضبوط اور دنیا کا بھروسہ مند تجارتی پارٹنر بن چکا ہے ۔یہ ہماری معاشی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔ پاکستا ن پر بھروسہ رکھیں۔لیڈرشپ پر بھروسہ رکھیں ۔رونا دھونا کم کریں کیونکہ پاکستان میں کچھ کچھ اچھا بھی تو ہے نا!۔

ٹیگز: