جنگ مئی 2025ءنے پاکستان کا اقوام عالم میں سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ہم پر جنگ دسمبر 1971ءایک بڑے سانحے کے طور پر مسلط تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان لاریب ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے جسے اپنوں کی بے اعتدالیوں اور غیروں کی منصوبہ سازیوں نے رقم کیا تھا۔ جنگ مئی 2025ءنے ہمارے اس دلدر کو دھو دیا ہے۔ ہندوستان کو شکست فاش سے ہمکنار کرکے ہم سرخرو ہو چکے ہیں۔
اس جنگ نے جہاں پاکستان کو سرخرو کیا وہاں ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ کون کون ہمارا دوست ہے، کون کون برادر ہے۔ اس جنگ کے دوران دوست ممالک نے سفارتی سطح پر پاکستان کو مدد فراہم کی۔ ہمارے موقف کی حمایت کی۔ بھارتی موقف کے بودے پن کو عیاں کیا پھر برادر ممالک نے ہماری عملی امداد بھی کی۔ چین کا کردار اس حوالے سے نمایاں ترین رہا۔ چین نے کھل کھلا کر نہ صرف سفارتی طور پر ہماری مدد کی۔ ہمارے موقف کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ اپنی روایات سے ہٹتے ہوئے کھلے عام اور واضح الفاظ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی سالمیت پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دینے کا اعلان کیا اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کا بھی اعلان کیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ پاکستان کو اپنا جدید ترین ایئر سسٹم (طیارے بمع نیویگیشن سسٹم) بھی دیا جس نے ہندوستان کے جدید ترین حربی و ضربی نظام کا بھرکس نکال دیا۔ فرانس، اسرائیل، روس اور امریکہ کے جدید ترین حربی و ضربی نظام کو شکست فاش ہوئی۔ اقوام مغرب کی بالادستی خاک میں مل گئی۔ دنیا چین کی حربی و ضربی ٹیکنالوجی سے واقف نہیں تھی کیونکہ چین نے ابھی تک کسی سے معرکہ آرائی نہیں کی، جنگ نہیں کی۔ اس لئے چینی صلاحیت بارے کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ حالیہ پاک بھارت جنگ نے چینی عسکری صلاحیت کی وضاحت کر دی ہے۔ اس سے پہلے چین معاشی میدان میں اپنی برتری ثابت کر چکا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں بھی اس کی برتری دنیا پر عیاں ہے۔ عسکری میدان کی اس کی انٹری نے دنیا کو بوکھلا دیا ہے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی کہ پاکستان کو اپنے دوستوں، حمائتیوں اور دشمنوں کا بھی پتہ چلا جو بھی ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا وہ ہمارا دشمن ہی ہوگا۔ اندرون ملک بھی جن لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے قوم کا مورال ڈاﺅن کرنے کی کاوشیں کیں قومی موقف کے برعکس بیانیہ بنانے اور چلانے کی کاوشیں کیں۔ بنیادی طور پر وہ دشمن کے ساتھ تھے، وہ ہمارے دشمن ہیں۔
افغانستان ایسے موقع پر کہاں کھڑا تھا؟ کیا اس نے سفارتی سطح پر ہماری مدد کی؟ کیا انہوں نے ہندوستانی موقف کے بودے پن کو آشکارہ کیا؟ کیا پاکستان کی فتح پر مسرت کا اظہار کیا؟ یہ ساری باتیں دیکھنے اور سوچنے کی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس ملک کی آزادی کے لئے، اشتراکی افواج کے قبضے سے چھڑانے کے لئے ہم نے ان کی سفارتی، سیاسی اور عملی مدد کی تھی، جس ملک کو امریکی اتحادی افواج کے چنگل سے چھڑانے کے لئے پاکستان 20سال تک دہشت گردی کا نشانہ بنتا رہا، اس ملک نے، طالبان نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا۔ 2022ءمیں امریکی اتحادی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد پاکستان دشمن طالبان کو بھی جیلوں سے رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف دہشت اور وحشت گردی کی نئی جنگ شروع کر دی۔ ہم کہتے رہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس میں جرائم پیشہ مسلح لوگ شامل ہو کر پاکستان میں تباہی مچا رہے ہیں۔ افغانستان ان کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے توجہ نہیں دی۔ پاکستان نے ان کے خلاف جنگی بنیادوں پر آپریشن کیا، انہیں جہنم واصل کرنا شروع کیا، افغانستان میں گھس کر مارنا شروع کیا تو ان کے اور ان کے سرپرستوں کے ہوش ٹھکانے آنے لگے۔ جنگ مئی 2025ءمیں ہندوستان کی شکست فاش کے بعد پاکستان ایک فاتح کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس جنگ کے دوران افغانستان پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں تھا۔ جنگ کے بعد طالبان حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ ”پاکستان میں لڑنا جائز نہیں ہے“ یعنی خوارج کو وارننگ دی گئی ہے کہ جہاد کے نام پر حملہ آور گروہ شریعت اور افغان امارات دونوں کے نافرمان ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس فرمان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ویسے نتیجہ تو صرف پاکستان کی فوج کا ڈنڈہ ہی نکالے گا۔ ٹی ٹی پی نافرمان، بگڑے ہوئے، جرائم پیشہ مسلح افراد کا گروہ ہے جن کا تعلق صرف اور صرف جرائم کی دنیا سے ہے انہیں بھارت اور پاکستان دشمن ایجنسیوں کی معاونت حاصل ہے۔ افغانستان کی سرزمین ان کا مسکن اور ٹھکانہ ہی نہیں بلکہ محفوظ پناہ گاہ ہے۔ پاکستان بڑے طریقے سلیقے سے افغان طالبان سے کہہ چکا ہے کہ وہ اس فتنے کا تدارک کرے، انہیں چھپنے نہ دے لیکن افغان حکمران بات نہیں مان رہے ہیں۔ اب پاکستان نے نہ صرف ٹی ٹی پی بلکہ افغانوں کے خلاف بھی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے غیر قانونی مہاجرین کو یہاں سے نکل جانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ افغان ایک عرصے سے یہاں پاکستان میں پناہ لئے ہوئے تھے۔
پاکستان ان کی میزبانی کر رہا تھا لیکن یہ لوگ محسن کش ثابت ہوئے ہیں۔ اب جبکہ پاکستان انہیں نکال رہا ہے تو انہیں پتہ چلنا شروع ہو گیا ہے کہ معاملات کتنے سنجیدہ ہو چکے ہیں۔ اپنے ہم قوم جرائم پیشہ لوگوں کی حمایت جاری رکھنے کی قیمت اب انہیں چکانی ہوگی۔ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی مہمان نوازی کو کمزوری سمجھنے والوں کو اب پتہ لگ گیا ہے کہ معاملات کس طرف جانے لگے ہیں۔ پاکستان سے مہمان داری کروانا اور پھر اس کے دشمن بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا اب ممکن نہیں ہوگا۔ افغان طالبان کو اپنی دوغلی اور منافقانہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اب اس بارے میں تو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ پاکستان میں پائی جانے والی دہشت گردی میں طالبان و بھارت ملوث ہیں۔ لوکل باغی گروپوں کو بھی بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان نے ان کا سر کچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ان کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے، ایٹمی طاقت ہے، ہمارے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حتمی انداز میں اعلان بھی کر دیا ہے کہ ریاست کے باغی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان کا سر کچل دیا جائے گا۔ وہ چاہے ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے۔