زندگی حد درجے تیز رفتار ہے۔ دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر قدر و قیمت ’وقت‘ کی ہے۔ ہم مسلمانوں کو مختصر سی سورت ’العصر‘ متوجہ کرتی ہے، جو کوزے میں سمندر بند کر دینے کے مترادف ہے۔ محدود زندگی سے ایک لا محدود زندگی کمانے کا سبق ہے۔ چلنے والے نکل گئے ہیں، جو ٹھہرے ذرا کچل گئے ہیں! وقت کا درست استعمال! یہی راز ہے زندگی میں کامیابی کا، فلاح کا، آج اور کل! آج کی بہترین سرمایہ کاری، ذی شان کل کا وعدہ کرتی ہے۔ یہ چند جملے آج پاکستان کی (بالخصوص نوجوان نسل) اولین ضرورت اور ترجیح رہے۔
31 جنوری تا 4 فروری ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا(بھارتی سکھ)، اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آئے۔ قومی مزاج ثقافت کو چونکہ مرکز و محور بنائے رکھتا ہے، سو خبروں میں پنجہ صاحب، گوردواروں، آبائی گھر جانے کی کہا نیاں چھائی رہیں۔ معاشی استحکام کے ضمن میں جن چیزوں پر متوجہ کیا گیا، اگلے چند روز اس پر حکومت، قوم کی سنجیدگی دیدنی تھی! اجے کے مطابق:’ گزشتہ سال ورلڈ بینک کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ ہوا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ معیشت متوازن، مستحکم کی جا سکے مگر اسلام آباد اب تک اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ روزگار کی فراہمی، پائیدار ترقی، دیرپا کامیابی صرف فراہمی¿ روزگار میں ہے۔ نوجوانوں کی آبادی کے تناسب سے پاکستان کو 30 ملین نوکریاں اگلے 10 سالوں میں ان کے لیے فراہم کرنی ہوں گی۔ ورنہ اندرونی عدم استحکام، بیرون ملک نکل جانے کا رجحان پیدا ہو گا۔(جو پہلے ہی روز افزوں ہے۔ 2025 ءمیں سپین رزق کی تلاش میں جانے والے 44 پاکستانی اور 2024 ءمیں بحر روم میں 80 پاکستانی ڈوب کر انتقال کر گئے۔ یہ مکمل اعداد و شمار نہیں ہیں!) ہمیں نتائج درکار ہیں۔ 2025 ءمیں ریکارڈ تعداد میں ڈاکٹر باہر چلے گئے۔ وجوہات میں ملازمت کے مواقع کی کمی، دفاتر، ہسپتالوں وغیرہ میں مناسب حوصلہ افزا ماحول کی عدم موجودگی۔ صحت، طب، تعلیم، تجارت، ملازمتوں کے لیے بجلی کی عدم فراہمی کا بحران مسائل کی جڑ ہے۔ موسمی ناسازگاری کی صورت میں پلاننگ، منصوبہ بندی، م¶ثر انتظامات کی کمی بھی رکاوٹ بنتی ہے۔‘
وہ تو دورہ مکمل کرکے چلے گئے۔ مگر ہماری کچھ قومی مجبوریاں بھی آڑے آتی ہیں۔ ان کی آمد سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے کی شادی کی دھوم دھام نے ہمارے میڈیا کے ہاتھوں قوم کو اتنا مصروف رکھا کہ 3 دن لگاتار نوجوان (اور عوام الناس بھی) لمحہ لمحہ ویڈیوز، تصاویر دیکھنے، بھیجنے، تبصرے کرنے سے ہی فارغ نہ ہو پائے۔ اجے بانگا تو کام ذمے لگا کرگئے مگر ساتھ ہی بسنت آن وارد ہوئی۔ ہمیں تو اگرچہ اللہ نے آزادی عطا فرما کر مقصدِ زندگی پر جُت جانے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ ہمارے تو دو ہی تہوار تھے مگر چونکہ قوم فارغ ہوتی ہے تو ساری اقوام میںمنائے جانے والے تہوار ہم اپنا بین الاقوامی ’بھائی چارہ فر ئضہ ‘ گردانتے ہیں۔
جان لیجیے کہ بسنت قدیمی ہندو تہوار ہے۔سرا س وتی، (علم و حکمت کی دیوی) کے حوالے سے منایاجاتا ہے جو لارڈ براہما سے منسوب کی جاتی ہے۔ نعوذ باللہ
براہما دیوتا، کائنات کا خالق جانا جاتا ہے ۔ یہ دیوی گوری چٹی، سفید اور پیلے کپڑوں میں پیش کی جاتی ہے، چار ہا تھوں والی۔ اس دن کی خصوصی پو جا اونچی نشست گاہ (چبوترے) پر ہوتی ہے۔ مذہبی پیلا، زعفرانی رنگ،( آرایس ایس، انتہا پسند ہند و تو ا تنظیم کے زعفرانی لباس!) تہوار میں غالب ہوتا ہے۔ کپڑے، پھول، کھانے، حلوے، دیوی دیوتا¶ں کے نام پر مندروں میں بھی چڑھاوا جاتا ہے۔ اجتماعی کھانے خاندانوںکے ہوتے ہیں۔ چھتوں، میدانوں میں پتنگ بازی، بھنگڑے، رقص و سرود، ڈھول باجے، چراغاں کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہندو¶ں کے سکول کالجوں میں چرچا رہتا ہے کیونکہ سراس وتی علم و حکمت کی دیوی ہے۔ تاکید ہوتی ہے کہ اس سے برکت طلب کرنے کے کلمات پڑھے جائیں، مذہبی اشعار الا پے جائیں۔ بہر طور ہم نے سرکاری طور پر 6تا8 فروری یہ تین دن مختص کیے۔ چھٹی کر کے بسنت منائی ۔ معاشی سرگرمی کا آغاز ہم نے سراس وتی دیوی کے تہوار سے کیا ورلڈ بینک کے بھاشن پر۔ پہلے ہم نے 5 فروری کی چھٹی کی تھی مقبوضہ کشمیر سے یک جہتی کے لیے ۔ سو یوں لگا تار 4 چھٹیوں کی سرگرمی سے ملکی ترقی کی منزلیں سر کرنے کا آغاز ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے آنے سے پہلے بلوچ لبریشن و دیگر نے قیامت مچا دی۔ اور جانے کے بعد ایک دن بسنت کا داعش نگل گئی۔ کتنی جانیں گئیں۔ سو تعزیتاً چونکہ ایک دن کے سرکاری میلے، موسیقیاں منسوخ ہوئی تھیں تو بسنت کو 8 کے بعد 9 تاریخ کی صبح تک بڑھا دیا گیا۔ یہ تو ابتدا ہے قومی ترقی، استحکام (پتنگوں، کھانوں کے سلسلے کی) ملازمتوں کے مواقع بڑھانے کے ورلڈ بینک حکم پر عمل درآمد کی۔
ادھر فلسطین اور مغربی کنارے پر حملے بدستورہو رہے ہیں۔ حماس رہنما مشعل نے دوٹوک اعلان دوحا میں فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کر دیا ہے۔ ’حماس کبھی ہتھیار نہ ڈالے گی۔ ثالثی کرنے والے ممالک نے ہمیں ضمانت دی ہے۔ ہم 7۔ 5 سال تک جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل حماس سے اسلحہ لے کر باغی گروہوں کو دے کر انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ حماس غزہ میں غیر ملکی مداخلت قبول نہ کرے گی۔ جب تک قبضہ ہے تب تک مزاحمت رہے گی۔‘ مشعل نے ڈٹ کر امریکی، اسرائیلی مطالبات رد کیے: ظلم کے خلاف مزاحمت کو جرم بنا دیا جائے؟ نا ممکن! یہ عوام کا حق ہے جس پر قومیں فخر کیا کرتی ہیں۔ امن بورڈ سے مطالبہ ہے کہ وہ متوازن رویہ اختیار کرے۔ امریکہ نے جو جنگ بندی کروائی تھی یہ اس کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا بھی شامل تھا۔ ہتھیار ڈالنا سرخ لکیر ہے۔ ڈیوس میں امن بورڈ کے حوالے سے بہت کچھ کہا سنا گیا۔ یہ کہ غزہ کی تعمیر نو اور 22 لاکھ فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی ہوگی۔ غیر ملکی حکمرانی کی اجازت فلسطینی سرزمین پر ہم ہرگزنہ دیں گے۔ ہمارے قومی اصول و ضوابط قائم رہیں گے۔ گارڈین شپ، بیرونی مداخلت یا مینڈیٹ (انتداب) کی کسی صورت اجازت نہ دیں گے۔ فلسطین پر حکومت فلسطینیوں کی ہوگی۔ غزہ، اہل غزہ کا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی سیکورٹی کابینہ نے لگے ہاتھوں مغربی کنارے میں اسرائیلی اختیارات بڑھانے اور فلسطینیوں کے تحت علاقوں میں اپنا حکومتی اختیار وسیع تر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ جس پر فلسطینی صدر محمود عباس اور اردنی وزارت خارجہ نے شدید مذمت کی ہے۔ محمود عباس نے ان خطرناک، غیر قانونی اقدامات پر ٹرمپ اور یو این سیکورٹی کونسل کو مداخلت کے لیے کہا ہے۔ یہ عین وہی انتداب (مینڈیٹ) ہے جس سے استعماری دور میں فرانس اور برطانیہ نے مشرق وسطیٰ کی بندر بانٹ کی تھی۔ ٹکڑے ٹکڑے کر کے مسلم علاقوں کو کالونیوں میں ڈھالا، غلام بنایا تھا۔ اب! اصل قوت کو ٹونی بلیئر، کشنر، وٹ کاف کے ایگزیکٹو بورڈ کی ہے۔ مسلمان صرف اپنے مظلوم ترین بھائیوں کی غلامی پر پہرہ دیں گے، آقا¶ں کے احکام نافذ، حقوق اہل غزہ کے سلب کریں گے!پناہ بخدا!
فی الوقت تو پوری مغربی دنیا میں ایپسٹین کی 30 لاکھ فائلیں کیا کھلیں۔ ہر بڑا نام جسے ان کے میڈیا نے ڈھنڈورے پیٹ کر قصیدے پڑھ کر باقی دنیا کو گنوار، بد تہذیب بنارکھا تھا، ان کے نقاب اتر گئے۔ اخلاق باختگی کی انتہا¶ں کی انتہا ہو گئی۔ ر¶سائ، زعمائ، سیاستدان،حتیٰ کہ سائنس دان، طاقتور شخصیات اس کی فائلوں کے کوڑے کرکٹ کچرے سے جھانکتی نظر آرہی ہیں ۔۔۔۔۔ بھارت سمیت۔ یہ بھی عالمی سیاسی ایٹمی دھماکہ ہے۔ حکومتیں تھرا رہی ہیں!
بنگلہ دیش میںبغیر کسی بڑے واقعہ کے12 فروری کو جوش و خروش سے انتخابات ہو پائے۔ حسینہ واجد کا تختہ جولائی 2024 ءمیں الٹنے پر، پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ وہ بھارت بھاگ لی۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس نے عبوری حکومت بے پناہ قربانیاں دینے والے طلباءکی درخواست پر سنبھالی۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی لگا دی۔ اگرشہ نظام میں اس کے اثرات کافی حد تک باقی ہیں؟ انتخابات میں مرحومہ خالدہ ضیاءکے بیٹے طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(BNP) مزید 10 پارٹیوں کے اتحاد کی سربراہ تھے۔BNP ایک موروثی،روایتی سیاسی جماعت ، پہلے تین بار حکومت کر چکی ہے۔دوسری جانب طلباءکی جماعت نیشنل سیٹیزن پارٹی(NCP) اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی(از سرِنو زندگی پا کر) کرپشن فری ،مقبول جماعتیں بن کر انقلاب سے ابھریں۔ان کا جماعت ِاسلامی کی سربراہی میں1 1پارٹی اتحاد تھا۔ اسلامی اندولن بنگلہ دیش اور جاتیا پارٹی الگ الگ حصہ لے رہی تھیں۔ اصل مقابلہ دونوں اتحادوں کا تھا۔ نتائج کے مطابقBNP بھاری اکثریت سے حکومت بنانے کوہے جبکہ جماعتِ اسلامی ایک موئثراپوزیشن ہو گی۔عوامی لیگ کے ووٹرز کہاں گئے،کس کی حمایت کی؟انتخابات کی شفافیت پر سوالات؟ بحث جاری رہے گی! جولا ئی چارٹر کے عملددرآمد پرریفرنڈم میں بھرپور اکثریت ،جو دستور اور نظام کی بنیادی تبدیلی ہے ،BNP کیلئے چیلنج ہو گا! دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ؟ مودی نے سب سے پہلے طارق رحمان کو مبارکباد کا پیغام اور پھر فون پر بھارتی تعاون کی یقین دہانی کروا ئی! مودی کی کال بلا سبب نہیں! پاکستان اور دیگر ممالک کے پیغامات وصول ہوئے۔ اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ بنگلہ دیش کے حق میں سامنے لائے۔ بڑی مسلم آبادی کا یہ برادر ملک امت کے لیے نیک شگون ثابت ہو۔ (آمین)