Wed, September 16, 2026

کچھ تو ہے تبدیلی کا باعث

 کچھ تو ہے تبدیلی کا باعث

ملکی تاریخ میں دومہینے اگست اور مئی کافی اہمیت کے حامل ہیں اگست میں ہماراپیارا وطن معرضِ وجود میں آیاجبکہ مئی میں پاکستان نے ثابت کردیاکہ معاشی طوپر ناتواں ہونے کے باوجود دفاعی حوالے سے پُراعتماد اور ناقابلِ تسخیر ہے 28 مئی 1998کو پاکستان جوہری طاقت بنااور اب معرکہ حق سے عالمی ساکھ اور اہمیت بہتربنالی ہے اِس کی وجہ عسکری اور منتخب قیادت میں اعتماد اور تعاون ہے دونوں کا مطمع نظر ملک کی مضبوطی اورخوشحالی ہے اِس لیے قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں بھارتی طاقت کے غرور کو خاک میں ملانامعمولی نہیں غیرمعمولی کامیابی ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ عسکری کامیابیوں کے بعد سفارتی سطح پر بھی منتخب اور عسکری قیادت ہمقدم ہے قومیں اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتیں عسکری قیادت نے دشمن کی چالوں کاجس فہم وفراست ،حکمت اور تدبر سے جواب دیا کے اعتراف میں آرمی چیف کی فیلڈ مارشل کے منصب پرتعیناتی اور فضائیہ کے سربراہ کو مدتِ ملازمت کی تکمیل کے باوجود خدمات جاری رکھنے کی حکومتی پیشکش بروقت اور مستحسن ہے یہ فیصلے خوفزدہ دشمن کومزیدبددل کریں گے ہروقت بڑھک بازی کی سیاست کرنے والا مودی اب گولی سے نشانہ بنانے اورپانی روکنے جیسی دھمکیوں سے پاکستانیوں کے حوصلے پست کرنا چاہتا ہے ۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کاترکیہ ،ایران اور آذربائیجان دورہ اِس بناپر اہمیت کا حامل ہے کہ اِس سے پاکستان کی سفارتی تنہائی کا تاثر زائل جبکہ دنیا کی ضرورت ہونے کا بھارتی دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوا ہے دراصل موجودہ حکومت نے معاشی بحالی کی تگ و دو کے ساتھ اقوامِ ِعالم سے تعلقات بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسرائیل کے سوا کوئی اورملک بھارت کی حمایت میں آگے نہ آیا جبکہ پاکستانی موقف کی چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان سمیت کئی ممالک نے کُھل کر تائید کی۔ اُسی ٹرمپ نے بھی بھارت کے غلط موقف کی تائید نہ کی یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے امریکہ کا دونوں ممالک سے یکساں رویہ اختیار کر نامعمولی بات نہیں جس سے دنیا کی ضرورت ہونے کا دعویداربھارت حیران وپریشان ہے پاکستان کو نیچا دکھانے کاخواہاں مودی اپنی حماقتوں سے کشمیرکو دوبارہ عالمی مسئلہ بنا بیٹھا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف بھارتیوں کوامریکہ سے بے دخل کررہا ہے بلکہ صنعتکاروں کوبھارت سے کارخانے امریکہ منتقل کرنے کے احکامات جاری کررہا ہے جس پر مودی پریشان مسئلہ کشمیر کے حل میں ثالثی کی پیشکش نے تو مودی کو ہلا کررکھ دیا ہے دراصل ایک مضبوط بھارت امریکہ کے مفاد میں ضرور ہے مگر جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تب تک پاک بھارت کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی جس سے امریکہ کو خدشہ ہے کہ بھارت پاکستان سے ہی مصروف رہے گا اور چین پر توجہ نہیں دے سکے گا اِس لیے امریکہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگرپاک بھارت مسائل جلد حل کرنا چاہتا ہے تاکہ بھارت چین پر نظر رکھنے اور مقابلہ کرنے پر توجہ دے سکے۔
ایسے حالات میں جب ایرانی قیادت امریکیوں کو اپنی جوہر ی تنصیبات کامعائنہ کرانے پر آمادہ و تیار ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا تہران جا کر ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرنا معنی خیز ہے جس نے دنیا کو چونکا دیا ہے کچھ توہے اِس تبدیلی کا باعث ،ماہرین اُن وجوہات کی تلاش میں ہیں کیونکہ اب جبکہ امیتازی رویہ رکھنے کی بجائے امریکہ جب پاکستان اور بھارت سے یکساں سلوک کرنے لگاہے تو پاکستان کواچانک اِس کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟کیا پاکستان یہ سب کچھ چینی ایماپر کررہا ہے یا کچھ اور وجوہات ہیں؟اِس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیںایک خیال یہ ہے کہ رواں ماہ کی پاک بھارت جھڑپوں کے دوران اسرائیل نے بھارت کی ہرممکن مددکی جس سے پاکستان غصے میں ہے کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام کواپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہوئے اسرائیل اِس کاہر صورت خاتمہ چاہتا ہے اور اسرائیل کوزچ کرنے کے لیے ہی پاکستان نے نیاموقف اپنایا ہے ایسا قیاس کرنے والے دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے جس پاکستان نے ایران سے گیس درآمدکے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمدمیں تاخیر کر دی۔ حالیہ پاکستانی موقف ایران کے لیے بہت حوصلہ افزاہے اِس سے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایرانی موقف کوتقویت ملے گی پاکستانی احسان کاصلہ ایران نے یہ دیا ہے کہ شورش کا باعث بننے والے بلوچوںپر قابو پانے کے لیے پاکستان کی جاری مُہم کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایران سرحدوں پرغیر قانونی نقل وحمل روک دی ہے جس سے بھارت کی شہ پر سرگرم عناصر کاخاتمہ کرنے میں آسانی ہوگی ایران بھارت قریبی تعلقات کے باوجود حالیہ تبدیلی غیر معمولی ہے جو پاکستان اوریران میں اعتمادسازی کوفروغ دے گی۔
ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان کا سہ ملکی سربراہی اجلاس کو محض میزبان ملک کی یومِ آزادی تک محدود تصور کرنا درست نہیں بلکہ یہ خطے میں ہلکورے لیتی تبدیلیوں کاعکاس ہے اِس سے معاشی وتجارتی تعاون کو فروغ اور دفاعی تجربات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددملے گی۔ یادرہے کہ دنیا کی گزشتہ سوسالہ تاریخ میں آذربائیجان اور پاکستان دوایسے مسلم ممالک ہیں جنھوں نے میدانِ جنگ میں فتح حاصل کی ہے جبکہ ترکیہ کی مستحکم معیشت کی اپنی اہمیت ہے چین اور پاکستان کا شانہ بشانہ چلنا کئی عشروں سے عیاں ہے مگر امریکی حوالے سے نئی پاکستانی کروٹ پر اقوامِ عالم کو حیرانگی ہے پاکستان کو دہشت گردی کی جس پریشان کُن صورتحال کا سامنا ہے اُس میں امریکہ نے تعاون کا جواب کبھی تعاون سے نہیں دیالیکن بھارت پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے دیگر ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے ثمرات نظرآنے لگے ہیں افغان قیادت کا مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ِ ملک جہاد کرنے والوں کومجاہد نہ کہنا پاکستان کودہشت گردی کے لگے زخموں پر نرم پھاہے سے کم نہیں یہ ٹی ٹی پی اور دیگر بُرے عناصر کی سرپرستی سے دستکش ہونے کا اِشارہ ہے پاکستان کے خلاف سرگرم درجنوں دہشت گردوں کی خوست، پکتیکا اور پکتیا جیسے صوبوں سے گرفتار یاںپاک افغان بہترتعلقات کی راہ ہموار ہو گی۔ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کی طرف سے اُن کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے جہاد کو فساد اور غیر قانونی قرار دینا ایک بڑی پیش رفت ہے المختصر پاک چین شراکت داری کے قلیل مدت میں اِتنے واضح نتائج ایک خوشحال اورپُرامن خطے کاپیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

ٹیگز: