Wed, September 16, 2026

کیا ترقی ہر افسر کا حق ہے؟

کیا ترقی ہر افسر کا حق ہے؟


ایک طویل عرصے تک سول سروس آف پاکستان کے دو بڑے گروپوں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے تمام افسر گریڈ سترہ میں بھرتی ہونے کے بعد گریڈ اکیس تک ترقی حاصل کرنے کو ٹیکن فار گرانٹڈ یعنی اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے، اے سی آرز، ٹریننگ، تابعداری، تعلق اور کچھ دوسرے روٹین معاملات اور آنکھیں بند کر کے یہ جا وہ جا، مگر اب کچھ عرصہ سے پاکستان کی ان دونوں بڑی اور ایلیٹ سروسز کے افسروں کو دیانتداری، اخلاقیات اور پیشہ وارانہ صلاحیت کے پل صراط پر سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے، عام لوگوں کو روز مرہ جائز کاموں پر بھی دفتروں کے بار بار چکر لگوانے اور دکھ دینے والوں کی اب اپنی تکلیف دہ آوازیں سننے کو مل رہی ہیں، حالیہ پرومو شن بورڈ میں گریڈ انیس میں ناکامی کا سامنا کرنے والے کچھ افسر اپنے آپ کو نیک، پارسا، ایماندار اور محنتی ثابت کے لیے وضاحتیں دیتے پائے گئے تو کچھ منت ترلا کرتے اور سیاسی و انتظامی سفارشیں بھی کراتے نظر آئے۔
عید سے قبل ہونے والے پی اے ایس اور پی ایس پی افسروں کے گریڈ اٹھارہ سے انیس میں ترقی کے بورڈ کی سفارشات پر بحث و تمحیص ابھی تک جاری ہے، میری معلومات کے مطابق بورڈ میں ایک اچھی بات یہ نظر آئی کہ تمام فیصلے متفقہ طور پر ہوئے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور چیف کمشنر اجلاس میں بقلم خود موجود تھے، ان میں سے کسی ایک نے بھی کسی ایک فیصلے کی مخالفت نہیں کی، ہاں کچھ ناموں پر لے دے ضرور ہوئی، جیسا کہ اجلاس میں بلوچستان کے چیف سیکرٹری نے اپنے صوبے میں کام کرنے والے تین میجر صاحب افسروں کی ترقی کے لیے زور دیا اور کہا کہ صوبے کے معروضی حالات میں انکی خدمات قابل قدر ہیں، انہیں ترقی ملنی چاہیے، اس پر اجلاس کا مو¿قف تھا کہ ان افسروں کو اچھی پوسٹنگ ملی ہوئی ہیں، یہ ان کی خدمات کا بہترین صلہ ہے، پنجاب کے دو افسروں کی ترقی کے لیے ان کے تمام معاملات مکمل درست نہ ہونے کے باوجود چیف سیکرٹری پنجاب نے انہیں ٹھیک اور ترقی کا اہل قرار دیا، جس پر انہیں واوچ فار رکھتے ہوئے ترقی دے دی گئی مگر بعض افسروں کی اہلیت اور دیانت پر بورڈ نے اعتراض کیا تو چیف سیکرٹری پنجاب نے اسے اپنے لیے ایک خبر قرار دیتے ہوئے زور نہ دیا۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس میں گریڈ 18 سے 19 میں ترقی ایک اہم مرحلہ ہے، جہاں اب افسر کی پیشہ ورانہ صلاحیت، کارکردگی، دیانت اور مجموعی سروس ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے گزشتہ دنوں بورڈ میں ایسا ہی کیا گیا، متعدد افسروں کو ترقی دی گئی، جن کو ترقی نہیں ملی، ان کی جانب سے سوالات اٹھنا فطری امر ہے، میں نے کوشش کی ہے ایک صحافی کے طور پر ترقی کے پورے نظام کو سمجھوں اور اپنے قارئین کے گوش گذار کروں، میری تحقیق کے مطابق گریڈ 18 سے 19 میں ترقی کے لیے جن عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے ان میں بنیادی چیز متعلقہ افسر کا سروس ریکارڈ ہوتا ہے، افسر کی سالانہ کارکردگی رپورٹس ترقی کے عمل میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتی ہیں، جن میں کارکردگی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، قیادت، دیانتداری، نظم و ضبط کا تفصیلی جائزہ شامل ہوتا ہے، اسی طرح سنیارٹی بھی ایک اہم عنصر ہوتا ہے، مگر یہ واحد معیار نہیں، سنیارٹی کم میرٹ یا فٹنس کے اصول کے تحت سنیارٹی کو اہمیت ضرور دی جاتی ہے مگر میرٹ یعنی کارکردگی اور قابلیت کو ترجیح حاصل رہتی ہے اسی طرح مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی تکمیل بھی ترقی کے لیے ضروری ہوتی ہے، ایک اہم بات ڈسپلنری ریکارڈ بھی ہے۔
اب آتے ہیں پروموشن بورڈ کی ساخت کی طرف گریڈ 18 سے 19 کی ترقی کے لیے عام طور پر ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی زیر صدارت ہوتا ہے، اس میں لا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نمائندے اور متعلقہ افسر کے صوبے کا چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی اہمیت رکھتے ہیں، اب یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا صوبائی چیف سیکرٹریوں اور آئی جیز کی رائے حتمی ہوتی ہے؟ فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟ میری معلومات کے مطابق تمام ارکان اپنی رائے دیتے ہیں، کیسز پر بحث ہوتی ہے پھر اکثریتی یا متفقہ رائے سے فیصلہ ہوتا ہے۔
اہلیت اور دیانت کا معیار کیسے چیک کیا جاتا ہے؟ اہلیت میں فیلڈ اور سیکرٹریٹ تجربہ، پالیسی سازی کی صلاحیت، بحران سے نمٹنے کی قابلیت، فیصلہ سازی میں خودمختاری دیکھی جاتی ہے، دیانت کے لیے کرپشن سے پاک ریکارڈ، ایمانداری کی شہرت اور انٹیلی جنس رپورٹس دیکھی جاتی ہیں، دیانت کے معاملے میں اکثر Benefit of doubt نہیں دیا جاتا ذرا سا شک بھی ترقی روک سکتا ہے اور اس مرتبہ یہی ہوا، جس کی وجہ سے اکثر افسر وقتی طور پر ترقی نہ پا سکے۔ ڈیفر اور سپر سیڈ کیا ہیں؟ ڈیفر، کسی افسر کی ترقی کو وقتی طور پر روک دینا ہوتا ہے جس کے لیے وجوہات میں انکوائری یا شکایت زیر التوا ہو، ریکارڈ نامکمل، کارکردگی میں تسلسل نہ ہو، بعد میں کلیئر ہونے پر اسے ترقی مل سکتی ہے۔ سپر سیڈ، کسی جونیئر کو ترقی دے دینا جبکہ سینئر کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے اسکی وجوہات، مسلسل کمزور کارکردگی، خراب سالانہ رپورٹس، دیانت پر سوالات، پیشہ ورانہ نااہلی، یہ ایک سنجیدہ فیصلہ ہوتا ہے اور افسر کے کیریئر پر گہرا اثر ڈالتا ہے، ڈیفر اور سپر سیڈڈ کی مثال ایسے ہے کہ ایک افسر صرف گرا ہوا پھل اٹھا کر کھا لیتا ہے جبکہ دوسرا افسر پھل توڑ کر کھاتا ہے۔
اب یہاں پر ایک سوال یہ بھی اٹھا کہ اگر گریڈ اٹھارہ سے انیس کے درمیان ایک افسر چار اضلاع کا ڈپٹی کمشنر رہتا ہے کئی دوسرے بھی اہم اضلاع میں ڈپٹی کمشنر یا کئی کلیدی پوسٹوں پر تعینات رہتے ہیں تو کیا وہ اتنے اہل بھی نہ تھے کہ اگلے گریڈ میں ترقی پاتے اور اگر وہ مختلف الزامات کی زد میں رہے اور پھر بھی اہم پوسٹیں حاصل کرتے رہے تو کیا کسی نے انہیں پوچھا تک ہی نہ تھا؟ اسی طرح بڑے بڑے پراجیکٹس اور فارن فنڈنگ پروگرامز پر جن افسروں کو لگایا جاتا ہے، انکی کریڈیبیلیٹی اتنی خراب تھی کہ وہ ترقی کے مروجہ معیار پر ہی پورا نہیں اترے؟ محسوس ہوتا ہے کہ ایسے افسروں کی بھی حیثیت کا اندازہ صرف سلیکشن بورڈ میں ہی لگا، اس سے پہلے یہ سب اے ون رپورٹس کی بنیادوں پر حاصل کر تے رہے ہیں یہاں کسی افسر کا نام نہیں لکھنا چاہتا مگر کچھ تو ہے جس کی پرداہ داری ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ترقی حق نہیں بلکہ اہلیت اور کارکردگی کا نتیجہ ہے اور اگر ہر کسی کو ترقی دے دی جائے تو نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے، اصل چیلنج یہ ہے کہ میرٹ بھی برقرار رہے اور کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہو، یہی وہ باریک لکیر ہے جس پر چل کر ایک مضبوط، مو¿ثر اور قابل اعتماد بیوروکریسی تشکیل دی جا سکتی ہے، آخر میں اہم خبر، حالیہ بورڈ میں پنجاب سمیت تمام صوبوں کے گریڈ انیس میں ترقی پانے اور نہ پانے والے تمام افسروں کی خدمات متعلقہ صوبوں کے پاس ہی رہیں گی جبکہ اپریل کے آخری ہفتہ میں گریڈ اکیس سے بائیس میں ترقی کا ہائی پاور بورڈ بھی منعقد ہو رہا ہے۔

ٹیگز: