اسلام آباد: پہلگام واقعے کے بعد ’’را‘‘ کی خفیہ دستاویزات لیک ہونے کے نتیجے میں بھارتی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس رانا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہیں اندمان و نکوبار بھیج دیا گیا، جو بھارت کا ایک انتہائی کٹھن اور تنہائی میں واقع فوجی اسٹیشن ہے، جہاں بیماریوں اور ناقص سہولتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟ حکومت کے مطابق، ’’را‘‘ کی لیکڈ دستاویزات جنرل رانا کے دفتر سے میڈیا تک پہنچیں، جس کے بعد بھارتی حکام نے ان کے فوری طور پر تبادلے کا فیصلہ کیا۔ ان لیکڈ فائلز میں ’’را‘‘ کے عالمی سطح پر مذاق بننے کی تفصیلات سامنے آئیں، اور پہلگام آپریشن کی صداقت پر سوالات اُٹھے۔ ان دستاویزات نے اعلیٰ سطحی فوجی اور سیکیورٹی آپریشنز کی حقیقت کو بے نقاب کیا، جس میں بھارتی اداروں کا کردار واضح طور پر دکھایا گیا۔
یاد رہے کہ یہ دستاویزات ٹی آر ایف (تحریک آزادی کشمیر) نے حاصل کیں اور دنیا بھر کو دکھائیں، جس سے بھارت کی حکومت کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل رانا کا تبادلہ ایک واضح پیغام ہے، جو بھارتی قیادت کی جانب سے ان کے ’ناکامی‘ اور ’بدنامی‘ کے حوالے سے ذہنی دباؤ کا باعث بنے گا۔