Wed, September 16, 2026

عوام کے مسائل میں سنگینی

عوام کے مسائل میں سنگینی

قوم میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، بد اخلاقی اور بدتمیزی ہمارے معاشرے کا ایک سنگین اور تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔ کبھی یہ اوصاف انفرادی کمزوری سمجھے جاتے تھے، مگر آج یہ اجتماعی رویے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بازار ہو یا دفتر، تعلیمی ادارہ ہو یا سوشل میڈیا، سیاسی جلسہ ہو یا گھریلو محفل ہر جگہ گفتگو کا معیار گرتا جا رہا ہے اور برداشت کا دامن سکڑتا دکھائی دیتا ہے۔ سب سے پہلی وجہ اخلاقی تربیت کا فقدان ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے بولنا، سننا اور برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔ جب والدین خود غصہ، تلخی اور عدم برداشت کا مظاہرہ کریں تو نئی نسل انہی رویوں کو اپناتی ہے۔ پہلے بزرگوں کی مجلس میں گفتگو کا ایک سلیقہ ہوتا تھا، اختلاف بھی احترام کے ساتھ کیا جاتا تھا، مگر اب خاندانوں میں بھی برداشت کم اور انا زیادہ ہو گئی ہے۔ دوسری بڑی وجہ تعلیمی نظام کی خامی ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری اور ملازمت رہ گیا ہے۔ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور برداشت جیسے مضامین نصاب میں تو موجود ہیں مگر عملی زندگی میں ان کا عکس کم نظر آتا ہے۔ اگر ہم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی یا دیگر جامعات کے کردار پر نظر ڈالیں تو فاصلاتی اور رسمی تعلیم نے شرحِ خواندگی تو بڑھائی، مگر سماجی برداشت میں وہ اضافہ نہ ہو سکا جس کی توقع تھی۔ تعلیم اگر صرف معلومات دے اور کردار نہ بنائے تو معاشرہ تہذیب سے خالی ہو جاتا ہے۔ تیسری وجہ سیاسی ماحول ہے۔ سیاسی قیادت قوم کے لیے نمونہ ہوتی ہے۔ جب سیاسی رہنما ایک دوسرے پر ذاتی حملے کریں، زبان میں شائستگی نہ ہو اور اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے تو عوام بھی وہی اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عمران خان اور ان کے مخالفین کے مابین سخت بیانات نے سیاسی کارکنوں میں بھی تلخی کو بڑھایا۔ سیاسی تقسیم نے خاندانی اور سماجی تعلقات تک کو متاثر کیا ہے، اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا مشکل تر ہو گیا ہے۔ چوتھی وجہ سوشل میڈیا کا بے مہار استعمال ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے اظہار کی آزادی تو دی، مگر اخلاقی ذمہ داری کا احساس کمزور پڑ گیا۔ گمنامی کے پردے میں لوگ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو وہ حقیقی زندگی میں کبھی نہ کریں۔ جھوٹی خبریں، کردار کشی اور طنز و تضحیک عام ہو چکی ہے۔ نتیجتاً معاشرہ ذہنی طور پر مشتعل اور جذباتی بن گیا ہے۔ پانچویں وجہ معاشی دباو¿ اور بے یقینی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام نے لوگوں کو ذہنی دباو¿ کا شکار کر دیا ہے۔ جب فرد مسلسل پریشانی میں ہو تو اس کی برداشت کم ہو جاتی ہے۔ وہ معمولی بات پر بھی بھڑک اٹھتا ہے۔ معاشی مسائل نے گھریلو جھگڑوں، سڑکوں پر لڑائی جھگڑوں اور سماجی تناو¿ کو بڑھا دیا ہے۔
چھٹی وجہ مذہبی اور مسلکی انتہاپسندی ہے۔ دین اسلام امن، برداشت اور حسنِ اخلاق کا درس دیتا ہے، مگر جب مذہب کو تعصب کے ساتھ پیش کیا جائے تو معاشرہ تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے کفر یا غداری سے تعبیر کیا جانے لگتا ہے۔ اس رویے نے مکالمے کی روایت کو کمزور کیا ہے۔ میڈیا بھی اس صورت حال میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں چیخ و پکار، ایک دوسرے کی بات کاٹنا اور سنجیدہ مباحثے کے بجائے سنسنی خیزی کو فروغ دینا عام ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل انہی پروگراموں کو دیکھ کر سیکھتی ہے کہ بلند آواز ہونا ہی حق پر ہونا ہے۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں معاشرے میں بدتمیزی کو جرا¿ت اور بد اخلاقی کو صاف گوئی سمجھا جانے لگا ہے۔ حالانکہ تہذیب اور شائستگی کمزوری نہیں بلکہ مضبوط شخصیت کی علامت ہیں۔ ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے چند عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اول، گھروں میں اخلاقی تربیت پر توجہ دی جائے۔ والدین خود برداشت اور احترام کا عملی نمونہ بنیں۔ دوم، تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور مکالمے کی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔ سوم، سیاسی قیادت اپنی زبان اور رویے میں شائستگی اختیار کرے۔ چہارم، سوشل میڈیا کے استعمال میں اخلاقی ذمہ داری اور قانونی شعور کو فروغ دیا جائے۔ پنجم، مذہبی رہنما اعتدال اور رواداری کا پیغام عام کریں۔
قومیں صرف معیشت سے نہیں، کردار سے بھی بنتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی زبان، لہجے اور رویوں کو درست نہ کیا تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ برداشت، حلم اور حسنِ اخلاق ہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کےلئے ایسا ماحول بنانا ہو گا جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور گفتگو بدتمیزی میں نہ ڈھلے۔ یہی ایک مہذب اورباوقار قوم کی پہچان ہے۔

ٹیگز: