ملک میں دو کروڑ عوام خط غربت کی لکیر سے نیچے آگئے اس کے باوجود ہم عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے دعوے کر رہے ہیں حکمران اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن اصل میں یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں تجارتی خسارہ اگر کم ہو گیا ہے تو پھر عوام کودو وقت کی روٹی کے لالے کیوں پڑے ہیں اگر ملک میں سرمایہ کاری ہے تو بتائیں آج بے روزگاری کیوں ہے اگربھوک غربت افلاس میانی صاحب میں دفن ہو گئی ہے تو پھر شہری بچے بیچنے پر مجبور کیوں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کی معاشی حالت بگڑ رہی ہے، مہنگائی میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ سرکار اور سرکار کے چمچے کھڑچے جی حضوری میں لگے ہیں اگرسب اچھا ہے تو چینی کے نرخ کیوں آسمان سے باتیں کر رہے ہیں دالیں اور گھی کیوں سستے نہیں مل رہے زرعی ملک ہونے کے باوجود آٹا مہنگا کیوں مل رہا ہے اگرمہنگائی بے روز گاری ختم ہو گئی ہے تو پھرہر چوراہے پربھیک مانگتے بچے بچیاں کیوں نظر آتے ہیں چلیں یہ بھی کہہ لیں کہ یہ پیشہ ور ہیں تو پھر گداگری ختم کرنے کے دعوے کر کے کیوں جھوٹ بول کر خداکی لعنت اپنے ’’پلے‘‘باندھ رہے ہیں بتایا جائے سب اچھا ہے تو پھر جس ٹی وی چینل کو دیکھیں، اخبار پڑھیں تو مسائل کا حل نہیں ملتا؟ عوام آج بھی اپنی بے بسی پرنوحہ کناں ہیں انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے کدھر جائے کیونکہ زخموں پر مرہم رکھنے والا دور دور تک کوئی
نظر نہیں آ رہا ایسی صورت میں عوام دونوں کیلئے مثبت تبدیلی کے امکانات کہیں نظر نہیں آ رہے کیونکہ حکومتی خوشامدیوں نے سرکار کوہر طرف سے گھیر رکھا ہے اور اس سے ملک اور عوام کو نقصان ہوتا ہے پرچی کی طاقت سے برسراقتدار آنیوالی حکومتیں عوامی سمجھی جاتی تھیں لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے جو بھی پارلیمنٹ میں گیا وہ اپنے مفادات کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے لگا اور حلقے کے عوام کو بھول گیا عوام کے مسائل اور پریشانیوں کا حل تلاش کرنے کی بجائے مسائل میں اضافہ کیاجانے لگا،اسی لئے پریشانیاں بڑھ رہی ہیں معیشت کے میدان میں غلط پالیسیاں تشکیل دینے سے تباہی در تباہی عیاں ہونے لگی دوسری جانب عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جاتارہا ہے،اس صورتحال کا فائدہ نجی شعبہ بھی اٹھاتا چلا آ رہا ہے ،آج ہماری حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے معاشی ماہرین سے مدد لینے کی کوشش کرتی ہے جو عوام کیلئے دیر پا نہیں ہوتی الٹا آئی ایم ایف کا شکنجہ قرضوں کی صورت میں اور ٹائٹ ہوتا چلا جاتا ہے آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عمل درآمد کرنے سے ملکی معیشت ہچکولے لے رہی ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستے ہی چلے جا رہے ہیں ارباب اقتدار نے جمہوریت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رکھا ہے ادھر ملکی مسائل میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، آج بھی عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں دن بہ دن عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات وقت کا اہم تقاضا ہیں جس پر کوئی حکومت توجہ نہیں دیتی بجلی، گیس کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں، عوام پر نئے ٹیکس لگانے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں جس ملک میں نااہل حکمران مسلط ہوں توملک کیسے ترقی کرسکتا ہے اور عوام کو کیسے سکون مل سکتا ہے،عوامی مسائل میں پناہ اضافہ، حکمران صرف طفل تسلیاں ہی دے رہے ہیں،ڈنگ ٹپاؤ اقدامات کی بدولت عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے آج حکمران عوام کے لیے موت کا فرشتہ بن چکے ، سرکار نے سابق حکمرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، دوسری طرف پیرافورس کے نام پر ایک نیا عذاب عوام پر مسلط کر دیا گیا جو تجاوزات کے نام پر روزگار چھین رہا ہے جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جہاں سے تجاوزات کے نام پر ریڑھیاں یا دیگر سامان اٹھایا گیا وہاں پر سرکار نے اپنی برائون کلر کی ریڑھیاں لگوا دیں ہیں۔ کیا اب تجاوزات ختم ہو گئی ہے؟ سوال یہ ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ اچھائی کا راستہ چھوڑ کر جرائم کا راستہ اختیار کریں کیونکہ جس گھر میں کھانے کو نہیں ہو گا اور بلکتے بچے کوئی نہیں دیکھ سکتا پھر ایسے شخص کے لئے سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔ قوم کو آتے جاتے حکمرانوں سے بھی کوئی امید باقی نہ رہی، حکومتی اقدامات اخباری اشتہارات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں،حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہیں،یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کی کسی کوئی پروا نہیں اگریہی صورتحال رہی تو عوام کا لاوا پھٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا؟۔